01/05/2023
_مہرِمحبت_
(ایم ایچ ساحل)
قسط نمبر 07
مڈز شروع ہںونے والے تھے ان سے پہلے ان کی کلاس ایک Get together رکھنا چاہ رہی تھی اور اس میں عمیزہ نے اپنا اور ادعیہ کا نام بھی لکھوا دیا تھا یہ جانتے ہںوئے بھی کہ ان دونوں کے درمیان کلاس کی کسی بھی پارٹی کو جوائن نہ کرنے کا خاموش وعدہ ہںو چکا تھا کیونکہ عمیزہ پچھلے تینوں سمسڑز میں ہںونے والے فنکشنز جن میں Well come perty, Anaual dinner میں بھی شامل تھیں نہیں گئ تھی اور نہ ہی ادعیہ کو جانے دیا تھا
لیکن اس کے باوجود جوں ہی سٹیج پر آ کر عبداللہ نے کلاس Get together کا کہا تھا اور ان سے پوچھا تھا کہ کیا آپ جوائن کریں گی
”جی بالکل ان شاللہ“
یہ الفاظ اس کے منہ سے کیسے نکلے تھے یہ وہ بھی نہیں جانتی تھی ان دونوں کا نام نوٹ کر لیا گیا تھا
”یہ کیا“ ؟
ادعیہ جو اب اسے حیرانی سے تک رہی تھی بے ساختہ سوالیہ الفاظ اس کے منہ سے نکلے تھے
دوسری طرف عمیزہ ایسے مگن تھی جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہ ہںو
وہ خود نہیں جانتی تھی اس نے کیوں اور کیسے حامی بھر لی تھی کیا وہ واقعہ ہی جانے والی تھی ؟
کلاس ساری فنکشن کی ڈسکشن میں مصروف تھی جب کہ فرنٹ پہ وہ دونوں بیٹھی ابھی تک حیران تھیں اور دونوں کے ذہن میں ایک ہی بات تھی کہ وہ کیوں مانی......!
---------&&&&---------
اس ویک اینڈ پہ عبداللہ پھر گھر آ گیا تھا کیونکہ اس نے آکاش کو اس کے پاس آٶٹ ہونے پر سب سے بڑی خوشی دینی تھی
"جی امی میں نے آپ کو بولا تھا آپ اس بات کو آگے بڑھائیں آنٹی سے بھی آپ کو خود ہی بات کرنی ہںو گی اور عمیزہ کی امی سے بھی!!!!!"
عبداللہ ایک جوش میں بولے جا رہا تھا جبکہ مسز احمد اسے حیرانی سے تک رہی تھیں کیونکہ اس کی آنکھیں اس کے لفظوں کا ساتھ نہیں دے رہی تھیں
اور وہ ماں تھیں وہ سب کچھ سمجھ سکتی تھیں
وہ تو میں کروں گی ہی لیکن ایک بات بتاٶ
مسز احمد نے رک کر اس کی آنکھوں میں جھانک کر پوچھا تھا
"جی امی پوچھیں !"
نظریں چرا کر جواب دیا گیا تھا
"بیٹا میری طرف دیکھو اور بتاٶ کیا تم دونوں واقعی سریئس ہںو اپنے اپنے فیصلوں پر "
مسز احمد نے "تم دونوں" اور "اپنے اپنے" پہ زور دیتے ہںوئے اس کی آنکھوں میں جھانک کر پوچھا تھا
"جی امی جان آکاش نے مجھ پہ اعتماد کرتے ہںوئے مجھے یہ ذمہ داری سونپی ہے اور میں اسے ہر قیمت پہ پورا کرنا چاہںوں گا "
مسز احمد کو چند لمحے لگے تھے بات کی تہہ تک پہچنے میں
اور یہ تو وہ جانتی تھیں عمیزہ بچی ہی ایسی ہے کہ کوئی بھی اسے پسند کر سکتا لیکن بیٹے کی قربانی پر ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے
اور یہ رشتہ جس کی بنیاد اتنی بڑی قربانی اور آنسوٶں سے رکھی جا رہی تھی اس میں برکت کے لیے اردگرد کی ہر شے دعاگو لگ رہی تھی
یہ آکاش کی خوش نصیبی تھی یا عمیزہ کی معصومیت لیکن جو بھی تھا سب پرفیکٹ جا رہا تھا
_________&&&&&&&&&_________
عمیزہ آج شام کو عبداللہ کی امی آ رہی ہیں اچھے سے تیار ہںو جانا
یہ سنتے ہی اس کا دل عجیب طرح سے دھڑکا تھا پہلی بار تھا کہ ماما نے یوں بولا تھا کیوں کہ دو تین دن سے وہ محسوس کر رہی تھی کہ ماما اس کو دیکھ رہی ہیں کئی بار اس نے محسوس کیا کہ ماما اسے عجیب طرح نم سی آنکھوں سے دیکھ رہی ہیں مگر وہ اگنور کر گئ تھی
_____&&&&&______
آکاش کی امی بہت خوش تھیں اور مسز احمد کے ساتھ کے ساتھ اس خوبصورت حور کو دیکھنے آ رہی تھیں جس کو ان کے ہیرے نے پسند کیا تھا کیونکہ انہیں اپنے بیٹے پر مان تھا اور انہوں بخوشی بات سنی تھی مسز احمد کی اور اب وہ اس کو ملنے فیصل آباد آ رہی تھیں جس نے ان کے آنگن کو روشن کرنا تھا جی ہاں ان کو بیٹی مل گئ تھی (عمیزہ کے روپ میں )یہ ان کا دل اس خوبصورت سبز آنکھوں والی سے ملنے سے پہلے ہی کہہ رہا تھا
__________&&&&&&________
مہمان شام کو پہنچے تھے احمد صاحب دونوں خواتین کو ان کے گھر ڈراپ کر کے واپس چلے گئے تھے وہ وہاں بیٹھی دونوں عمیزہ پر صدقے واری جا رہی تھیں
مسز احمد نے مسز انس کے کان میں بات پہلے سے ہی ڈال دی تھی لہذا وہ خاموش تھی اور نم آنکھوں اور مسکراتے چہرے سے آکاش کی والدہ کو عمیزہ پر صدقے واری ہںوتے دیکھ رہی تھی
ماما یہ کون ہیں اور مجھے کیسے جانتی!
ایک سوال جو کب سے عمیزہ کے دماغ میں گھوم رہا تھا کہ یہ کیسے ہںو سکتا کہ جن کو آج تک دیکھا نہیں یوں آ کر اسے پیار کرنے لگ جائے
"بیٹا یہ مسز احمد کی دوست ہیں اور تمہارے بچپن میں ہمارے گھر آتی جاتی تھیں "
مسز احمد نے اسے وقتی طور پر مطمئن کر دیا تھا لیکن کچھ نیا احساس اس کے دل میں بھی آ رہا تھا
_________&&&&&______
مسز ندیم نے آنے سے پہلے ساری بات ندیم کو بتا دی تھی وہ بھی خوش تھے انہوں نے آکاش کی امی کو مکمل طور پہ حق دے دیا تھا لیکن بیٹے کی پسند کو ترجیح دینے کو بھی بولا تھا
یہاں آنے پر تو مسز ندیم سے بالکل صبر نہیں ہںو رہا تھا ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس کو اس وقت ابھی دلہن بنا کے اپنے ساتھ لے جائیں.......
جذبات ایک طرف انھوں نے مسز انس سے بات کی تھی انہوں نے عمیزہ کی خوشی میں اپنی خوشی کا عندیہ دے دیا تھا لیکن انہوں نے بظاہر ایسی کوئی بات بھی نہیں کی تھی مسز ندیم نے ندیم صاحب کو بلا بھیجا تھا کیونکہ وہ فوراً اس کے والدین سے اس کا ہاتھ مانگنا چاہ رہے تھے
_______&&&&&_______
سب کچھ آناًفاناًہی ہںوتا گیا تھا اور وہ شام بھی ڈھل چکی تھی جس کی دور PMA میں موجود آکاش کے لیے بہت زیادہ اہمیت تھی
مہمان واپس جا چکے تھے اور عمیزہ کی امی اس کے کمرے میں آئی تھیں وہ ”یارم“پڑھ تھی کہ اٹھ کر بیٹھ گئ .....
"بیٹا !بیٹیاں ماں باپ کے گھر مہمان ہںوتی ہیں"
ماما نے بات شروع کی تھی
اس کا ماتھا ٹھٹکا ضرور تھا مگر وہ اچھی بچی بنی سنتی رہی تھی
ماما نے لمبی تمہید باندھی تھی اور بلآخر اصل بات اس کے سامنے رکھ دی تھی
"بیٹا تمہاری آنٹی کے جاننے والے ہیں لڑکا آرمی میں سیکنڈ لفٹینٹ بن کر پاس آٶٹ ہںونے والا ہے وہ سیدھا نکاح کرنا چاہتے ہیں"
ماما نے ایک دم ہی اتنی بڑی بات اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہہ دی تھی
عمیزہ نے ماں کی گود میں سر رکھ کر رونا شروع کر دیا تھا...........
اس کی ہچکیاں اس کی الماری میں رکھی لال دوپٹہ لیے ننھی گڑیا بھی محسوس کر رہی تھی اور گود میں لیے دنیا کا سب سے مخلص رشتہ "ماں" بھی۔۔۔۔۔ دونوں کے جذبات مختلف نہ تھے لیکن تیسرا جذبہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
"کیا آکاش کو ابھی اور انتظار کرنا تھا"
(جاری ہے)