مہرِ محبت Mehar e Muhabbat

مہرِ محبت Mehar e Muhabbat اردو ناول از قلم ایم ایچ ساحل

𝐀𝐥𝐥𝐡𝐮𝐦𝐝𝐮𝐥𝐥𝐢𝐥𝐥𝐚𝐡🎉Just Beginning...........................18/02/24
21/02/2024

𝐀𝐥𝐥𝐡𝐮𝐦𝐝𝐮𝐥𝐥𝐢𝐥𝐥𝐚𝐡🎉
Just Beginning...........................
18/02/24

*مہرِمحبت*(قسط نمبر 09)مبارک باد دینے جانا چاہیے ہمیں عمیزہ کے سسرال" مسز انس رات کے کھانے پر انس صاحب سے بات کر رہیں تھ...
22/09/2023

*مہرِمحبت*
(قسط نمبر 09)
مبارک باد دینے جانا چاہیے ہمیں عمیزہ کے سسرال" مسز انس رات کے کھانے پر انس صاحب سے بات کر رہیں تھیں جب کہ عمیزہ کے کان سرخ ہو گئے تھے ۔ اس کے چہرے کی سرخی نے مسز انس کے چہرے پر عجیب اطمینان اور خوشی کی لہر دوڑا دی تھی ۔شادی والی بات پر یوں رونے پر وہ کافی پریشان ہو گئیں تھیں لیکن اس کا یوں اس چیز کو قبول کرنا اور شرمانا اس کے دل میں نئے جذبوں اور امنگوں کے قیام کی عکاسی کر رہا تھا جو کہ بہت خوش آئند تھا۔
&&&&&&&&
ہاں جی! ہو جاؤ پھر تیار جس کے لیے ٹھہرے ہو ، ہمارا تو بس بہانا ہی ہے ۔ جوں ہی آکاش نماز ادا کر کے روم میں داخل ہوا عبد اللہ کی آواز اس کے کانوں میں گونجی تھی ۔ جس پر وہ چھ فٹ 3 انچ کا خوبرو جوان شرما سا گیا تھا۔
&&&&&&&&
لیکن حقیقت یہی تھی وہ اس کے لیے ہی ٹھہراتھا۔ وہ اپنی کامیابی کے لیے بطور انعام اس کا دیدار چاہ رہا تھا۔ جو کسی پاکیزہ ہستی کی طرح پر نور محبت کے پاکیزہ جذبوں کی عکاسی کرتی پچھلے دو سال سے اس کے خوابوں میں رہ رہی تھی۔
-&&&&&&&&&&-

اور اب تو وہ خواب حقیقت بھی بننے والے تھے ۔ جی ہاں

اس کی محبت جیت چکی تھی کیونکہ اب وہ اس کو پانے والا تھا ۔

"Be quick soldier"

8 بجے کلاس میں پہنچنا ہے" عبد اللہ کی آواز اسے خوابوں کی دنیا سے واپس لے آئی تھی اور وہ نا
ٹاول لیتا واش روم جا چکا تھا ۔
-&&&&&&&-
ڈیپارٹمنٹ کوریڈور خالی پڑے تھے ۔ مارننگ کلاسز کی پہلی کلاس میں کم سٹوڈنٹس ہی آتے ہیں ۔ تازہ تازہ صفائی کی گئی تھی ۔ چند کلاسز میں اکا دکا سٹوڈنٹس بیٹھے نوٹس وغیرہ دیکھ رہے تھے یا کسی نئی دیکھی گئی مووی پر بحث جاری تھی۔ چونکہ لٹریچر ڈیپارٹمنٹ تھا تو اس لیے یہاں زیادہ تر چھوٹی عمروں اور بڑے ذہنوں کے لوگ پائے جانے کی وجہ سے زیادہ ہلا گلا نہیں ہوتا ۔ جب کہ صبح کے اس وقت تو مقدس اور پاکیزه سی خاموشی طاری تھی جو کسی بھی درس گاہ کا خاصہ ہوتی ہے ۔
-&&&&&&-
Light blue
گاؤن اور White سٹالر کے ساتھ سنیکرز شوز پہنے ننھا سا بیگ کندھے پے لٹکاۓ اٹھے سر اور جھکی نظروں کے ساتھ کسی اپسرا کی طرح ڈیپارٹمنٹ میں داخل ہوئی تھی۔
-&&&&&&&-
معمول کے دن کی امیدیں لگائے دل ہی دل میں ادعیہ سے ڈھیروں باتوں کے پلانز بناتے اس نے فرسٹ فلور کی سیڑھیوں پر قدم رکھے تھے اور وقار سے آگے کی جانب بڑھتی گئی ۔
-&&&&&&-
"روز اس وقت ہی آتے ہو یا میری وجہ سے قربانی دی جارہی ہے ۔ "
یونیورسٹی میں چھایا سناٹا دیکھ کر آکاش عبد اللہ سے پوچھے بغیر نہیں رہ پایا تھا کیونکہ صبح کے اس وقت بہت کم لوگ یونیورسٹی میں نظر آ رہے تھے ۔
" تو تجھے کیا لگتا ہے صرف فوجی ہی وقت کے پابند ہوتے ہیں"
ایک نظر گھڑی کو دیکھ کر روش پے نظر میں جائے کچھ سوچتے کھوجتے عبداللہ نے آکاش کے سوال پر

Counter Question
کیاتھا "
" تو کیا تمہارے ڈیپارٹمنٹ والے بھی ٹائم پر آتے ہیں"
وہ انسان ہے اس سے پوچھ رہا تھا جو اس کے لہجے کو سالوں سے پہچانتا تھا۔
"جی جی آجائے گی وہ امید رکھ "
تاک کر نشانہ مارا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
عبداللہ نے چلتے چلتے مسکراتے ہوئے جواب دیا تھا ۔ اس کے الفاظ آکاش کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنے کے لیے کافی تھے ۔ وہ گیٹ پر ایک ہی کلاس کے فیلوز بن کے داخل ہوئے تھے ۔ دونوں فیلوز ہی تو تھے بس ایک جیت گیا تھا یا شاید دوسرا جیت گیا تھا۔ کون جیتا تھا یہ فیصلہ وقت کرنے والا تھا ۔ اور وقت کے فیصلوں کو کوئی جھٹلا نہیں پاتا ۔ سیڑھیاں چڑھتے ہی آخری زینے پر جوں ہی آکاش نے قدم رکھے تھے ۔ اسے ایک شبیہہ سی نظر آئی تھی ۔ کوریڈور سے لیفٹ سائیڈ پر ایک لڑکی مڑی تھی ۔ آٹھ نو مہینے ہو چکے تھے اس کو دیکھے ہوئے ۔ لیکن وہ اس کی شبیہ کو لاکھوں میں پہچان سکتا تھا ۔ کیونکہ اس کی وہ چند لمحوں کی جھلک نے اس کی دھڑکن بڑھا دی تھی ۔ وہ جان چکا تھا دشمن جان یہیں اسی ڈیپارٹمنٹ میں آچکی تھی ۔ اور وہ تھم گیا تھا ۔۔۔۔
چند۔۔۔۔۔۔۔۔
چند لمحوں میں اس نے فیصلہ کیاتھا اور اب وہ اپنے فیصلے پر عمل کرنے والا تھا ۔

چلتے قدم رک چکے تھے ۔ آگے جاتے عبداللہ کو ایکدم احساس ہوا کہ اس کا ہمقدم کہیں پیچھے رک گیا تھا ۔ یکدم رکا تھا وہ۔ رک کے اس نے پیچھے مڑ کے دیکھا تو وہاں کوئی اور ہی آکاش کھڑا تھا ۔
" آو یار میم نہ آگئی ہو "

عبد اللہ نے اسے آواز دی تھی
" تم جاؤ کلاسز لو میں گھر جا رہا ہوں " آکاش نےاسے کھینچ کے گلے لگا کر کہا تھا ۔۔۔۔۔۔
وہ جا بھی چکا تھا۔
اس کے یوں بدلتے تیور
ا چانک فیصلے سے عبداللہ وہی حیران کھڑے کا کھڑا رہ گیا تھا وہ اس کے پیچھے بھی نہ جا پایا تھا
۔ کیونکہ اب جانے والا جا چکا تھا ۔
دوسری طرف آکاش سیڑھیوں کی طرف یوں لپکا جیسے انگلش لٹریچر ڈیپارٹمنٹ میں کرنٹ آ چکا تھا اور آکاش سیڑھیوں کی طرف یوں اپکا جیسے انگلش لٹریچر ڈیپارٹمنٹ میں کرنٹ آنے والا ہو اگر وہ وہاں ایک پل بھی اور رکا تو وہ اس کی زد میں آجائے گا۔ ادھر ادھر سے بے خبر آکاش سیڑھیاں اتر کے جا چکا تھا۔ مگر اسی وقت ڈیپارٹمنٹ میں انٹر ہوتی ادعیہ حیران کھڑے عبداللہ اور آناً فاناً جاتے آکاش کو دیکھ چکی تھی
(جاری ہے)

آنے والا ہو اگر وہ وہاں سے نہ بھاگا تو اس کی زد میں آجائے گا۔ ادھر ادھر سے بے خبر آکاش سیڑھیاں اتر کے جا چکا ت۔ مگر اسی وقت ڈیپارٹمنٹ میں انٹر ہوتی ادعیہ حیران کھڑے عبداللہ اور آناً فاناً جاتے آکاش کو دیکھ چکی تھی۔ (جاری ہے)

*مہرِ محبت*(قسط نمبر 08)"! السلام علیکم"آکاش کی پاسنگ آؤٹ پریڈ تھی اور سب کو دعوت نامے وصول ہو چکے تھے لیکن ان دنوں وہ خ...
29/07/2023

*مہرِ محبت*
(قسط نمبر 08)

"! السلام علیکم"
آکاش کی پاسنگ آؤٹ پریڈ تھی اور سب کو دعوت نامے وصول ہو چکے تھے لیکن ان دنوں وہ خود عجیب سی کشمکش میں تھا وہ جاننا چاہ رہا تھا کہ وہ جو محبت کی آگ لگا کر آیا تھا وہ کہاں پہنچی تھی اس نے عبد اللہ کو کال کی جو عبد اللہ نے اٹینڈ کی تھی تو اس کی آواز ائیر پیس میں گونج اٹھی "وعلیکم السلام " اس کی آواز میں کچھ نہیں، بہت کچھ تھا جو محسوس بھی کر لیا گیا تھا
کیونکہ یہ جو محبت ہوتی ہے نا اگر ہو جائے پھر وہ یکطرفہ ہی کیوں نہ ہو مضبوط سے مضبوط انسان کے لہجے کی سختی ختم کرنے کا ہنر رکھتی ہے اور یہ تو آگ بھی نئی نئی تھی اس کی آواز میں سوال تھے..
التجا تھی..

مل جانے کی امید تھی ۔

کھو جانے کا خوف بھی تھا۔۔۔۔۔۔

انشا اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا "

عبد اللہ کی آواز میں جواب بھی بھی تھا..

اور انکار بھی۔

آکاش نہ جانے نہیں سمجھا تھا یا سمجھنا وہ چاہ نہیں رہا تھا ۔۔۔
عبداللہ نے جیسے ہی اسے سب کچھ بتایا آکاش کے چہرے پر دھیمی سی مسکراہٹ پھیلتی گئی تھی
وہ اس کی امید اور اندازے سے بڑھ کے معصوم نکلی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرے دن وہ یونیورسٹی تو گئی تھی مگر وہ کوئی اور ہی عمیزہ تھی ،
خاموش سی
مرجھائی ہوئی
کملائ ہوئ

وہ جو کھلکھلاتی کلی تھی آج مرجھائی ہوئی تھی اور اس چیز کو پوری کلاس نے observe کیسا تھا ۔ لیکچر شروع ہو چکا اور وہ اب تک ویسے ہی بیٹھی تھی۔ ادعیہ سے اس کی خاموش صورت دیکھی نہیں جارہی تھی۔ لیکچر کے دوران ہی وہ حیران کن نظروں سے اس اداس بلبل کو دیکھ رہی تھی۔ اسے اب بس یہ جاننا تھا کہ ہوا کیا ہے آخر!!!!!!!!!!
لیکن !!!!!!
وہ نہ جانے کن خیالوں میں گم تھی۔
جبکہ دوسری طرف ادعیہ کو پوری یونیورسٹی ہی چپ چپ لگ رہی تھی ۔ وہ تھی ہی ایسی زندگیوں میں بسنے والی آج وہ چپ تھی تو گویا کوئی طلاطم تھم سا گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آکاش اس کی طرف سے اس طرح کا ری ایکشن Expect کر رہا تھا۔ اس نے منع کر دیا تھا کہ اس پر کوئی بھی پریشر نہ ڈالا جائے۔ "ماما ان کو بس اتنا بتا دیں ابھی میں صرف نکاح کرنا چاہتا ہوں اور کوئی جلدی نہیں "شرماتے ہوئے اس نے یہ بات ماما سے کہی تھی اور جب یہ بات انس صاحب کی فیملی تک پہنچی تو انھوں نے اس کو بہت سراہا تھا۔ کیونکہ منگنی وغیرہ کا ویسے بھی شریعت میں کوئی کانسیپٹ ہی نہیں۔ جب کہ شادی تو وہ بھی اتنی جلدی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ لیکن یہاں بات ان سب کے چاہنے یا نا چاہنے کی نہیں بلکہ اس پری وش کے چاہنے کی تھی جس کی معصومیت نے ایک فوجی کو زیر کر دیا تھا................
وہ خاموش سی ہو گئی تھی۔ خاموشی سے گھر آ کر کھانا کھایا اور کمرے میں چلی گئی۔ ماما پیچھے گئیں تو وہ سو رہی تھی نماز کے اوقات میں اٹھ کر نماز پڑھتی کھانا کھاتی اور سو جاتی ۔ "سنو میری بلبل ! ایسے تو نہیں چلے گا اگر تمہیں اعتراض ہے تو انکار کر دیتے ہیں پھر۔ "بالا آخر ماما نے عشاء کے وقت مصلے پر جا پکڑا تھا اور اس نے ماں کی گود میں سر رکھ دیا تھا ۔ " ماما کیا میں آپ لوگوں پر بوجھ ہںوں جو آپ لوگ اتنی جلدی مجھے یہاں سے بھیجنے پر تلے ہو۔ "اس کی آواز میں بہت درد تھا ۔ ماما نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا تھا اور سر پر ایک چپت لگا کے گلے سے لگالیا
۔ تو تو میرے آنگن کا نور ہے ۔ دیکھو ابھی ان لوگوں نے صرف نکاح کا بولا ہے اور شادی تمہاری پڑھائی ختم ہونے کے بعد جب آکاش کیپٹن بن گیا تب ہو گی۔ اچھا تو اس کا نام آکاش ہے ۔ اس کے چہرے پر شرم کا ایک رنگ آیا تھا ۔ ایک چہرہ آنکھوں کے سامنے آیا یونیفارم میں ملبوس اس کو دیکھتا چہرہ۔ کن سوچوں میں گم ہو بیٹا؟؟؟
ماما اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ پڑھ رہی تھیں۔ کچھ نہیں آپ لوگ مشورہ کر لیں بابا سے پوچھ لیں جیسے آپ کو اچھا لگے ویسے کر لیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مان رکھا گیا تھا
سر بلند کیا گیا تھا
تربیت نظر آگئی تھی دور کہیں PMA کی دیواروں کے اس صرف کسی کے دل کی آس پوری ہونے والی تھی۔ شام کو فیملی ڈنر رکھا گیا تھا۔ اس میں سب ہی جمع تھے سوائے عمیزہ کے وہ کھانا سرو کر کے اپنے کمرے میں جا چکی تھی کیونکہ آج اس کے رشتے کی بات ہونے جا رہی تھی اور وہ شرمائے جا رہی تھی ۔ اس کو آکاش کی تصویریں دکھائی گئی تھی اچھا ہے۔ اس کے دل سے آواز نکلی تھی ۔ پہلی بار کسی مرد کو جو اس کا محرم بننے والا تھا یوں دیکھنا اسے سب کچھ یکدم جیسے رنگین لگنے لگ گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آکاش کی پوری فیملی PMA پہنچ چکی تھی۔ آج کا دن اس کے لیے بہت زیادہ خوشیوں کا دن ہونے والا تھا۔
اتنی خوشیاں وہ سوچ بھی نہیں رہا تھا ۔ پاسنگ آؤٹ پریڈ کے بعد فیملی سے ملنے وہ یونیفارم میں ہی آیا تھا۔ وہاں کا سماں ہی الگ تھا۔ کیڈٹس اپنی فیملی سے مل رہے تھے۔ نظریں اتاری جارہی تھیں ۔ جب کہ اتنی زیادہ خوشیوں میں وہ کسی اور کو شامل کرنا چاہ رہا تھا ۔ جسے وہ اپنی زندگی میں شامل کرنے کا فیصلہ کر چکا تھا اس کی بھی وہ مبارک باد وصول کرنا چاہ رہا تھا ۔ اور پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے دل کی مراد بر آئی تھی ۔

"بیٹا وہ مان گئی ہے"

ماما کی بات سن کر اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر " الحمد الله"
کہا۔۔۔۔۔
جیسے اس نے جو کچھ مانگا ہوا تھا اسے مل رہا تھا ۔ اسے لگ رہا تھا اس سے زیادہ اس دنیا میں اور خوش نصیب کون ہو سکتا ہے۔ اپنا خواب وہ پورا کر چکا تھا۔ والدین کی آنکھیں خوشی کے آنسوؤں سے لبریز تھیں اور اس کو اس کا من چاہا انسان مل رہا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈنر کر کے وہ سب ٹیبل پہ ہی بیٹھے تھے کہ ماما نے مٹھائی لا کر ٹیبل پر رکھی تھی۔

"ماما یہ کہاں سے آئی ..... " اس نے ڈبہ کھولتے ہوئے پوچھا تھا ۔

" آکاش پاس آؤٹ ہوا ہے وہاں سے آئی"

اس کے ہاتھ کانپے تھے اور ڈبہ وہیں رکھ کے وہ کمرے میں چلی گئی تھی جب کہ انس صاحب اپنی مسز سے آج آکاش سے ہونے والی ملاقات ڈسکس کر رہے تھے کیونکہ مٹھائی وہ خود ہی لے آیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آج فیصل آباد عبد اللہ کے پاس ہی تھا کیونکہ کل اسے یونیورسٹی میں بھی جانا تھا کیونکہ وہاں اس نے کسی کو مبارک باد دینی تھی یا شاید مبارک باد لینے جانا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
صبح قریب تھی
ایک حسین صبح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے)

_مہرِمحبت_(ایم ایچ ساحل)قسط نمبر 07مڈز شروع ہںونے والے تھے ان سے پہلے ان کی کلاس ایک Get together رکھنا چاہ رہی تھی اور ...
01/05/2023

_مہرِمحبت_
(ایم ایچ ساحل)
قسط نمبر 07

مڈز شروع ہںونے والے تھے ان سے پہلے ان کی کلاس ایک Get together رکھنا چاہ رہی تھی اور اس میں عمیزہ نے اپنا اور ادعیہ کا نام بھی لکھوا دیا تھا یہ جانتے ہںوئے بھی کہ ان دونوں کے درمیان کلاس کی کسی بھی پارٹی کو جوائن نہ کرنے کا خاموش وعدہ ہںو چکا تھا کیونکہ عمیزہ پچھلے تینوں سمسڑز میں ہںونے والے فنکشنز جن میں Well come perty, Anaual dinner میں بھی شامل تھیں نہیں گئ تھی اور نہ ہی ادعیہ کو جانے دیا تھا
لیکن اس کے باوجود جوں ہی سٹیج پر آ کر عبداللہ نے کلاس Get together کا کہا تھا اور ان سے پوچھا تھا کہ کیا آپ جوائن کریں گی

”جی بالکل ان شاللہ“
یہ الفاظ اس کے منہ سے کیسے نکلے تھے یہ وہ بھی نہیں جانتی تھی ان دونوں کا نام نوٹ کر لیا گیا تھا
”یہ کیا“ ؟
ادعیہ جو اب اسے حیرانی سے تک رہی تھی بے ساختہ سوالیہ الفاظ اس کے منہ سے نکلے تھے
دوسری طرف عمیزہ ایسے مگن تھی جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہ ہںو
وہ خود نہیں جانتی تھی اس نے کیوں اور کیسے حامی بھر لی تھی کیا وہ واقعہ ہی جانے والی تھی ؟
کلاس ساری فنکشن کی ڈسکشن میں مصروف تھی جب کہ فرنٹ پہ وہ دونوں بیٹھی ابھی تک حیران تھیں اور دونوں کے ذہن میں ایک ہی بات تھی کہ وہ کیوں مانی......!
---------&&&&---------
اس ویک اینڈ پہ عبداللہ پھر گھر آ گیا تھا کیونکہ اس نے آکاش کو اس کے پاس آٶٹ ہونے پر سب سے بڑی خوشی دینی تھی
"جی امی میں نے آپ کو بولا تھا آپ اس بات کو آگے بڑھائیں آنٹی سے بھی آپ کو خود ہی بات کرنی ہںو گی اور عمیزہ کی امی سے بھی!!!!!"
عبداللہ ایک جوش میں بولے جا رہا تھا جبکہ مسز احمد اسے حیرانی سے تک رہی تھیں کیونکہ اس کی آنکھیں اس کے لفظوں کا ساتھ نہیں دے رہی تھیں
اور وہ ماں تھیں وہ سب کچھ سمجھ سکتی تھیں
وہ تو میں کروں گی ہی لیکن ایک بات بتاٶ
مسز احمد نے رک کر اس کی آنکھوں میں جھانک کر پوچھا تھا
"جی امی پوچھیں !"
نظریں چرا کر جواب دیا گیا تھا
"بیٹا میری طرف دیکھو اور بتاٶ کیا تم دونوں واقعی سریئس ہںو اپنے اپنے فیصلوں پر "
مسز احمد نے "تم دونوں" اور "اپنے اپنے" پہ زور دیتے ہںوئے اس کی آنکھوں میں جھانک کر پوچھا تھا
"جی امی جان آکاش نے مجھ پہ اعتماد کرتے ہںوئے مجھے یہ ذمہ داری سونپی ہے اور میں اسے ہر قیمت پہ پورا کرنا چاہںوں گا "
مسز احمد کو چند لمحے لگے تھے بات کی تہہ تک پہچنے میں
اور یہ تو وہ جانتی تھیں عمیزہ بچی ہی ایسی ہے کہ کوئی بھی اسے پسند کر سکتا لیکن بیٹے کی قربانی پر ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے
اور یہ رشتہ جس کی بنیاد اتنی بڑی قربانی اور آنسوٶں سے رکھی جا رہی تھی اس میں برکت کے لیے اردگرد کی ہر شے دعاگو لگ رہی تھی
یہ آکاش کی خوش نصیبی تھی یا عمیزہ کی معصومیت لیکن جو بھی تھا سب پرفیکٹ جا رہا تھا
_________&&&&&&&&&_________
عمیزہ آج شام کو عبداللہ کی امی آ رہی ہیں اچھے سے تیار ہںو جانا
یہ سنتے ہی اس کا دل عجیب طرح سے دھڑکا تھا پہلی بار تھا کہ ماما نے یوں بولا تھا کیوں کہ دو تین دن سے وہ محسوس کر رہی تھی کہ ماما اس کو دیکھ رہی ہیں کئی بار اس نے محسوس کیا کہ ماما اسے عجیب طرح نم سی آنکھوں سے دیکھ رہی ہیں مگر وہ اگنور کر گئ تھی
_____&&&&&______
آکاش کی امی بہت خوش تھیں اور مسز احمد کے ساتھ کے ساتھ اس خوبصورت حور کو دیکھنے آ رہی تھیں جس کو ان کے ہیرے نے پسند کیا تھا کیونکہ انہیں اپنے بیٹے پر مان تھا اور انہوں بخوشی بات سنی تھی مسز احمد کی اور اب وہ اس کو ملنے فیصل آباد آ رہی تھیں جس نے ان کے آنگن کو روشن کرنا تھا جی ہاں ان کو بیٹی مل گئ تھی (عمیزہ کے روپ میں )یہ ان کا دل اس خوبصورت سبز آنکھوں والی سے ملنے سے پہلے ہی کہہ رہا تھا
__________&&&&&&________
مہمان شام کو پہنچے تھے احمد صاحب دونوں خواتین کو ان کے گھر ڈراپ کر کے واپس چلے گئے تھے وہ وہاں بیٹھی دونوں عمیزہ پر صدقے واری جا رہی تھیں
مسز احمد نے مسز انس کے کان میں بات پہلے سے ہی ڈال دی تھی لہذا وہ خاموش تھی اور نم آنکھوں اور مسکراتے چہرے سے آکاش کی والدہ کو عمیزہ پر صدقے واری ہںوتے دیکھ رہی تھی
ماما یہ کون ہیں اور مجھے کیسے جانتی!
ایک سوال جو کب سے عمیزہ کے دماغ میں گھوم رہا تھا کہ یہ کیسے ہںو سکتا کہ جن کو آج تک دیکھا نہیں یوں آ کر اسے پیار کرنے لگ جائے

"بیٹا یہ مسز احمد کی دوست ہیں اور تمہارے بچپن میں ہمارے گھر آتی جاتی تھیں "
مسز احمد نے اسے وقتی طور پر مطمئن کر دیا تھا لیکن کچھ نیا احساس اس کے دل میں بھی آ رہا تھا
_________&&&&&______
مسز ندیم نے آنے سے پہلے ساری بات ندیم کو بتا دی تھی وہ بھی خوش تھے انہوں نے آکاش کی امی کو مکمل طور پہ حق دے دیا تھا لیکن بیٹے کی پسند کو ترجیح دینے کو بھی بولا تھا
یہاں آنے پر تو مسز ندیم سے بالکل صبر نہیں ہںو رہا تھا ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس کو اس وقت ابھی دلہن بنا کے اپنے ساتھ لے جائیں.......
جذبات ایک طرف انھوں نے مسز انس سے بات کی تھی انہوں نے عمیزہ کی خوشی میں اپنی خوشی کا عندیہ دے دیا تھا لیکن انہوں نے بظاہر ایسی کوئی بات بھی نہیں کی تھی مسز ندیم نے ندیم صاحب کو بلا بھیجا تھا کیونکہ وہ فوراً اس کے والدین سے اس کا ہاتھ مانگنا چاہ رہے تھے

_______&&&&&_______
سب کچھ آناًفاناًہی ہںوتا گیا تھا اور وہ شام بھی ڈھل چکی تھی جس کی دور PMA میں موجود آکاش کے لیے بہت زیادہ اہمیت تھی
مہمان واپس جا چکے تھے اور عمیزہ کی امی اس کے کمرے میں آئی تھیں وہ ”یارم“پڑھ تھی کہ اٹھ کر بیٹھ گئ .....
"بیٹا !بیٹیاں ماں باپ کے گھر مہمان ہںوتی ہیں"
ماما نے بات شروع کی تھی
اس کا ماتھا ٹھٹکا ضرور تھا مگر وہ اچھی بچی بنی سنتی رہی تھی
ماما نے لمبی تمہید باندھی تھی اور بلآخر اصل بات اس کے سامنے رکھ دی تھی
"بیٹا تمہاری آنٹی کے جاننے والے ہیں لڑکا آرمی میں سیکنڈ لفٹینٹ بن کر پاس آٶٹ ہںونے والا ہے وہ سیدھا نکاح کرنا چاہتے ہیں"
ماما نے ایک دم ہی اتنی بڑی بات اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہہ دی تھی
عمیزہ نے ماں کی گود میں سر رکھ کر رونا شروع کر دیا تھا...........
اس کی ہچکیاں اس کی الماری میں رکھی لال دوپٹہ لیے ننھی گڑیا بھی محسوس کر رہی تھی اور گود میں لیے دنیا کا سب سے مخلص رشتہ "ماں" بھی۔۔۔۔۔ دونوں کے جذبات مختلف نہ تھے لیکن تیسرا جذبہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
"کیا آکاش کو ابھی اور انتظار کرنا تھا"
(جاری ہے)

مہرِ محبت(ایم ایچ ساحل)قسط نمبر 06اس کے ذہن میں سب کچھ ہی گڈمڈ ھو رہا تھا آنٹی کی کال ان کے معنی خیز سوالات اس کے ذہن می...
27/04/2023

مہرِ محبت
(ایم ایچ ساحل)
قسط نمبر 06
اس کے ذہن میں سب کچھ ہی گڈمڈ ھو رہا تھا آنٹی کی کال ان کے معنی خیز سوالات اس کے ذہن میں چھائے ھوئے تھے لیکن وہ بھی اپنے نام کی ایک تھی ایک سیکنڈ میں ٹینشن کو بھولنا یا لے لینا اس کی بیک وقت خوبی بھی تھی اور خامی بھی ۔۔۔
اسی لیے ساری ٹینشن ریلیز کر کے اگلے چند منٹ میں وہ ڈائینگ ٹیبل پہ وہ اپنے محبوب بابا کے ساتھ خوش گیپیوں میں مصروف ھو چکی تھی
البتہ اپنی امی کی نگاہیں وہ مسلسل خود پہ محسوس کر رہی تھی مگر فی الوقت وہ سب کچھ یکسر نظر انداز کر کے صرف اپنے بابا کی کمپنی انجوائے کرنے کے موڈ میں تھی............~~~~~~~~~
عبداللہ کو شاک نہیں لگا تھا وہ حیران بھی نہیں تھا وہ پریشان بھی نہیں تھا
کہ آکاش نے اس کا نام لیا لیکن وہ خوشی کا اظہار بھی نہیں کر پایا تھا
یہ کیا تھا کہ نا وہ خوشی کا اظہار کر پایا تھا اور نہ ہی اسے اور کچھ کہہ پایا تھا اور دوسری طرف آکاش ہاتھ روکے اسے ہی دیکھ رہا تھا وہ اس سے کیا توقع کر رہا تھا لیکن اس کا ری ایکشن کچھ عجیب سا ہی تھا
دونوں بول نہیں پا رہے تھے اور نہ ہی ایک دوسرے سے آنکھیں ملا پا رہے تھے آکاش ایسے محسوس کر رہا تھا جیسے اس نے اس کے سامنے اظہار محبت نہیں بلکہ اقرار جرم کیا ھو
عبداللہ کے تاثرات کی اسے سمجھ نہیں آرہی تھی
کیا یہ اظہار محبت واقعی اقرار جرم بننے والا تھا ؟.....~~~~~~~
عمیزہ بیٹا اٹھ جاٶ فجر کا وقت نکلا جا رہا ہے
امی کی اس آواز سے وہ فوراً اٹھ گئ اور سب سے پہلے حیران تھی کہ وہ خود کیسے اٹھ نہ پائی دوسری طرف اس کی امی بھی حیران تھیں کہ تہجد کے وقت اٹھ جانے والی عمیزہ اتنا وقت سوتے کیسے رہی
خوشگوار موسم اس صبح کی ھوا میں ہلکی پھلکی خنکی تھی بدن سے ٹکراتی یہ ٹھنڈی ھوا اسے بہت بھلی محسوس ھو رہی تھی رات کافی دیر سوچنے کے بعد بالاآخر وہ ایک فیصلہ کر پائی تھی اور اس پر عمل پیرا ہوتے ہوئے وہ سب اللہ پہ چھوڑ کے سو گئ تھی اور اب وہ کافی پرسکون تھی .....~~~~~~
میں چاہتا ھوں ڈائریکٹ امی جان سے بات کی جائے عبداللہ نے بالاآخر اپنے جذبات کو( جوکہ ابھی بیدار ھونے کی کوشیش میں تھے) اپنے یار کی آنکھوں کی چمک پہ قربان کر دیا تھا
اور اب وہ دونوں سر جوڑے مستقبل کے بارے میں سوچ رہے تھے
دو پنچھی پھر ایک ہی سوچ کی اڑان کے لیے پر تول رہے تھے لیکن اس بار آسمان کی بلندی اور ہںوا کا دباٶ جدا تھا لیکن ان سب سے بے خبر آکاش اپنے عشق میں مست اپنے یار سے اپنی محبت کی تکمیل کا پلان بنا رہا تھا
لیکن کیا محبت کی بھی کوئی تکمیل ھوتی ہے ؟
یہ سوال ان دونوں میں سے کسی کے ذہن میں بھی نا تھا ......~~~~~
کلاس روم کی ونڈو سے باہر دیکھتا عبداللہ اسے گم صم سا لگا تھا کچھ کھویا کھویا سا ----
ادعیہ یہ عبداللہ کو کیا ھوا ہے عمیزہ حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی اور ادعیہ حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی _ وہ ان کی فیملی ٹرمز کے بارے میں جانتی تھی لیکن آج یوں عمیزہ کا اچانک عبداللہ کے بارے میں یوں سوال کرنا اسے عجیب سا لگا تھا
مجھے کیا پتا کیا ھوا ہے؟
ادعیہ نے رخ اس کے چہرے سے پھیرتے ھوئے بددلی سے کہا تھا
جسے محسوس کر لیا گیا تھا
لیکن چلبلی سی عمیزہ آج الگ ہی موڈ میں تھی ادعیہ کا روکھا انداز اس نے محسوس کر لیا تھا لیکن کوئی بھی ری ایکشن دئیے بغیر وہ مگن ہی رہی تھی
اس بات سے بےخبر کہ عبداللہ کی پریشانی کی کہیں نا کہیں وجہ وہ بھی تھی وہ جتنا بھی آکاش کے سامنے اپنے جذبات چھپاتا اس کے سامنے خوش نظر آنے کی کوشیش کرتا لیکن حقیقت تو یہ بھی تھی کہ کچھ ھوا ادھر بھی تھا ۔۔۔
کچھ محبتیں دنیا دیکھتی ہے اور کچھ محبتیں دنیا دیکھا دیتی ہیں
لیکن قصور کسی کا بھی نہیں ھوتا
عبداللہ یہ بھی جانتا تھا کہ اگر یہی بات وہ پہلے آکاش کو بتا دیتا تو اس کے دوست نے بالکل اسی کی طرح اپنے جذبات کو چھپا جانا تھا کبھی یہ نہیں سوچنا تھا کہ وہ اسے اچھی لگتی ہے
لیکن ابھی یہ محبت یک طرفہ تھی اور کتنی پاور فل تھی وہ مان چکا تھا
جی ہاں محبت دنیا کی طاقتور ترین چیز ہے .........
عمیزہ!
ادعیہ کی آواز اس کے کانوں میں گونجی اور اس نے پلٹ کے دیکھا تھا
کیا ھوا ؟
تمہیں کیا ھوا ہے
سوال پہ سوال دغا گیا تھا
کیا مطلب ؟وہ مگن تھی
عمیزہ آج کی کلاس میں سوچوں میں گم تھی صبح سے تیسری بار ادعیہ اسے یوں اس دنیا میں واپس جگا کر لائی تھی
لیکن وہ کسی اور ہی موڈ میں تھی کہ یک دم میم اسماء کی نظر اں پہ پڑ گئ تھی یہ کلاس میں پہلی بار ھوا تھا کہ دونوں پوائنٹ آٶٹ ھوئی تھیں
لیکن وہ یونہی مگن رہی
پورا دن وہ اسی ٹرانس میں رہی
عمیزہ کیا سوچ رہی ہے ادعیہ اسے دیکھ کر یہ سوچنے لگ گئ تھی .....~~~~~~
امی بیٹھیں آپ سے کچھ بات کرنی ہے
عبداللہ گھر پہنچا تھا تو شام کو بابا کھانا کھا کر اٹھ گئے تھے اور اب وہ ماں بیٹا ڈائینگ ٹیبل پہ رہ گئے
اس میں کچھ چینج تھا جو امی جان کھانے کے دوران بلکہ جب سے وہ آیا تھا تب سے محسوس کر رہی تھی
وہ کبھی بہت خوش لگ رہا تو تو کبھی گم صم ھو جاتا اسے جاننے کے لیے امی جان بہت بے چین تھی
جی بیٹا بولے میں سن رہی ھوں
"امی آکاش پاس آٶٹ ھونے والا ہے---- " عبداللہ نے بات شروع کی
دوٹوک بات کرنے والا عبداللہ آج تمہید باندھ رہا تھا
جی ماشأاﷲ بیٹا بہت اچھی بات ہے ماشاءالله بہت بیبا بچہ ہے اللہ اسے ہر میدان میں سرخرو کریں
امی وہ چاہتا ہے پاس آٶٹ کے بعد اس کا نکاح ھو جائے
عبداللہ نے بات جاری رکھتے ھوئے کہا
"ماشاءالله بہت اچھی بات ہے اور بہت اچھی سوچ بھی
تم بھی اپنے دوست سے کچھ سیکھ لو"
امی جان واقعی دل سے خوش ھوئی تھیں اور ساتھ انہیں اپنے بیٹے کا سہرا بھی نظر آیا تھا
"امی دراصل بات یہ ہے کہ"
وہ اٹکا تھا
امی نے نگاہ اٹھا کے اسے دیکھا تھا
"وہ عمیزہ کو پسند کرتا ہے"
ایک ہی جملے میں جذبات ، احساسات اور خواب پتانہیں کیا کیا بتایا تھا اس نے اور جتلایا تھا
امی کو ایک لمحہ لگا تھا ساری بات میں
عمیزہ کو!!!!!!!!
اس سے زیادہ وہ بول نہیں پائی تھیں
وقت اپنا کھیل شروع کر چکا تھا...............
(جاری ہے)

_مہرِمحبت_(ایم ایچ ساحل)قسط نمبر 05:”السلام علیکم بھابھی کیسی ہے آپ“مسز انس نے آگے بڑھ کر گرمجوشی سے عبداللہ کی امی کو گ...
17/03/2023

_مہرِمحبت_
(ایم ایچ ساحل)
قسط نمبر 05:
”السلام علیکم بھابھی کیسی ہے آپ“
مسز انس نے آگے بڑھ کر گرمجوشی سے عبداللہ کی امی کو گلے لگایا تھا-
وہ لوگ عصر کے بعد ان کے گھر پہنچے تھے مسز انس نے چائے پر ہی کافی تکلف کیا تھا ۔ اب وہ ڈرائنگ روم میں بیٹھیں گزرے سالوں کے بیتے واقعات ایک دوسرے کو سنا رہی تھیں
جبکہ انس صاحب احمد صاحب کو سٹڈی روم میں لے جا کر وہاں باتوں میں مصروف ھو چکے تھے
کچن میں سلاد بناتی مصروف عمیزہ کے چہرے پر حیرانگی سے زیادہ خفگی جھلک رہی تھی کہ سہیلی کیا مل گئ امی جان تو بیٹی کو کچن میں بھیج کر بھول ہی گئ ہے
ساتھ ساتھ وہ کَن انکھیوں سے اپنی امی اور ان کی سہیلی کو دیکھ رہی تھی جسے مسز انس پورے گھر میں بے تکلفانہ گھمانے کے بعد اب کچن میں لے آئی تھیں۔
واہ آج تو امی پرانی سہیلی کے ملنے پر میرے بنائے ھوئے سلاد پر شاباش دینا بھی بھول گئیں ہیں۔
دل ہی دل میں بڑبڑاتی وہ پیاری سی آنٹی کو جواباً مسکراہٹ دے رہی تھی جو ان کو بڑے لاڈ پیار سے مسز انس سے بات کرتےھوئے ساتھ اسے بھی شامل کر رہی تھیں

***×××××××××××××××××××***
جونئیرز سے سنئیرز تک پہنچنے میں ان کو بہت مشقت سے گزرنا پڑا تھا
بلآخر اب وہ سنئیرز تھے اب جونئیرز ان کے ماتحت تھے PMA میں ان کا بیچ کیا بدلا تھا گویا زندگی بدل گئ تھی
یوں بدلتی زندگی میں نہیں بدلا تھا تو بس وہ اک خواب ،خیال
اک حسین چاہت اک پیاری لڑکی
***××××××××××××××***

"ماشأاﷲ عمیزہ کافی سمجھدار اور اچھی بچی ہے"
دوسرے دن جب وہ ہاسٹل عبداللہ سے ملنے گئے تو باتوں باتوں میں مسز احمد عمیزہ کا ذکر چھیڑ بیٹھیں
"جی امی !اور بہت معصوم بھی ہے"
عبداللہ کے منہ سے خودبخود نکل گیا
احمد صاحب خاموش تماشائی بنے حیرانگی سے ماں بیٹے کی باتوں کا سیاق وسباق سجھنے کی کوشش کر رہے تھے
***×××××××××××***
ان کو فون کالز کی اجازت مل چکی تھی
امی جان ہر بار کی کال پہ اس کی بلائیں لیتی نہ تھکتی تھیں
آخر گاٶں کا سب سے سجیلا نوجوان تھا اوپر سے آرمی کی ٹف ٹریننگ سے بنے اس کے مسلز نے اس کی وجہیہ شخصیت کو اور نکھار دیا تھا کسی کی بھی نگاہ ایک بار پڑتی تو ٹھہر ہی جاتی
آکاش اور اس جیسے بہت سے جوان ملک کی خاطر جان قربان کرنے کا حلف لینے کے بہت قریب پہنچ گئے تھے لیکن اس کی امی ایک ہی بات کال پہ وقتاً فوقتاً دہراتی رہتی تھیں کہ جب میرا بیٹا PMA سے گھر آئے گا وہ خوب دھوم دھام سے اس کی شادی کریں گے گاٶں میں اس کی امی کو خواب نظر آتے تھے تو اس کی شادی کے...
بلکہ انہوں نے تو ایک قدم آگے بڑھ کے رشتے دیکھنے بھی شروع کر دئیے تھے سونے پہ سہاگہ اس بار کی کال پہ بابا نے بھی اشارے کنایے میں کہہ دیا تھا کہ بیٹے اب تم بڑے ھو گئے ھو تمہاری ماں تمہاری آزادی ختم کرنے کے چکر میں ہے
ماں کے سامنے تو وہ احتجاج کر گیا تھا کہ وہ کیپٹن بن کے شادی کرے گا جسے اس کی ماں نے نظرانداز کر دیا تھا
مگر بابا کے سامنے وہ
"جی بابا"
ہی بمشکل بول پایا تھا
اور یہ بات پھر دور کی تھی کہ
شادی کس سے ھونی ہے؟؟؟؟؟؟
یہ سوال نا آکاش نے اٹھایا نہ ہی اس کی امی جان نے ...
یا شاید اس سوال کو اٹھانے کی کسی کو بھی ضرورت ہی نہ تھی کیونکہ انہیں اپنے فرماں بردار بیٹے پہ اعتماد تھا کہ وہ انہی کی رائے کو ترجیع دے گا یہ جانے بغیر کہ آکاش کے دل و دماغ میں ایک ہی معصوم ساحرہ کا چہرہ سامنے آتا ہے اس کے بغیر اس نے نہ کبھی کسی اور کو سوچا تھا اور نہ ہی کبھی چاہا تھا فوجی تھا مگر رشتے کیسے بنتے ہیں آکاش اس بات سے بھی اتنا ہی نا بلد و ناواقف تھا جتنا کہ دنیا اس سے کیا کھیل کھیلنے جا رہی تھی اس کو نہیں جان سکتا تھا
***××××××××××××***
سر پورے جوش وخروش سے پڑھا رہے تھے اس سمیسٹر میں ان کو minor سبجیکٹ پڑھانے والے یہ واحد میل ٹیچر تھے جن کے بارے میں کم از کم عمیزہ اور ادعیہ دونوں کا متفقہ موقف تھا کہ ان کے لیکچر جیسا بورنگ کوئی اور لیکچر ہو ہی نہیں سکتا
لیکن
لیکچر توجہ سے سننے کی کوشش میں مصروف عمیزہ کبھی اِدھر اُدھر دیکھتی تو کبھی کاپی پہ نہ جانے کیا لکھنے لگ جاتی( اور وہ کم از کم پڑھنے کے قابل قطعی نہ ہوتا) کہ دفعتاًذہن کے پرودں کے سامنے کل عبداللہ کے گھر والوں سے ہونے والی ملاقات کا نقشہ آ گیا اسی لمحے اس کی نظریں لا شعوری طور پر عبداللہ کی طرف اٹھیں مگر دوسرے ہی لمحے پچھتاوے کے احساس سے اس نے نظریں جھکا لیں کیونکہ عبداللہ کی نگاہیں بھی اسی پہ تھی عمیزہ حد درجہ پزل ھو چکی تھی
"بس 10 منٹ رہتے ہیں" عمیزہ کی بے چینی دیکھ کے ادعیہ نے گھڑی کی طرف دیکھتے ھوئے کہا
بھلا کیسے ممکن تھا کہ عمیزہ بے چین ھو اور ادعیہ بے خبر ھو
لیکن ادعیہ بس اس کی بے چینی ہی محسوس کر پائی تھی اور بورنگ لیکچر اس کی وجہ سمجھ پائی تھی
لیکن وجہ تو کچھ اور تھی

***××××××××××××***

یہ ان کا Last Home Trip تھا اس کے بعد انھوں نے Pass out ھو کے ہی گھر جانا تھا
آکاش بہت خوش تھا لیکن عجیب سی بے چینی بھی تھی اس کے دل کو کوئی انہونی ھونے کا احساس بار بار ستا رہا تھا
ایبٹ آباد سے لاھور کی بس میں بیٹھتے ھوئے ہی اس نے عبداللہ کو مسیج کر دیا تھا دل ہی دل میں دعا مانگ رہا تھا کہ عبداللہ یونیورسٹی ہی ھو کیونکہ اب کی بار وہ صرف عبداللہ سے ملنے نہیں جا رہا تھا کوئی اور معصوم چہرہ بھی تھا جس کی چاہت اس کے دل میں گھر کر چکی تھی
لیکن فیصل آباد میں اس کے ساتھ کچھ اور ہی ھونے جا رہا تھا جسے کاتب تقدیر نے اس کی قسمت میں لکھ دیا تھا
***×××××××××××××***

"عمیزہ تم عبداللہ کی کزن ھو؟ تم نے بتایا ہی نہیں"
حرا نے اس سے پوچھا تھا لیکن وہ اقرار یا انکار کچھ بھی نہیں کر پائی تھی
یہ آج کے دن میں اس کے لیے دوسرا بڑا دھچکا تھا عبداللہ نے کسی سے کہہ دیا تھا کہ عمیزہ کزن ہے میری
اور جنگل کی آگ کی طرح بات کلاس میں پھیل گئ تھی
اب وہ انکار کر کے اس کی بے عزتی نہیں کروا سکتی تھی لیکن عبداللہ اور اُس کی فیملی اس کے لیے Complex بنتی جا رہی تھی

***×××××××××××***

”ہاں Buddy مل گئ آزادی PMA سے“
عبداللہ نے آکاش کا میسج دیکھتے ہی اسے کال کر لی تھی
"ہاں جی مل گئ آزادی لیکن صرف ایک ہفتے کے لیے، تو بتا کہاں پایا جاتا ہے آج کل
کہاں ہے ؟؟؟؟؟"
"یونیورسٹی میں ہی ھوں ابھی کلاس میں ھوں ایک لیکچر رہتا ہے پھر ہاسٹل کے لیے نکلتا ھوں"
آکاش جو چاہتا تھا اس کے عین مطابق ہی جواب ملا تھا
"چلو کوئی نہیں میں ہی آ جاٶں گا اپنے یار سے ملنے فیصل آباد"
آکاش نے اپنی دلی خواہش کا اظہار کیا تھا
"نہیں نہیں تو ایک ہفتے کے لیے تو آیا ہے میں آ جاتا ھوں گاٶں ایک دو دن کے لیے"
یار اس بہانے تھوڑی آٶٹنگ ھو جائے گی بندہ PMA سے گھر آتا ہے اور یہاں بھی گھر میں ہی رہ جاتا ہے
آکاش لہجہ ہموار رکھتے ھوئے مگر تیزی سے بول گیا تھا

"ٹھیک ہے تو گھر پہنچ انکل آنٹی سے مل ان کو ٹائم دے پھر آجانا اس طرف"

عبداللہ نے پلان بناتے ھوئے کہا
"ٹھیک ہے پھر ملتے ہیں اِنشآللّٰہ"
اللّٰہ حافظ کہہ کر عبداللہ نے فون رکھ دیا
آکاش کا دل بلیوں اچھل رہا تھا اس کا بہانہ عبداللہ پہ کام کر گیا تھا
***×××××××××××***
شام کو آنٹی (عبداللہ کی امی ) کی کال آئی تھی مسز انس سے بات کے بعد عمیزہ سے بھی بات کرنے لگیں
"بیٹا عبداللہ آپ کی کلاس میں پڑھتا ہے کیسا ہے"
باتوں باتوں میں آنٹی یکدم پوچھ بیٹھی تھیں
عمیزہ بھی اچانک سوال پہ چونک سی گئ
کیا مطلب آنٹی جی
اس کی چونک دوسری جانب واضح محسوس کی گئ تھی
"اسٹڈی وغیرہ میں"
آنٹی نے ہنستے ھوئے وضاحت کر دی تھی
جی آنٹی اچھا ہی ھو گا
اس کے ذہن میں جو آیا غائب دماغی میں اس نے بول دیا تھا
"کیا مطلب بیٹا آپ کو نہیں معلوم ؟"
پتا نہیں آنٹی اس سے کیا سننا چاہ رہی تھی
"جی نہیں"
اس نے دولفظی جواب دے کر موبائل ماما کو تھما دیا
اور خود کنفیوژد سی اپنے روم کی جانب بڑھ گئ

***××××××××××××××××××***

"السلام علیکم"
عبداللہ جونہی یونیورسٹی سے واپس آیا آکاش کو اپنے روم میں دیکھ کے چونک گیا تھا
جبکہ آکاش نے اسے سلام کرتے ہی گے لگا لیا تھا
"کیسا ہےفوجی"
عبداللہ کافی دیر بعد مل رہا تھا تو ذرا ایموشنل ھو گیا تھا
عبداللہ کو امید تو تھی کہ وہ دو تین دن میں ہی اس کے پاس ھو گا مگر دوسرے دن ہی وہ آ جائے گا یہ اندازہ نہیں تھا
کافی دیر بعد ملے تھے بہت سی باتیں کرنی تھیں انھوں نے
عبداللہ اسے فوراً قریب موجود اندرون ریسٹورینٹ لے گیا تھا
آخر اس کا یار سیکنڈ لیفٹینٹ بننے والا تھا کچھ ہی دنوں میں
"اور سنا کیسی جا رہی ہے کلاس تیری"
آکاش نے چھوٹتے ہی پوچھا
"بالکل ٹھیک"
"لیکن یہ بتا میری کلاس میں اتنی دلچسپی کی وجہ ؟"
عبداللہ نے جواب دیتے ہی سوال داغا
ہے ایک وجہ
عبداللہ ایسے ہی بے توجہی سے پوچھ گیا تھا لیکن آکاش کے سہہ لفظی جواب نے کھانا کھاتے عبداللہ کا ہاتھ روک دیا تھا
اس کا انداز الگ تھا آکاش جیسے بندے کے بارے میں اس نے کبھی ایسی بات سوچی نہ تھی

"میری کلاس میں"
عبداللہ کی آواز نکلی تھی
ہاں یار تیری کلاس میں
آکاش مطمئن کھانا کھا رہا تھا
"کون ہے وہ؟"
اب کے عبداللہ کی آواز میں ایکسٹائمنٹ تھی
"فرنٹ پہ بیٹھی تھی تمہاری کلاس میں جس دن میں آیا تھا"
نظریں جھکائے کھانا کھاتے ھوئے آکاش نے اپنے سامنے بیٹھے عبدللہ کی حالت سے بے خبر اپنا سب سے بڑا سچ بتا دیا تھا
"کون ادعیہ"
عبداللہ کی آواز میں کچھ تھا جسے آکاش محسوس نہیں کر پایا تھا
ایک آخری امید کے تحت عبداللہ نے ادعیہ کا نام لیا تھا
"عمیزہ نام ہے اس کا"
نظریں اٹھاتا آکاش کیا بول رہا تھا!
عبداللہ پہ کیا گزری تھی! وہ کہاں تھے!
کیا ھو رہا تھا!
کیا ھوا تھا!
کیا ھونا تھا!
سب کچھ گڈمڈ ھو رہا تھا.....
(جاری ہے)

مہرمحبت   (ایم ایچ ساحل)    قسط نمبر 04کیونکہ تیرے بغیر میرا دل نہیں لگتا آکاش  ہاسٹل میں یوں اچانک اس کے پیچھے  آ  ٹپکن...
15/02/2023

مہرمحبت
(ایم ایچ ساحل)
قسط نمبر 04

کیونکہ تیرے بغیر میرا دل نہیں لگتا
آکاش ہاسٹل میں یوں اچانک اس کے پیچھے آ ٹپکنے پر حیرت زدہ کھڑے عبداللہ کو توجیہ پیش کر رہا تھا
ہائے میری لیلی!
سات سمندر پار میرے پیچھے آ گئ
حیران زدہ مگر خوشگوار مسکراہٹ کے ساتھ عبداللہ نے آکاش کو ویلکم کہا تھا
بہت دنوں بعد اب وہ پھر اکھٹے تھے Gcuf نے ابھی بوائز کو ہاسٹل الاٹ نہیں کۓ تھے اس لیے وہ دونوں پرائیویٹ ہاسٹل میں ہی تھے اور خوب انجوائے کر رہے تھے
آکاش گھر سے پوری تیاری کے ساتھ آیا تھا چھٹیوں کے بچے چند دن فیصل آباد میں عبداللہ کے سنگ گزار کے ایبٹ آباد کے لیے اس نے نکلنا تھا
****
MId Exams
کے فوراً بعد تقریباً تمام ٹیچرز نے Presentations شروع کر دی تھیں عمیزہ کے گروپ اب کی بار ادعیہ کی بجائے دو لڑکے اور ایک اقراء نامی لڑکی تھی جن کے ساتھ اسے کوئی اٹریکشن نہ تھی عجیب مخمصہ تھا جس میں وہ پھنس گئ تھی
چلنا تو ان ہی کو ساتھ لے کے تھا فرسٹ گروپ ھونے کی وجہ سے انہوں نے تیاری شروع کر دی تھی۔
Zoom
پر دو تین میٹنگز بھی رکھی تھیں
اقراء اور ایک لڑکے کے بعد اس کا تیسرا نمبر تھا جس میں اس نے
Joseph Andreow
نامی ناول
کی کہانی کو آگے بڑھانا تھا
ہینری فیلڈنگ کا یہ ناول اسے کوئی خاص پسند نہیں آیا تھا بلکہ الٹا بیہودہ ہی لگا تھا پھر بھی وہ اسے پوری کلاس کے سامنے پریزینٹ کرنے کے لیے چاروناچار تیار ھو گئ تھی
***
یار آج کلاس میں Presentation ہے تو کیا کرے گا اکیلا ہاسٹل میں آ جا میرے ساتھ ہی
آکاش تو جیسے پہلے ہی دعوت کے انتظار میں بیٹھا تھا نہا دھو کے فوراً تیار ھو گیا ہاسٹل کا فاصلہ یونی سے تھوڑا ہی تھا اس لیے دونوں پیدل ہی گئے گیٹ نمبر 6 پر
آکاش عبداللہ کا دیا ھوا واٶچر اور عبداللہ اپنا کارڈ دکھا کر کر یونی میں انٹر ھو گیا

Asslam O alikum ! my name is "umaiza anas" and my today Presentation topic is.............
وہ آنکھیں جھپکے بنا اسے یوں لیکچر دیتے دیکھی جا رہا تھا رشک بھی آرہا تھا اپنی خوش قسمتی پہ اور حیرانگی بھی
آج ہی وہ ان کی کلاس میں آیا تھا اور آج ہی وہ........آج وہ پورے اعتماد سے نہ صرف اس کی آواز سن رہا تھا بلکہ دیکھ بھی رہا تھا ....نہ جانے وہ کیا بول رہی تھی بلبلے کی طرح سب ھوا میں تحلیل ھو رہا تھا دماغ خالی تھا جیسا یہ فیصلہ نہ کر پایا ھو وہ اس کی بولتی آنکھوں کو سنے یا زبان کو
گہری سبز زمرد آنکھوں والی سادگی کے لباس میں ملبوس وہ لڑکی معصوم .(اس کی معصومیت کو کسی بھی پیمانے پر پرکھایا نہیں جاسکتا تھا وہ کسی شاعر کے بقول ایسی تھی "موسم کے آزاد پرندے ہاتھوں میں ہے اس کے یا وہ بہاروں سی ہے" مجھ پر سحر طاری ہوچکا تھا جو اب وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلے جانے والا تھا۔ ایسا سحر جس کا کوئی توڑ نہیں).....نہیں تھی وہ تو دل میں اترنے والی کوئی اپسرا تھی جو اس کے حواسوں پہ چھا گئ تھی ہر طرف ایک ہی چہرہ تھا حجاب میں لپٹا معصوم چہرہ .....مگر وہ تو کب کی جا چکی تھی
ٹیچر سے فل مارکس ملنے پر وہی کھڑے کھڑے اس نے خوشی کا اظہار کر دیا تھا
***
یار آج جانے کو کوئی فائدہ نہیں ھوا گرمی میں ذلیل ہی ھوئے ہیں بس
عبداللہ تھکاوٹ سے بھرپور لہجے میں اپنی رو میں تبصرہ کر گیا تھا
ان میں سے کوئی بھی آکاش کے چہرے پہ پھیلی مسکراہٹ کی وجہ نہیں جان پایا تھا
اچھا عبداللہ میری ایبٹ آباد کی ٹکٹ کنفرم کرنا ذرا
اب جناب کو کیا سوجھی
اچانک پیشن گوئی پہ جواباًگرمی کی وجہ سے جلی بھنی آواز آئی تھی
کیا سوجھی کیا مطلب جانا ہے اب اور کیا
پاک آرمی کو تو تم جانتے ہی ھو ....دیر نہیں
***
کیسی تھی پریزنٹیشن !!!
عمیزہ نے بیٹھتے ہی ادعیہ سے پوچھا تھا
”خبریں پڑھ کے آئی ھو ”
ادعیہ نے سرگوشی کے انداز میں کہا تھا
اس کے اندازے کے مطابق لیکچر کے آخر تک عمیزہ نے کچھ نہیں بولا تھا
بہت اچھی پریزنٹیشن دی تم نے
لیکچر کے ختم ھوتے ہی اس کی گروپ فیلیو نے آ کے کہا تھا
اتنی تعریف تو اب بنتی تھی جتنا اس نے رونا ڈالا ھوا تھا اس کے برعکس تو پریزینٹیشن بہت اچھی تھی
thank you
وہ یک لفظی جواب دے کے رجسٹر میں کچھ لکھنے میں مصروف ھو گئ تھی جیسے خاموشی چیخ رہی ھو اس تعریف کی بھی ضرورت نہیں تھی
ادعیہ کو اسی لمحے اس پہ ٹوٹ کر پیار آیا تھا
یار مذاق کر رہی تھی تم بھی نا دل پہ لے لیتی ھو ہر بات جب میم نےکہا اچھی ہے تو پھر اچھی ھوئی نا!!!
اس کے گرد بازٶ حائل کرتے ھوئے دھیمی مسکان کے ساتھ ادعیہ بولی تھی
یار میں پہلی بار جا کے سٹیج پہ بولی تھی اور تم نےبجائے appreciate کے الٹا مجھے Degrade کر دیا
سوری نا! ادعیہ کان پکڑے گھٹنوں پہ جھکے اس کے سامنے آکے بیٹھ گئ تھی
اور ادھر سبز آنکھوں والی لڑکی مسکرا پڑی تھی جی ہاں وہ ایسی ہی تھی
***
جی امی میں جانتا ھوں اسے کلاس فیلو ہے وہ میری عمیزہ نام ہے اس کا
کل احمد صاحب کے ذکر کرنے پہ آج وہ پوچھے بنا نہ رہ سکی تھی
کیوں کیا ھوا ؟
کچھ نہیں بس وہ کل تمہارے بابا نے ذکر کیا تھا تو یاد آ گیا ماشأاﷲ بہت اچھے لوگ تھے وہ
جی اچھی تو وہ بھی ہے
عبداللہ کسی ٹرانس میں کہہ گیا تھا
”کیا مطلب“
بیگم احمد یک دم چونکی تھی
نہیں کچھ نہیں امی

چلیں ٹھیک ہے پھر وقت بھی کافی ھو گیا ہے اب میں فون رکھتا ھوں اس ویک اینڈ پہ إن شاءالله لگاتا ھوں چکر
بیگم احمد نے عبداللہ کو اللہ حافظ کہہ کر کسی اور ہی خیال میں کھو گئ تھی جس کا ذکر انھوں نے اب احمد صاحب سے کرنا تھا
***
ہارون کی ماں بات سنو ذرا میری
ہارون صاحب آج آفس سے جلدی آ گئے تھے اور آتے ہی اپنی بیوی کو آواز دی تھی
جی خیر تو ہے کیا ھوا ہے کچن سے نکلتی مسز انس نے پوچھا تھا
وہ گاؤں سے کچھ مہمان آ رہے ہیں مسز احمد اور ان کی بیگم کچھ اہتمام کر لو ان کے لیے
میٹھی مسکان لیے مسز انس کچن کی طرف پلٹ گئ تھی آج اچانک دو سہلیاں پھر اکٹھی ھونے والی تھی
سیدھی سادھی مسز احمد، کی ہمسائیگی میں گزارے وہ چند سال آنکھوں کے پردے کے آگے گھومنے لگ گئے تھے
شادی کے شروع میں ایک ہی گلی میں گزارے چند سالوں نے انہیں دوستی کے بندھن مں باندھ دیا تھا
پھر انس صاحب کی جاب ھو گئ پھر بچے اور یوں ملنا ملانا چھوٹ گیا تھا آج ان کی آمد نے کا سن کر مسز انس میں خوشی کی لہر دوڑ گئ تھی آخر اتنی پرانی سہلیاں اتنے لمبے عرصے بعد جو ملنے والی تھیں
××××××××××
السلام علیکم! امی کیسی ہیں آپ
و علیکم السلام! بیٹا تم سناؤ
الحمداللہ میں ٹھیک ..خیریت آج تو بہت خوش لگ رہی ہے
ہاں جی خوش تو ھوں بس تھوڑی دیر میں ہم اپنے بیٹے کے پاس فیصل آباد جو آ رہے ہیں
میں تو خود ہاسٹل میں ھوں
جی ہم دراصل تمہارے ابو کے دوست کی طرف آ رہے ہیں
عمیزہ کے گھر ؟؟
گھر سے کچھ منگوانا ہے تو بتا دو عبداللہ کی بات کو یکسر نظر انداز کر کے بات گھما گئںٹ تھیں آخر جہاں دیندہ عورت تھیں بہت کچھ محسوس کر کے بھی نظر انداز کر گئیں تھیں کیونکہ ابھی اسے کچھ بھی کہنا قبل از وقت تھا

کچھ نہیں....آپ خیریت سے پہنچے اللہ حافظ
الجھن زدہ لہجے میں کہہ کر فون آف کر چکا تھا جیسے وہ سوال کا نظرانداز کیا جانا اتنی ہی شدت سے محسوس کر گیا ھو
(جاری ہے)
***

Address

Faisalabad
Faisalabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when مہرِ محبت Mehar e Muhabbat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share