27/03/2026
شیـ،عہ سـنی اتحاد کی پینگیں بڑھانے والے مریضوں کیلئے ممبر رسول مسجد نبوی سے ایک تاریخی "ایمانی ڈوز"۔۔۔۔۔
یہ اس دور کی بات ہے جب ایرانی انقلاب کے بعد، فروری 1998ء میں پہلی مرتبہ ایرانی صدر ہاشمی رفسنجانی نے سعودی عرب کا سرکاری دورہ کیا۔ یہ دورہ بظاہر سیاسی مفاہمت کا پیش خیمہ تھا، لیکن مدینہ منورہ کی مقدس سرزمین پر ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے لوگوں کی ایمانی غـ،ـیرت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
جب رفسـ،نجانی روضۂ رسول ﷺ پر حاضر ہوئے، تو انہوں نے حضور اکرم ﷺ پر صلوٰۃ و سلام پڑھا، مگر جیسے ہی سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ کے روضے پر پہنچے، تو سلام کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی باطنی خباثت کا مظاہرہ کیا۔
وہاں موجود لوگ جن میں مسجد نبوی کے امام شیخ علی بن عبدالرحمن الحذیفی بھی شامل تھے، اس گسـ،تاخانہ رویے پر خون کے آنسو روئے، مگر مصلحتوں کے سبب خاموش رہے۔
اسی رات شیخ حذیفی کو خواب میں سرورِ کائنات ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ جس میں حضور ﷺ نے اس واقعے پر سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا۔
یہ خواب شیخ صاحب کے لیے ایک غیبی اشارہ ثابت ہوا۔
اگلے روز جمعہ کا مبارک دن تھا اور رفسنـ،جانی اپنے وفد کے ہمراہ مسجد نبوی میں موجود تھا۔
شیخ حذیفی نے 'سرکاری خطبے' کو بالائے طاق رکھ دیا اور منبرِ رسول ﷺ پر کھڑے ہو کر وہ تاریخی "ایمانی ڈوز" دی جس کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔
انہوں نے علی الاعلان رافضـ،ـیت کا محاسبہ کیا اور صحابہ کرامؓ کی شان میں گسـ،تاخی کرنے والوں کے ساتھ 'اتحاد اور قربت' کی پینگیں بڑھانے والوں پر کڑی تنقید کی۔
شیخ حذیفی نے واشگاف الفاظ میں صحابہؓ کے دفاع کو جزوِ ایمان قرار دیا اور رافضـ،ـیت کو اسلام کے حق میں یہـ،ـود و نصـ،ـاریٰ سے بھی بدتر فتنہ قرار کیا۔ حق کی یہ گھن گرج اتنی شدید تھی کہ رفسنـ،جانی تاب نہ لا سکا اور خطبے کے دوران ہی مسجدنبوی سے اٹھ کر چلا گیا۔
اس معرکہ آرا خطبے کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔
اہلـ،سنت والجـ،ماعت اور شیـ،ـعوں میں کس بنیاد پر اتحاد اور تقرب ہو سکتا ہے ؟
کہاں دین اسلام کا آفاقی نظامِ حیات اور کہاں شیـ،ـعوں کا تنگ نظر اور تعصب وبد زبانی کی آلودگی میں ڈوبا ہوا نظام زندگی...؟
اہلـ،ـسنت والجـ،ماعت وہ لوگ ہیں جو حاملین قرآن اور متبعین سنتِ رسول ہیں ،
ﷲ تعالیٰ نے اُن کو اپنے دین اسلامی اور شریعتِ سماوی کا محافظ ونگہبان بنایا ہے
لہٰذا اُنہوں نے دین کی بھر پور آبیاری کی
یہی نہیں بلکہ دین کی حفاظت، ناموسِ رسالت کی پاسبانی اور اعلائے کلمتہ اﷲ کی خاطر اُنہوں نے جانوں کے نذرانے تک پیش کرنے سے دریغ نہیں کیا
اور یوں اُنہوں نے تاریخ دعوت وعزیـ،ـمت کے باب میں ایک سنہرے باب کا اضافہ کیا ہے۔
اس کے برعکس روافـ،ـض وہ لوگ ہیں جو صحابہ کرامؓ کو گالـ،ـی دیتے ہیں،
اُن پر لعنـ،ـت ملامت روا رکھتے ہیں، ان کو برُا بھلا کہتے ہیں اور اسلام کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینے پر بضد ہیں۔ یہ انہی صحابہ کرامؓ پر لعـ،ـن طعن کرتے ہیں اور اُن پر جملے کستے ہیں جنہوں نے اس دین کی بحسن وخوبی آبیاری کرکے اسے ہم لوگوں تک پہنچایا ہے۔
اگر کسی نے صحابہ کرامؓ میں سے کسی ایک صحابیؓ کی شخصیت کو داغدار کرنے کی کوشش کی تو گویا کہ اس نے پورے اسلام کو نیست ونابود کرکے رکھ دیا اور اس کی وجہ سے عمارتِ اسلامیہ گویا کہ زمیں بوس ہوگئی۔
اسی لئے ہمارا سوال ہے کہ اہلـ،ـسنت والجـ،ـماعت اور رافضـ،ـیوں کے درمیان کس بنیاد پریکجہتی اور پیار ومحبت کا معاملہ طے پاسکتا ہے؟
کیونکہ روافـ،ض خلفائے ثلاثہ کو برا بھلا کہتے ہیں اُنہیں گالـ،ی گلـ،وچ تک کرنے سے بھی باز نہیں رہتے۔
اگر وہ ذرا عقل وخرد سے کام لیں تو ان کو اس حرکت کے انجام کا پتہ چل جائے مگر وہ لوگ اس سلسلہ میں
صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْىٌ فَهُمْ لَايَعْقِلُون
کا مصداق ہیں کہ ان کو عقل ودانش سے واسطہ ہی نہیں ہے، ورنہ ان کو ایسا کرتے ہوئے پس وپیش محسوس ہوتا۔۔۔ کیونکہ صحابہ کرام کو برا بھلا کہنا اور اُن کو گالـ،ـی گلوچ کا نشانہ بنانا گو یا رسول اللہﷺ پر براہ راست لـ،ـعن طـ،ـعن کرنا ہے،
کیونکہ حضرت ابوبکر اور عمر رضی اﷲ عنہما سے رسول اللہﷺ کا رشتۂ قرابت ہے
دونوں نبی کریم ﷺ کے سسر ہیں
دونوں آپ ﷺ کے لئے وزیر کی حیثیت رکھتے ہیں
اور دونوں زندگی میں بھی آپﷺ کے لئے ممدومعاون تھے اور موت کے بعد بھی آپﷺکے جوار میں آرام فرما ہیں۔ گویا یہ حضرات موت و حیات دونوں میں آپ ﷺکی رفاقت اور مصاحبت سے مشرف ہیں۔
کون ہے جس کو یہ شرف اور مقام حاصل ہے؟
مزید برآں ان لوگوں نے نبی کریمﷺ کی مصاحبت میں تمام غزوات میں حصہ لیا ہے۔ ہمارے خیال میں عقیدۂ رفـ،ـض کے بطلان کے لئے یہی ایک دلیل کافی ہے اور مزید دلائل پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔
حضرت عثمانؓ رسول اﷲﷺکے چہیتے داماد ہیں۔ نبی کریمﷺ کی دوبیٹیاں آپ سے منسوب ہیں اور آپ کو پتہ ہونا چاہئے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیب کی مصاحبت کے لئے افضل ترین لوگوں کا انتخاب ہی فرمایا تھا۔
اگر ایسا ہی ہے جیسا کہ رافضـ،ـیوں کا عقیدہ ہے تو نبی کریمﷺ نے خلفائے ثلاثہ کے بارے میں اسلام دشمنی کا پردہ فاش کیوں نہیں کیا؟
اور اس قضیہ سے لوگوں کو متنبہ کیوں نہیں فرمایا؟
خلفائے ثلاثہ پر لعـ،ـن طعن اور ان کو گالـ،ـی گلوچ کا نشانہ بنانے سے سیدنا علیؓ کی ذات بھی لعن طعن کی زد میں آتی ہے کیونکہ سیدناعلیؓ نے ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر پوری رضامندی سے مسجدِ نبوی میں بیعت خلافت کی،
حضرت عمر کو حضرت علی نے اپنی بیٹی اُمّ کلثوم رضی اﷲ عنہا کا رشتہ دیا اور حضرت علی نے حضرت عثمان کے ہاتھوں پربیعتِ خلافت کی اور آپ دورِ خلافـ،ـت میں ان کے وزیر و مشیر کی حیثیت سے ساتھ دیتے رہے۔
ہم کہتے ہیں کہ رافضـ،ـیوں کے اعتقاد کے مطابق کیا حضرت علی کی ذات سے یہ اُمید کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کسی کافـ،ـر کو دیں؟
اور کیا یہ بات باور کی جاسکتی ہے کہ حضرت علی کسی مـ،ـرتد اور کافـ،ـر کے ہاتھ پر برضا ورغبت بیعت ِخلا+فت کریں؟
سبحانك هذا بهتا ن عظیم
سیدنا معاویہ کو لعـ،ـنت وملامت کرنا،سیدنا حسنؓ کی ذات کو داغ دار کرنا ہے جنہوں نے حضرت معاویہ کے لئے محض اﷲ کی رضا وخوشنودی کی خاطر خلا+فت سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا اور جس میں توفیق الٰہی آپ کی ہم رکاب تھی اور نبی کریم ﷺ نے اس بات کی پیشین گوئی فرما کر اپنی زندگی ہی میں آپ کی دل جوئی فرما دی تھی۔
کیا نواسۂ رسول کسی کافـ،ـر کے لئے بیعت کا جواز فراہم کرتے ہوئے اپنی خلافـ،ـت سے دست برداری کا اعلان کرے گا؟
سبحانك هذا بهتان عظیم!
مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ رافـ،ـضی اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا پر کس منہ سے لعـ،ـنت ملامت کرتے ہیں؟
حضرت عائشہ ؓ کی شخصیت تو وہ شخصیت ہے جس کو اﷲ تعالیٰ نے اپنی کتابِ کریم میں اُمّ المؤمنین کے زندہ وجاوید خطاب سے نوازا ہے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے
النَّبِىُّ أَولىٰ بِالمُؤمِنينَ مِن أَنفُسِهِم وَأَزوٰجُهُ أُمَّهـٰتُهُم سورة الاحزاب
''پیغمبر مؤمنوں پر خود ان کے نفسوں سے زیادہ حق رکھنے والے ہیں اور پیغمبر کی بیویاں مؤمنوں کی مائیں ہیں۔''
میں حیرت اور استعجاب میں یہ سوال کرنا چاہتا ہوں کہ اہلـ،ـسنت والجـ،ـماعت اور رافضـ،ـیوں کے درمیان کس طرح اتحاد ہو سکتا ہے؟
جبکہ رافـ،ـضی لوگ امام خمـ،ـینی کو
معصوم قرار دیتے ہیں اور وہ لوگ اپنے باطـ،ـل عقیدہ کے مطابق اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ان کے امام خمـ،ـینی ، نائبِ امام مـ،ـہدی ہیں اور آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ امام مـ،ـہدی ان کے یہاں ایک خیالی شخصیت ہیں۔ امام مـ،ـہدی کے بارے میں رافضـ،ـیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ 'سامراء 'کی سرنگ میں روپوش ہوگئے ہیں۔ اب ان کے نائب موجود ہیں اور نائب اصل کے قائم مقام ہوتا ہے،
لہٰذا اگر شیـ،ـعہ کے زعم کے مطابق امام مہـ،ـدی معصوم ہیں تو خمـ،ـینی بھی معصوم ہوئے کیونکہ وہ اُن کے نائب ہیں اور نائب اصل کا قائم مقام ہوتا ہے۔
یہ کیسا تضاد ہے کہ رافـ،ـضی اپنے فقیہ کی ولایت کا عقیدہ رکھتے ہیں؟
اگر ان کا عقیدہ یہ ہے تو اُنہوں نے اپنے اس قول کی وجہ سے اپنے مذہب کی گویا اینٹ سے اینٹ بجادی ہے اور اپنے مذہب کی دیوار گرا کر اسے غیر محفوظ کردیا ہے کیونکہ باطل ، باطل کو شہہ دے کر اسے کیفر کردار تک پہنچا دیتا ہے۔ اور باطل ، باطل سے ہی پروان چڑھ کر برگ وبار لاتا ہے اور پھر اس سے بہت سے اشکالات رونما ہوتے ہیں۔
نتیجتاً ایک دوسرے کا ٹکراؤ ہونا شروع ہوجاتا ہے اور چنگاری سلگتے سلگتے دہکتا ہوا انگارہ بن جاتی ہے اور شعلہ بن کر پورے کے پورے خرمن کو نیست ونابود کر دیتی ہے۔لہٰذا ہم یہاں پر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اہل بیت شیـ،ـعہ کی دروغ گوئیوں اور تہمت طرازیوں سے بری الذمہ ہیں اور روافـ،ـض کے مذہبِ باطلہ کے بطلان میں شرعاً وعقلاًدلائل وبراہین کی بہتات ہے جن کو مختصر وقت میں گنوانا بڑا دشوار اور مشقت کن معاملہ ہے۔ اسلئے ہماری رافضـ،ـیوں کی خدمت میں یہی دعوت ہے کہ وہ پورے کے پورے دین اسلام میں داخل ہو جائیں۔
اہل السـ،ـنّۃ والجماعۃ کا جہاں تک تعلق ہے تو ہمارا رافضـ،ـیوں سے دور دور کا بھی کوئی رشتہ نہیں ہے اور ہم ان سے ذرہ برابر قریب بھی ہونا نہیں چاہتے بلکہ اگر اس سے بھی کم پیمانہ ہو تو ہم اس کے برابر بھی ان سے ہم آہنگی اور نزدیکی کے خواہاں نہیں ہیں کیونکہ رافـ،ـضی یہـ،ـود و نصـ،ـاریٰ سے بھی بڑھ کر دین اسلام کے لئے ضرر رساں ہیں اور ہم بحیثیتِ مسلمان ان پر ذرہ برابر بھی بھروسہ نہیں کر سکتے اور مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ ان کو محتاط انداز میں دیکھا کریں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے
هُمُ العَدُوُّ فَاحذَرهُم قـٰتَلَهُمُ اللَّهُ أَنّىٰ يُؤفَكونَ
٤ سورة المنافـ،ـقون
''یہی حقیقی دشـ،ـمن ہیں۔ ان سے بچو اور احتیاط برتو، اﷲ تعالیٰ اُنہیں غارت کرے۔ یہ کہاں بہکائے جاتے ہیں۔''
شیـ،ـعہ روافـ،ـض کا نسب نامہ عبد اﷲ بن سبایہـ،ـودی سے جا کر مل جاتا ہے اور ابولـ،ـؤلؤ مجـ،ـوسی کا ان کے بانیوں میں شمار ہوتا ہے۔
عبیداللہ انور
منقول