21/08/2025
۔۔۔۔۔۔۔اور کچھ نہیں ہوا
کرنل سلطان
(کرنل امام شہیدرحمہ اللہ تعالی)
حضرت مولانا محمد اکرم اعوان کے ساتھ میرا پہلا رابطہ 1981ء میں ہوا۔حضرت کی جس صفت سے میں بے حد متاثر ہوا،وہ آپ کا قرآنی آیات کی تشریح کا ایک منفرد طرزِ بیان تھا۔حضرت کا معمول ہے کہ آپ منبر پر تشریف رکھتے ہی قرآن شریف اٹھاتے ہیں۔ایک دفعہ چومتے ہیں اور جدھر سے کھل جائے تلاوت کر کے بیان شروع کر دیتے ہیں۔آپ کا بیان ہمیشہ ہی نہایت فصیح مدلل اور تقریب کی عین مناسبت سے ہوتا ہے۔میں نے کبھی بھی حضرت کو ورق گردانی کرتے یا کوئی مخصوص سورت یا آیت کی تلاش میں ورق پلٹتے نہیں دیکھا۔حالانکہ قرآن شریف کا نسخہ عموماًمقامی مسجد یا رہائش گاہ کا ہوتا ہے۔مجھ سے نہ رہا گیااور موقع پا کر پوچھ لیا،حضرت نے نہایت مختصر جواب دیا کہ"یہ زندہ کتاب(قرآن عظیم الشان) ہے اور وہاں سے کھلے گی جہاں پڑھنے والے کی نیت ہو گی۔حضرت کا یہ امتیازی طرزِ بیان ایک زندہ کرامت ہے حضرت کے حکم کے مطابق آپ کا بیان آپ کی طرزِگفتار کے عین مطابق،حرف بحرف لکھا جاتا ہے۔خواہ اس میں اردو ادب کی غلطیاں ہی کیوں نہ ہوں۔یہ جسارت عہدِ حاضر کا کوئی عالمِ دین ہی کر سکتا ہے۔ذیل میں دو واقعات کا ذکر کروں گا جن کا تعلق فقط میری ذات سے ہے۔
پہلا واقع 1994 ء کا ہے۔میں اُن دنوں افغانستان کے مغربی شہر ہرات میں کونسل جنرل تھا۔مجھے حکومت کی طرف سے احکام ملے کہ پاکستان اور ترکستان کے مابین تاریخی راستے پر پہلے تجارتی قافلے کی قیادت کروں۔یہ قافلہ کوئٹہ میں تیار ہوا۔جہاں سے قندھار اور ہرات سے ہو کر بخارا(ازبکستان) اور اشک اباد(ترکمانستان)تک جانا تھا۔اور راستے میں آٹھ بڑے شہروں کے تخائف لے جانے تھے۔افغانستان میں خانہ جنگی کی وجہ سے مرکزی حکومت کا عمل دخل نہیں تھا۔اسلئے مجھے مقامی لوگوں سے رابطہ کرنا پڑا۔تاکہ قافلہ بحفاظت گزر سکے۔انہی دنوں افغانستان میں طالبان کی اسلامی تحریک معرض وجود میں آئی تھی۔جس کا مرکز قندھار شہر کے اطراف میں تھا،اس سلسلے میں مجھے ملا محمد عمر سے بھی ملنا پڑا۔حضرت ملا صاحب نے مشورہ دیا کہ قافلہ چند دن تاخیر سے چلے،کیونکہ قندھار کے اطراف میں جنگ کا خطرہ تھا۔اس کے برعکس حکومتِ پاکستان کی خواہش تھی کہ کارواں یکم نومبر کو اشک آباد پہنچے۔کیونکہ وہاں ترکمانستان کا یوم منایا جا رہا تھااور بیشتر سربراہان مملکت مدعو تھے۔مجبوراًمجھے قافلے کو 31 اکتوبر چلانا پڑا۔اور خدشات کے عین مطابق قندھار شہر کے مضافات میں سابقہ کمیونسٹ میلٹینٹ communist militant ،کے لوگوں نے روک لیا۔جن کی مدد کچھ مقامی مجاھدین بھی کر رہے تھے۔یہ لوگ طالبان کے مخالف تھےاور پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کی وجہ سے اشتعال میں تھے۔وہ حکومتِ پاکستان پر طالبان کی مدد کرنے کا الزام لگا رہےتھے۔حالانکہ اس وقت تک حکومت پاکستان کو طالبان کے بارے میں کچھ پتہ نہیں تھا۔بہر کیف میں نے اپنے سابقہ تعلقات کا سہارا لیتے ہوئے ان لوگوں کے ساتھ مزاکرات کئےجس سے ان کے غصہ میں کمی ہوئی۔مگر وہ قافلےکو کسی حالت میں چھوڑنے پر راضی نہیں تھےاور نہایت سختی سے اپنے موقف پر قائم تھےآخر کار میں قافلے سے دست بردار ہو کر قندھار پہنچااور حکومتِ پاکستان کو صورتحال سے آگاہ کردیا۔اسی کے ساتھ کوشش جاری رکھی کہ قافلے میں شامل تقریبا 100 افراد کو کسی قسم کا نقصان نا پہنچے۔
میں نے غلط فہمیاں دور کرنے کے لئے ہر چارہ آزمایا اور حکومت پاکستان کے قافلے کو اس طرح روکنے کے دیگر مضمرات سے افغانوں کو آگاہ کیا۔تین دن کے لگاتار رابطے سے صرف اتنی کامیابی ہوئی کہ تمام افراد اور گاڑیوں کو یکجا رکھنے کی یقین دہانی ہو گئی۔لیکن قافلے کی رہائی کا کوئی امکان نظر نہ آیا۔مجھے یہ اطلاع ملی کہ قافلے کے افراد کو طالبان کے خلاف جنگ میں ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔چوتھے دن میں بالکل مایوس ہو گیا۔کیونکہ ان حالات میں حکومت پاکستان بھی کسی قسم کی کاروائی حالات کو مزید بگاڑ دیتی۔جب ساری امیدیں ختم ہو گئیں۔تو مجھے خیال آیا کہ حضرت مولانا کو ضرور اطلاع کرنی چاہئے۔خوش قسمتی سے میرے پاس سیٹیلائٹ ٹیلی فون تھا۔رابطہ کیا تو پتہ چلا کہ حضرت منارہ سے اسلام آباد چلے گئے ہیں اور رات کو واپسی ہو گی رات کو رابطہ ہوا۔میں نے تمام حالات سے حضرت کو آگاہ کیا اور ساتھ ہی یہ بھی وضاحت کی کہ حالات اتنے بگڑ چکے ہیں کہ ان کا سلجھانا کسی کے بس میں نہیں ہے۔پورا قافلہ چار دن سے میدانِ جنگ میں رکا ہوا ہےجس کے دونوں طرف فریقین ہر قسم کے اسلحہ سے لیس ہیں۔حضرت نے پوری بات توجہ سے سنی اور فرمایا کہ فکر مت کرو سب ٹھیک ہو جائے گا۔میرے لئے اتنا جواب اطمینان بخش تھا۔لیکن میں نے بے صبری سے مزید پوچھا کہ حضرت کب تک حالات ٹھیک ہوں گے جواب ملا کہ دو دن کے اندر اور حضرت نے دعائیہ الفاظ کے ساتھ ٹیلی فون بند کر دیا۔میں پوری رات سوچتا رہا کہ حالات ٹھیک تو ہو جائیں گے مگر کس طرح ۔
مجھے کوئی ایسا طریقہ یا حل نظر نہیں آ رہا تھاجس سے حالات ٹھیک ہوجائیں اور قافلہ صحیح سالم مخالفین کے نرغے سے نکل آئے۔اس کے ساتھ ہی طالبان نے پیش قدمی شروع کر دی تو مخالفین نے قافلے کو فائر کی زد میں لا کر سامنے کھڑا کر دیا جونہی طالبان نے لڑائی کا آغاز کیا تو پہلی گولی کے ساتھ ہی مخالفین بد حواس ہو گئےاور قافلے کو چھوڑ کر فرار ہو گئے۔میں جب قافلے کے پاس پہنچا تو دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ تمام گاڑیاں اور افراد صحیح سلامت ہیں۔ایک دن آرام کرنے کے بعد قافلہ منزل مقصود کی طرف چل پڑا۔اور اس کے بعد واپسی تک مکمل خیریت رہی۔میرے ساتھی افسران حیران تھے۔اور پوچھتے تھےکہ یہ صاحب کون ہیں جنہوں نے اطمینان سے دودن کا عرصہ بتایا اور قافلہ دو دن کےبعد بغیر کسی نقصان کے آزاد ہو گیا یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ ظہور پزیر ہونے کے بظاہر کوئی امکان نہیں تھا۔۔
دوسرا واقعہ 1998ء کا ہے جب حکومت ایران نے اپنی تمام افواج افغانستان کی مغربی سرحدوں پر لا کھڑی کیں اور کسی بھی وقت ایک نہایت ہی خونریز جنگ کا خطرہ تھا۔میں اپنے دفتر میں سٹاف کے ساتھ ہرات میں موجود تھا ۔مجھے حکام بالا نے واضح کر دیا کہ خطرے کی صورت میں تمام عملے کو بخفاظت نکالنا میری ذاتی صوابدید پر ہو گا یہ ایک اور خطرناک صورتحال تھی اور دن بدن اشتعال انگیزی میں اضافہ ہوتارہا تھا۔
ہم لوگ دن رات طرح طرح کے منصوبے بناتے۔
جیسا کہ ہرات پاکستانی سرحد سے کافی دور تھا۔اور زمینی راستہ ایسے حالات میں استعمال کرنا نہایت خطرناک ہو سکتا ہے۔اور لڑائی کی صورت میں ہوائی راستہ بھی مکمل بند ہوسکتا ہے۔ایک دن مے نے فیصلہ کیاکہ حضرت مولانا صاحب کو صورتحال سے آگاہ کروں ٹیلی فون کیا تو پتہ چلا حضرت پیشاور میں ہیں۔وہاں کا نمبر تلاش کیا اور آخر کار حضرت کے موبائل ٹیلی فون پر رابطہ ہو گیا۔حضرت نے پوری تفصیل سنی اور فرمایا کہ تم نے اطلاع کر کے اچھا کیاہے۔فکر مت کرو کچھ نہیں ہو گا اس "کچھ نہیں ہو گا" کا مفہوم سمجھنے سے میں قاصر رہا ۔ایک ہمسایہ ملک کے تمام سفارتکار مزار شریف میں مارے گئے۔اور وہ انتہائی غصے کی حالت میں اپنی 2 لاکھ سے زائد فوج لے کر سرحد پر چڑھ آیا ہو اور نہایت خطرناک دھمکیاں بھی دے رہا ہو تو کس طرح یقین آ جائے کہ کچھ نہیں ہو گا۔
تاریخ گواہ ہے کہ کچھ نہیں ہوا۔
حالات کچھ ایسے بن گئے،کوئی بھی خطرہ ہم تک نہ پہنچ سکا۔