01/11/2026
یہ گھر گرمیوں میں ٹھنڈے سردیوں میں گرم ہوتے تھے ایسے گھر سکون دہ ہوتے تھے جب تک ایسے گھر آباد رہے لوگوں میں اتفاق تھا محلے بھی آباد تھے ایک دوسرے کی خوشیوں اور دکھوں کی خبر ہوتی تھی ان کمروں میں باہر سے آنے والی ہر آواز کسی بھوکے کی فریاد محلے میں خوشیوں کے گیت غمی میں رونے کی آواز صاف سنائی دیتی تھی انسان فوراً بھاگ کے جاتا تھا مسجد سے اعلان اذان سب صحیح سے سنائی دیتی تھی جب سے پکے بند کمرے بنائے باہر کی خبر ہی نہیں رہی جس سے ہمارے آس پاس کے گھرانوں سے بھی لاتعلقی ہوتی گئی آج پکے مکانات تو بنا لیئے لیکن احساسات رشتے سب ختم کر لیئے یہ دور کتنا اچھا دور تھا سب اپنے اپنے لگتے تھے اب بس پیسہ سٹیٹس اور آرٹیفیشل تعلقات اور خوبصورتی رہ گئی ہے ۔
تحریر ✍️ سانول آف نورا شریف بھکر
وسدے دیہات