بلاگرز کی ڈائری

بلاگرز کی ڈائری اہلِ دل، اہلِ سخن، اہلِ نظر، اہلِ وفا
ان کے خد و خال کا نقشہ جماتا ہے قلم
(2)

"مجھے اپنا نام و نشاں ملے" آہ ۔۔ ایک بار پھر صنف نازک پہ وار۔۔ایک اور دل خراش واقعہ...! ابھی کچھ دن گزرے نہ تھے  معصوم u...
09/06/2026

"مجھے اپنا نام و نشاں ملے"
آہ ۔۔ ایک بار پھر صنف نازک پہ وار۔۔ایک اور دل خراش واقعہ...! ابھی کچھ دن گزرے نہ تھے معصوم uv ملازمہ کی کہانی کو سب رو رہے تھے کہ ایک اور درد ناک کہانی سامنے آجاتی ہے۔۔پہ در پہ صنف نازک پر وار، ہمارے معاشرے میں سب سے سستا جرم بن چکا ہے ۔ڈاکٹر ماہ نور کا واقعہ کوئ ایک خبر نہیں بلکہ اس طرح کے ہزاروں تیزاب گردی کے واقعات آئے دن اس ملک میں پیش آتے رہتے ہیں ،کبھی اقتدار کے نام پر تو کبھی عزت کے نام پر، معاشرے کے بھیڑیے نما انسان اقدام جرم کر کے فرار ہوجاتے ہیں اور قانون کے ہاتھ ان تک بہت ہی کم پہنچ پاتے ہیں یا بعض اوقات مجرم دندناتے پھرتے ہیں۔۔ میڈیا ،خبریں ،حقوق و نسواں کے نعرے لگانے والی تنظیمیں فقط چند گھنٹوں کے نعرے لگوا کر خاموش ہوجاتے ہیں ۔ایک اعداد و شمار کے مطابق 2021 سے 2025 کے درمیان پاکستان میں عورتوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کے کیس میں 1لاکھ ستر ہزار سے زائد وارداتیں ریکارڈ ہوئیں ،جس میں عزت کے نام پر قتل، اغوا تشدد،زیادتی ،وراثت اور تقریباً 2 سو سے زائد تیزاب گردی کے واقعات شامل ہیں ۔ ایسے کئی واقعات گاہے بگاہے ہمارے ملک میں سالوں سے پیش آتے رہے ہیں اور اکثر تو خبروں میں لائے بھی نہیں جاتے۔ یوں تو یہاں پر عورتوں کے حقوق کے لیے عالمی سطح تک کے فورمز رائج ہیں بڑے پیمانے پر فنڈنگ ،کانفرنس منعقد کیے جاتے ہیں مگر جب بھی کوئی اس طرح کا سنگین واقعہ پیش آتا ہے تو نہ حقائق سامنے آتے ہیں نہ ہی مجرم کو کیفر کردار تک پہنچایا جاتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قرآن و سنت کی بالا دستی ہوتی تو آج ان
جیسے واقعات پیش آنے کی نوبت ہی نہ آتی ڈاکٹر جیسا عظیم و معتبر پیشہ جو انسانی جانوں کا مسیحا ہوتے ہیں ان پر کیے گئے ایسے مظالم کسی بھی صورت قابل معافی نہیں ہیں۔۔اور یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ بھی ہے کہ کل کو ہماری نسلوں میں سے بہن بیٹیاں ،مستقبل میں اپنے فرائض سر انجام دینے کے لیے گھروں سے نکلتی ہیں۔ تو کیا ان کی عزت اور جان محفوظ ہے یا نہیں۔
ان کی حفاظت کا ذمہ دار کون ہے۔
(ماریہ حسان اورنگی)



ا

گھریلو چائلڈ لیبر اور کھویا ہوا بچپن  صبح کی چائے پیتے ہوئے میرا آج کا بلاگ۔۔۔۔اور آج  میری اصل مخاطب وہ پاکستانی خواتین...
03/06/2026

گھریلو چائلڈ لیبر اور کھویا ہوا بچپن

صبح کی چائے پیتے ہوئے میرا آج کا بلاگ۔۔۔۔اور آج میری اصل مخاطب وہ پاکستانی خواتین ہیں جو اپنے اپنے گھروں کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں۔یہ بلاگ ایک اجتماعی سوچ پر غور کرنے کی دعوت ہے کہ ہم اپنے گھروں کو آسان بنانے کے دوران کہیں کسی اور کے بچپن کو مشکل تو نہیں بنا رہے۔
چائلڈ لیبر کی بات ہو تو اکثر ذہن میں فیکٹریاں، ورکشاپس اور بھٹے آتے ہیں، مگر پاکستان میں اس کی ایک اور شکل بھی ہے جو نسبتاً نظروں سے اوجھل رہتی ہے: گھریلو چائلڈ لیبر۔ ہزاروں کم عمر بچے ، بچیاں دوسروں کے گھروں میں برتن دھونے، صفائی کرنے، بچوں کی دیکھ بھال کرنے اور دیگر گھریلو کام انجام دینے پر مجبور ہیں۔ ان میں سے بہت سے بچے ایسے ہیں جن کی عمر سکول جانے، کھیلنے اور اپنے والدین کی شفقت میں پروان چڑھنے کی ہوتی ہے۔
تاریخ پر نظر ڈالیں تو یورپ میں بھی ایک وقت ایسا تھا جب غریب خاندانوں کے بچے اور بچیاں امیر گھروں میں نوکر یا خادم کے طور پر کام کرتے تھے۔ صنعتی انقلاب کے دور میں یہ ایک عام منظر تھا۔
برطانوی ناول نگار چارلس ڈکنز نے اپنے مشہور ناولوں میں ان بچوں کی زندگیوں کی ایسی تصویریں پیش کیں کہ معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔وقت کے ساتھ ترقی یافتہ ممالک نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ بچوں کی جگہ مزدوری کی منڈی ، فیکٹریاں ، میں نہیں بلکہ سکول اور گھر میں ہے۔ لازمی تعلیم، بچوں کے تحفظ کے قوانین، سماجی بہبود کے پروگراموں اور سخت نگرانی کے ذریعے انہوں نے بچوں سے مشقت لینے کے رجحان کو بڑی حد تک ختم کر دیا ۔ اب اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو پاکستان میں مسئلہ صرف غربت کا نہیں بلکہ سماجی رویوں کا بھی ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ ایک کم عمر بچی کو اپنے گھر میں کام کرتے دیکھ کر اسے معمول سمجھ لیتے ہیں۔ شاید ہم یہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ اگر یہی بچی ہماری اپنی بیٹی ہوتی تو کیا ہم اس کے لیے یہی زندگی پسند کرتے؟ ایک بچی جو صبح سے شام تک دوسروں کے گھروں میں کام کرتی ہے، وہ نہ صرف تعلیم سے محروم رہتی ہے بلکہ بچپن کی خوشیوں، تحفظ اور عزتِ نفس سے بھی محروم ہو جاتی ہے۔
ہاں ٹھیک ہے اس مسئلے کا حل قانون سازی ہے، اس کے لیے قانون سازی ہونی چاہیے ۔ ریاست ہر بچے کے لیے معیاری اور مفت تعلیم کو یقینی بنائے غریب خاندانوں کی مالی مدد کرے اور غریبی چائلڈ لیبر کے خلاف قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم سب کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔ جب تک لوگ کم عمر بچوں کو ملازم رکھنے کو قابل قبول سمجھتے رہیں گے یہ مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔ قانون بھی اس مسئلے کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکے گا۔ تبدیلی اس دن شروع ہوگی جب ہم دوسروں کے بچوں کو بھی وہی بچپن دینے کی خواہش رکھیں گے جو ہم اپنے بچوں کے لیے رکھتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ خواتین اپنے گھریلو نظم و نسق کو اس انداز میں منظم کریں کہ غیر ضروری طور پر بچوں پر کام کا بوجھ نہ ڈالا جائے اور نہ ہی گھریلو چائلڈ لیبر کو معمول سمجھا جائے۔ آسانیاں پیدا کرنا اپنی جگہ اہم ہے، مگر یہ آسانیاں کسی بچے کے حقِ تعلیم، اس کے بچپن اور اس کے تحفظ کی قیمت پر نہیں ہونی چاہییں۔۔حالیہ دنوں میں لاہور سے ایک کم عمر لڑکی کے بارے میں سامنے آنے والی خبروں نے مجھے گہری بے چینی میں مبتلا کر دیا۔ ایک بچی، جس کی عمر خواب دیکھنے، تعلیم حاصل کرنے اور ایک محفوظ بچپن گزارنے کی تھی، ایسے حالات کا شکار ہوئی جن کا بوجھ کسی بچے کے نازک کندھوں پر نہیں ہونا چاہیے۔ اس واقعے نے مجھے ایک بار پھر سوچنے پر مجبور کیا کہ ہم آخر اپنے بچوں کو کس قسم کا معاشرہ دے رہے ہیں؟ ایک ایسا معاشرہ جہاں غربت، استحصال، بے بسی اور خاموشی اکثر بچوں کے مقدر کا حصہ بن جاتے ہیں۔کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان اس کی بلند عمارتیں یا ترقی یافتہ معیشت نہیں بلکہ اس کے بچے ہوتے ہیں۔ جس دن پاکستانی خواتین یہ سمجھ جائیں گی کہ ایک بچی کے ہاتھ میں جھاڑو نہیں بلکہ کتاب ہونی چاہیے، اسی دن اس مسئلے کے حقیقی حل کی طرف پہلا قدم اٹھ جائے گا۔
ہما عدیل

ٹیکسوں کی بھرمار سہولتوں کا فقداناز طلعت نفیسکراچی کا عام شہری آج ایک عجیب دوراہے پر کھڑا ہے۔ یہ پاکستان کا معاشی حب اور...
02/06/2026

ٹیکسوں کی بھرمار سہولتوں کا فقدان
از طلعت نفیس

کراچی کا عام شہری آج ایک عجیب دوراہے پر کھڑا ہے۔ یہ پاکستان کا معاشی حب اور سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا شہر ہے ایک طرف مہنگائی کا طوفان ہے اور دوسری طرف ٹیکسوں کی بھرمار۔ ۔ بجلی کے بل میں ٹیکس یونٹ سے زیادہ ٹیکس گیس کے بل میں ٹیکس، موبائل ریچارج پر ٹیکس، پٹرول پر ٹیکس خریداری پر ٹیکس، حتیٰ کہ روزمرہ استعمال کی اشیاء بھی مختلف ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں۔

مگر سوال یہ ہے کہ ان بے شمار ٹیکسوں کے بدلے عوام کو کیا مل رہا ہے؟

شہروں کی سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں، سیوریج کا نظام تباہ حال ہے، پینے کا صاف پانی نایاب ہے، سرکاری اسپتالوں میں ادویات کی کمی ہے، سرکاری اسکول بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں اور بجلی و گیس کی لوڈ شیڈنگ معمول بن چکی ہے۔ عوام جتنا زیادہ ٹیکس دیتے ہیں، اتنا ہی خود کو سہولتوں سے محروم محسوس کرتے ہیں۔

کراچی جیسے بڑے شہر کی حالت اس تضاد کی واضح مثال ہے۔ ایک طرف شہری بھاری بل ادا کر رہے ہیں، دوسری طرف گلیاں گندگی سے بھری ہوئی ہیں، نالے ابل رہے ہیں، ٹریفک کا نظام درہم برہم ہے اور اسٹریٹ کرائمز نے لوگوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سترہ سال سے قابض لٹیرےصرف وصول کرنا جانتے ہیں ۔

غریب اور متوسط طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ ایک مزدور اپنی محدود آمدنی سے گھر کا خرچ پورا کرے، بچوں کی فیس دے، علاج کروائے یا ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا رہے۔ ایک تنخواہ دار شخص مہینے بھر کی محنت کے بعد جب تنخواہ وصول کرتا ہے تو مختلف کٹوتیوں کے بعد اس کے ہاتھ میں اتنی رقم بھی نہیں بچتی کہ وہ سکون سے اپنے گھر کے اخراجات پورے کر سکے۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں عوام ٹیکس اس لیے دیتے ہیں کہ انہیں بہتر تعلیم، معیاری صحت، محفوظ سڑکیں صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولتیں عوام کا حق ہیں۔ مگر یہاں صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ عوام سے وصولیاں تو پوری کی جاتی ہیں، مگر ان کے مسائل حل کرنے میں سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی۔

عوام خیرات نہیں مانگ رہے وہ اپنا حق مانگ رہے ہیں۔ اگر ریاست ٹیکس وصول کرتی ہے تو اس کوجوابدہی کا خوف ہونا چاہیے۔
وقت آ گیا ہے کہ عوامی وسائل کو عوام کی فلاح پر خرچ کیا جائے۔ ٹیکسوں کی بھرمار کے ساتھ ایک مضبوط اور صالح نظام حکومت قائم کیا جاۓ۔تاکہ
مدینے جیسی اسلامی اور فلاحی ریاست قائم ہو سکے۔

یومِ تکبیر  پاکستاناز: شگفتہ جہاں  کراچی 28 مئی کا دن پاکستانی تاریخ میں محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ملکی بقا، غیرت اور دفاع...
29/05/2026

یومِ تکبیر پاکستان
از: شگفتہ جہاں کراچی

28 مئی کا دن پاکستانی تاریخ میں محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ملکی بقا، غیرت اور دفاعی خودمختاری کا وہ استعارہ ہے جس نے دنیا کے نقشے پر پاکستان کے وجود کو ہمیشہ کے لیے ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔ آج سے اٹھائیس سال قبل، 28 مئی 1998 کو چاغی کے سنگلاخ پہاڑوں پر ہونے والے چھ ایٹمی دھماکوں نے نہ صرف فضا کو "اللہ اکبر" کے نعروں سے گونجا دیا، بلکہ بین الاقوامی طاقتوں کے اس غرور کو بھی خاک میں ملا دیا جو خطے کا توازن بگاڑنا چاہتے تھے۔ یہ وہ تاریخی دن ہے جسے ہم "یومِ تکبیر" کے نام سے مناتے ہیں، جو ہماری قومی تاریخ کا ایک درخشاں ترین باب ہے۔
اس ایٹمی سفر کا پسِ منظر دیکھا جائے تو یہ کسی ایک دن کی کہانی نہیں، بلکہ دہائیوں پر محیط لازوال قربانیوں، سائنسی مہارت اور غیر متزلزل سیاسی و عسکری عزم کا نچوڑ ہے۔ 1974 میں جب پڑوسی ملک نے ایٹمی دھماکہ کر کے خطے میں طاقت کا توازن بگاڑا، تو پاکستان کے پاس دو ہی راستے تھے: یا تو وہ مستقل خوف کے سائے میں جینا قبول کر لے، یا پھر اپنی بقا کے لیے ایک کٹھن سفر کا آغاز کرے۔ پاکستان نے دوسرے راستے کا انتخاب کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے پختہ عزم، ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کے رفقاء کی شبانہ روز محنت، اور بعد ازاں میاں محمد نواز شریف کے بیرونی دباؤ کو مسترد کرنے کے دلیرانہ فیصلے نے پاکستان کو مسلم امہ کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بنا دیا۔
یومِ تکبیر دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ جب کوئی قوم اپنی آزادی اور خودمختاری پر سمجھوتہ نہ کرنے کا فیصلہ کر لے، تو دنیا کی کوئی بھی طاقت اس کے سامنے رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ 1998 میں پاکستان پر شدید معاشی پابندیوں کے مہیب سائے منڈلا رہے تھے، اربوں ڈالر کی امداد کے لالچ دیے گئے اور دھمکیاں بھی دی گئیں، لیکن قوم اور قیادت نے معاشی تنگی پر قومی وقار کو ترجیح دی۔ چاغی کے پہاڑوں کا سفید رنگ میں بدلنا اس بات کا اعلان تھا کہ اب پاکستان کی طرف کوئی بھی میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ یہ دھماکے کسی جارحیت کے لیے نہیں، بلکہ خطے میں پائیدار امن کے قیام اور توازنِ طاقت کے لیے ناگزیر تھے۔
آج جب ہم 28 مئی کے اس تاریخی دن کو یاد کرتے ہیں، تو یہ موقع صرف جشن منانے کا نہیں بلکہ گہرے قومی محاسبے کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ جس ملک کے جری سائنسدانوں نے تمام تر عالمی دباؤ، پابندیوں اور وسائل کی کمی کے باوجود دنیا کا پیچیدہ ترین دفاعی نظام تیار کر کے قوم کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا، وہ ملک آج معاشی محتاجی، سیاسی عدم استحکام اور سماجی انتشار کی زد میں کیوں ہے؟ یومِ تکبیر کا اصل پیغام یہی ہے کہ بیرونی محاذ پر تو ہم ایٹمی طاقت بن کر محفوظ ہو چکے، لیکن اندرونی محاذ پر ہمیں اب ایک معاشی اور فکری "چاغی" کی ضرورت ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ہم اسی پرانے جذبے، بے لوث اتحاد اور یکسوئی کو دوبارہ بیدار کریں۔ اگر ہم دفاعی میدان میں دنیا کو حیران کر سکتے ہیں، تو معاشی، تعلیمی اور سماجی میدانوں میں معجزے کیوں نہیں دکھا سکتے؟ آج کے دن ہمیں ذاتی اور سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم مل کر ایک ایسا پاکستان بنائیں گے، جس کا دفاع جتنا مضبوط ہے، اس کی معیشت، انصاف کا نظام اور عوام کا مستقبل بھی اتنا ہی مستحکم اور روشن ہو۔

25/05/2026

عیدِ قربان ۔۔۔۔۔
قربانی صرف جانور کی یا اپنی نفسانی خواہشات کی بھی؟

عیدالاضحیٰ محض ایک مذہبی تہوار نہیں بلکہ بندگی، اطاعت اور مکمل سپردگی کا عظیم درس ہے۔ مسلمان اللہ تعالیٰ کے حضور جانور قربان کرکے حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی بے مثال فرمانبرداری کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ یہ عمل اس عہد کی تجدید ہے کہ ہم بھی اپنی ہر محبوب شے ... خواہشات، مال، رشتے، محبتیں، صلاحیتیں اور اپنی انا ۔۔۔
اللہ کی رضا پر قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ہم اس قربانی کی روح کو سمجھتے ہیں؟ کیا ہم اپنے معاشرے میں اس قربانی کی کوئ جھلک دیکھتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترجیح دے کر اپنی خواہشات کو ختم کیا جائے ؟؟؟؟؟
کیا ہم اپنی زندگی میں اللہ کے حکم کو اپنی خواہشات پر ترجیح دیتے ہیں؟
کیا ہم حلال و حرام، سچ اور جھوٹ، انصاف اور ذاتی مفاد کے درمیان فیصلہ کرتے وقت ابراہیمی جذبہ دکھاتے ہیں؟

افسوس کہ اکثر اوقات ہمارے لئے قربانی صرف رسم بن کر رہ جاتی ہے۔ جانور تو ذبح ہوجاتا ہے مگر نفس کی خواہشات، تکبر، لالچ اور خود غرضی زندہ رہتی ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کو نہ گوشت پہنچتا ہے نہ خون، بلکہ بندے کا تقویٰ اور اخلاص مقبول ہوتا ہے۔

عیدِ قرباں ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سچی قربانی صرف جانور کی نہیں بلکہ اپنی من مانی خواہشات کو اللہ کے حکم کے تابع کرنے کا نام ہے۔ ہرقدم پر اپنی مرضی ، اپنے فیصلے مسلط کرنے کے بجائے جب تک ہماری زندگیوں میں اطاعت، ایثار اور خدا کی محبت سب سے بلند نہیں ہوگی، تب تک قربانی کا اصل مقصد مکمل نہیں ہوسکتا۔

https://whatsapp.com/channel/0029VbCHU2dC1FuApIkNQr44/1045




کسان، ملکی معیشت کا اہم کردار         میرے کسان تجھے سلام !       ہم نے بچپن سے ہی یہ جملہ پڑھا اور سنا ہے کہ پاکستان ای...
02/05/2026

کسان، ملکی معیشت کا اہم کردار


میرے کسان تجھے سلام !
ہم نے بچپن سے ہی یہ جملہ پڑھا اور سنا ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ ایک ایسا ملک جس کی خوشحالی کھیتوں کی ہریالی سے جڑی ہے، مگر افسوس اس زرخیز زمین کے اصل معمار ، وہ کسان جن کے ہاتھوں کی محنت سے یہ سرزمین لہلہاتی ہے۔ آج خود حالات کے بوجھ تلے پس رہے ہیں۔ بڑے دکھ کی بات ہے کہ کسان٫ جس کے خون پسینے سے کھیت آباد ہوتے ہیں۔ وہ آج کسمپرسی کی تصویر بنا ہوا ہے، جو پورے ملک کے لیے رزق اگاتا ہے۔ اس کے اپنے ہاتھ خالی ہیں اور اس کے گھر کے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں۔ یہ کیسا دردناک منظر ہے کہ جو دوسروں کی بھوک مٹاتا ہے وہی اپنی بھوک سے نڈھال ہے۔ جس کے دم سے زمین زرخیز ہے۔ اس کی اپنی زندگی بنجر ہے۔
پاکستان اس وقت تک خودکفیل نہیں ہو سکتا، جب تک زراعت کو ترقی نہ دی جائے اور زراعت تب تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک کسان کی حالت زار کو بہتر بنانے کے حکومتی اقدامات نہ کئے جائیں۔
اس سلسلے میں کسان کے کچھ مسائل کا ذکر بہت ضروری ہے۔
موجودہ موسمی تغیرات نے بھی کسان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ جن سے فصلوں کو بہت نقصان پہنچتا ہے۔ کبھی بے وقت بارشیں، کبھی طویل خشک سالی، تو کبھی شدید گرمی کی لہریں، یہ سب اس کی محنت سے اگائی ہوئی فصلوں کو پل بھر میں تباہ کر دیتی ہیں۔
کسان جدید تعلیم سے محروم ہیں۔ جس سے ان کی زندگی میں مزید دشواری ہو گئی ہے۔
حکومت نے نہ صرف زرعی ٹیکس لگا رکھا ہے، بلکہ ذراعت سے متعلق اشیاء کو بھی مہنگا کر دیا ہے۔کسان مہنگائی کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں۔ چنانچہ مہنگائی سے پریشان کسان کھیتی باڑی کی بجائے اپنی زمینیں فروخت کر کے شہر کا رخ کر رہے ہیں۔ اگر یہی حالات رہے تو ملکی زرعی صورتحال بالکل ٹھپ ہو جائے گی۔
وہ کسان جو رات دن کی انتھک محنت سے فصل اگاتا ہے۔ وہ اپنی فصل کو براہ راست منڈی میں نہیں بیچ سکتا کیونکہ ایک ایسا نظام اس کی گردن میں لپٹا ہوا ہے کہ وہ مڈل مین کے ہاتھوں سستے داموں اپنی فصل کو فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور اس کی محنت کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی۔
حکومت کو چاہئے کہ محض نعروں اور دعوؤں پر اکتفا نہ کرے، بلکہ کسان کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات بھی کرے کیونکہ کسان کی حالت سنورنے سے ہی پورا وطن خوشحالی کی چادر اوڑھے گا۔
بنت اسماعیل

نادیہ احمد*مزدور دشمن نظام کب بدلے گا*یہ ایک حقیقت ہی کہ  وہ مزدور جو کسی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے...
30/04/2026

نادیہ احمد
*مزدور دشمن نظام کب بدلے گا*
یہ ایک حقیقت ہی کہ وہ مزدور جو کسی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ،صدیوں سے ناانصافی کی چکی میں پستا آ رہا ہے۔ اسی ناانصافی کے خلاف سن 1886 میں ایک عظیم الشان مظاہرے اور جلوس کی صورت میں ، شکاگو کی سڑکوں پر ، مزدوروں نے اپنے حقوق کے لئے پرامن مظاہرہ کیا۔ اس پرامن مظاہرے پر سرمایہ دارانہ ریاست کے رکھوالوں نے گولیاں چلائیں اور شکاگو کی وہ سڑک لہو لہان ہو گئی ۔ سینکڑوں مزدور لقمہ اجل بن گئے۔ ان مزدوروں نے شکاگو کی سڑک پر بہنے والے خون میں اپنے سفید پرچم کو ڈبو کر اپنا سرخ پرچم بنا لیا۔ اس کے بعد سے ہر سال یکم مئی کو مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہےچھٹی منائی جاتی ہے۔

لیکن !کیا کسی کو احساس ہے کہ ان کی قربانیوں کے بعد ان کے حقوق کے حصول کا جو سفر شروع ہوا تھا وہ کہاں تک پہنچا؟
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ
معیشت سے وابستہ یہ محنت کش ، آج بھی بری طرح غربت کے پھندے میں جکڑے ہیں۔
ان مزدوروں کا استحصال کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔
ان کے حق میں آواز نہیں اٹھائی جاتی۔
ان ہی مزدور تنظیموں کے تحت یہ بھی طے پایا تھا کہ مزدوروں کے حقوق اور ان کی انجمن سازی کو قانونی حیثیت حاصل ہوگی لیکن آج یہ پوچھنا پڑتا ہے کہ مزدور انجمن اور مزدور کے حقوق کس چیز کا نام ہے؟
پاکستان جیسا ترقی پزیر ملک تو ایک طرف ، مغرب کی ترقی یافتہ اور انسانی حقوق کے علمبردار، انسانی حقوق کے احترام کا ڈھنڈورا پیٹنے والے ممالک کا بھی یہی حال ہے کہ برطانیہ جیسے ملک میں بھی کم از کم اجرت کا قانون تو طے ہو گیا لیکن اس پر عمل کا حال یہ ہے کہ سو کلو آٹے کی بوری جو مزدور اٹھا سکتا ہے وہ اسے خریدنے کی سکت نہیں رکھتا۔ یاد رکھئے! محنت کشوں یا مزدوروں کا معیشت پر احسان بھی کچھ کم نہیں جو انتہائی کم اجرتوں پر ، مہنگائی سے لڑتے لڑتے، روز جیتے اور روز مرتے ہیں۔ ایک گدھا گاڑی چلانے والا گاڑی بان اینٹیں اٹھانے والا، ہوٹل پہ کام کرتا چھوٹا اور ہمارے گھروں کے باہر بیٹھے سیکیورٹی گارڈز یہ سب وہ مزدور ہیں جو ہماری روز مرہ زندگی میں ہمارے معاون ہیں ۔لیکن کیا ہم انہیں وہ جائز حقوق دیتے ہیں جن کے یہ حق دار ہیں ۔

منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونے والوں کو اس بات کی کیا خبر کہ دو وقت کی روٹی بمشکل کمانے والے ان کے قدموں تلے زمین بھی کھینچی جا رہی ہے جس کی وجہ سے ہر روز کوئی محنت کش ذندگی کی بازی ہار جاتا ہے ۔
دل سے ایک آہ اٹھتی ہے ۔
حل صرف یہ ہے کہ باتوں سے نکل کر عمل میں آنا ہوگا اس طبقے کے جائزحقوق کے لیے کوشش کرنا ہوگی ۔
اس بار یکم مئی کو صرف چھٹی کی طرح نہ منائیں بلکہ ذرا غور کیجئےگا کسی مزدور کی آواز پہ تو اس کی سرگوشیاں یہ اعلان کرتی سنائی دیں گی

بوجھ کندھوں سے کم کر دوصاحب،
دن منانے سے کچھ نہیں ہوتا۔



#مزدور

21 اپریل علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا یوم وفات موت وہ  کہ کرے جس کا زمانہ  افسوس  ورنہ آئے ہیں سبھی دہر میں مرنے کے لئے...
22/04/2026

21 اپریل علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا یوم وفات

موت وہ کہ کرے جس کا زمانہ افسوس
ورنہ آئے ہیں سبھی دہر میں مرنے کے لئے
ایک عظیم شاعر ایک مبلغ دین کی جدائی ہم سب کے لیے ایک صدمہ ہی تو ہے لیکن ان کی پوری شاعری پوری زندگی اور شخصیت ان کے اوصاف ان کے شاعر انہ کلام بانگ درا، بال جبریل اور ان کی مختلف زبانوں میں تراجم اور اشعار ایک ایسی روشنی ایک ایسے پیغام جو اس وقت بھی مسلمانوں کے لیے تحریک تھے ۔ منظم ،متحد ہونے کا ایک جذبہ تھا ۔۔۔ اور آج بھی ان کی شاعری اسی کام کا تقاضا لیے ہوئے ہے ۔۔۔ان کی شاعری کو اگر آج کے نوجوان سمجھ جائیں تو آج بھی امت خود کو سرخ رو کر سکتی ہے۔۔ آج کے اس پر فتن دور میں ان کی شاعری اور اس میں جذبہ بیداری ، فلسفہ خودی ،جہد مسلسل ، ہمدردی ،کردار و اخلاق کی بلندی اور قرآنی احکام و مقصد حیات پر لکھے اشعار ہمارے اندر ایسی تحریک اور لگن پیدا کر سکتے ہیں جو فرد کو قوم میں تبدیل کر دے ۔۔۔ اسی اتحاد امت کی آج ضرورت ہے -
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دنیا کچھ نہیں
بالکل ایسا ہی ہے ہر سطح پر ان کی شاعری ہمارے لیے مشعل راہ تھی اور ہے ۔۔ بچوں کے لیے دیکھ لیجئے کہ کیسے چھوٹے چھوٹے اشعار لیکن کیا جامع اور موثر پیغام لیے ہوئے کہ
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
ہیں جہاں میں لوگ وہی اچھے آتےہیں جو کام دوسروں کے
جگنوں کی فریاد چھوڑ دے چھوڑ دے تو مجھے چھوڑ دے میری قید کے جال کو توڑ دے
*چمک میری دن میں نہ پاؤ گے تم اجالے میں تو وہ ہو جائے گی گم*

کتنی اچھی بات چھوٹی سی بات لیکن بچوں کے لیےکتنی موثر جیسے ایک منظر نگاہوں میں چل رہا ہو ۔۔۔بچوں کی سمجھ کے مطابق علامہ اقبال رحمہ اللہ علیہ کی شاعری سبحان اللہ!!!
بس یہی وجہ ہے کہ مجھے ان کی شاعری پسند ہے میرے اندر جو کچھ بھی ادب کی صلاحیت ہے وہ انہیں کی شاعری کی وجہ سے ہے ان کی شاعری میں شکوہ جواب شکوہ لاجواب و لازوال شاہکار ہے علامہ اقبال رحمت اللہ علیہ ایک بہت ہی اچھے مبلغ اور بہت ہی اعلی مصلح تھے ۔۔۔ ہمدرد انسان تھے وہ امت کو متحد دیکھنا چاہتے تھے اور ان کا پیغام تھا
*آئین نو سے ڈرنا طرز کہن پہ اڑ نا منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں*
آج ہمیں یہی تو مسائل درپیش ہیں ہم نے مغربی تہذیب کو اپنا کر اپنے ہی پاؤں پہ کلہاڑی مار لی ہے ۔۔
آج ہم اپنے دین سے دور ہو کر منتشر ہیں ۔۔ اللہ تعالی ہمیں اس انتشار سے بچائے ہمیں ان کے کلام کی روشنی میں رہنمائی، شعور ، ہدایت دے۔۔ ان کے اشعار کے ذریعے ہم فطرت کو سمجھیں معرفت الہی حاصل کرلیں۔۔اپنی ذات کو بہچانیں اپنے رب کو پہچانیں ۔۔اپنے رب کو نہ صرف مانیں بلکہ رب کی ہی مان کر کامیاب ہو جائیں۔۔- ان کی شاعری قرآنی احکامات اور مقصد حیات سمجھاتی ہے۔۔ امت کو ذمہ داریوں کا حق ادا کرنے کی ترغیب دیتی ہے ۔۔
ان کی شاعری اللہ کی طرف سے پوری امت کے لیے ایک تحفہ اور اثاثہ ہے !!!
میری دعا ہے کہ یہ مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو کر پوری انسانیت کیلئے ظلم و جبر سے آزادی کی نوید بن جائے ۔۔ جس سے انسانیت خواب غفلت سےجاگ اٹھے آمین

لطیف النساء

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when بلاگرز کی ڈائری posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to بلاگرز کی ڈائری:

Share