09/06/2026
"مجھے اپنا نام و نشاں ملے"
آہ ۔۔ ایک بار پھر صنف نازک پہ وار۔۔ایک اور دل خراش واقعہ...! ابھی کچھ دن گزرے نہ تھے معصوم uv ملازمہ کی کہانی کو سب رو رہے تھے کہ ایک اور درد ناک کہانی سامنے آجاتی ہے۔۔پہ در پہ صنف نازک پر وار، ہمارے معاشرے میں سب سے سستا جرم بن چکا ہے ۔ڈاکٹر ماہ نور کا واقعہ کوئ ایک خبر نہیں بلکہ اس طرح کے ہزاروں تیزاب گردی کے واقعات آئے دن اس ملک میں پیش آتے رہتے ہیں ،کبھی اقتدار کے نام پر تو کبھی عزت کے نام پر، معاشرے کے بھیڑیے نما انسان اقدام جرم کر کے فرار ہوجاتے ہیں اور قانون کے ہاتھ ان تک بہت ہی کم پہنچ پاتے ہیں یا بعض اوقات مجرم دندناتے پھرتے ہیں۔۔ میڈیا ،خبریں ،حقوق و نسواں کے نعرے لگانے والی تنظیمیں فقط چند گھنٹوں کے نعرے لگوا کر خاموش ہوجاتے ہیں ۔ایک اعداد و شمار کے مطابق 2021 سے 2025 کے درمیان پاکستان میں عورتوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کے کیس میں 1لاکھ ستر ہزار سے زائد وارداتیں ریکارڈ ہوئیں ،جس میں عزت کے نام پر قتل، اغوا تشدد،زیادتی ،وراثت اور تقریباً 2 سو سے زائد تیزاب گردی کے واقعات شامل ہیں ۔ ایسے کئی واقعات گاہے بگاہے ہمارے ملک میں سالوں سے پیش آتے رہے ہیں اور اکثر تو خبروں میں لائے بھی نہیں جاتے۔ یوں تو یہاں پر عورتوں کے حقوق کے لیے عالمی سطح تک کے فورمز رائج ہیں بڑے پیمانے پر فنڈنگ ،کانفرنس منعقد کیے جاتے ہیں مگر جب بھی کوئی اس طرح کا سنگین واقعہ پیش آتا ہے تو نہ حقائق سامنے آتے ہیں نہ ہی مجرم کو کیفر کردار تک پہنچایا جاتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قرآن و سنت کی بالا دستی ہوتی تو آج ان
جیسے واقعات پیش آنے کی نوبت ہی نہ آتی ڈاکٹر جیسا عظیم و معتبر پیشہ جو انسانی جانوں کا مسیحا ہوتے ہیں ان پر کیے گئے ایسے مظالم کسی بھی صورت قابل معافی نہیں ہیں۔۔اور یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ بھی ہے کہ کل کو ہماری نسلوں میں سے بہن بیٹیاں ،مستقبل میں اپنے فرائض سر انجام دینے کے لیے گھروں سے نکلتی ہیں۔ تو کیا ان کی عزت اور جان محفوظ ہے یا نہیں۔
ان کی حفاظت کا ذمہ دار کون ہے۔
(ماریہ حسان اورنگی)
ا