17/02/2026
ایک جنگل میں ایک بہت ہی فضول خرچ بندر رہتا تھا۔ وہ بڑا شیخی باز تھا اور ہر وقت دوسروں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔ ایک دن اسے جنگل میں ایک ٹوٹا ہوا آئینہ ملا۔ اس نے زندگی میں پہلی بار آئینہ دیکھا تھا، سو وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ کیا چیز ہے۔
جیسے ہی اس نے آئینے میں جھانکا، اسے اپنا ہی عکس نظر آیا۔ بندر سمجھا کہ یہ "دوسرا بندر" ہے جو اسے گھور رہا ہے۔
فضول خرچ بندر غصے سے بولا: "اوئے! تو کون ہے جو مجھے آنکھیں دکھا رہا ہے؟"
آئینے میں موجود عکس نے بھی ویسے ہی منہ بنایا، کیونکہ وہ خود اس کا عکس تھا۔
بندر کو مزید غصہ آ گیا۔ اس نے دانت نکالے اور چھلانگ مار کر آئینے پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ جب اس کا ہاتھ آئینے سے ٹکرایا، تو اسے درد ہوا اور آئنہ تھوڑا سا ہل کر اس کے ہاتھ سے گر گیا۔
آئینہ زمین پر گرا اور "ٹٹاخ" کی آواز کے ساتھ کئی ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ اب بندر نے دیکھا کہ ہر ٹکڑے میں ایک "دوسرا بندر" اسے گھور رہا ہے۔ وہ بہت پریشان ہوا۔
بندر نے سوچا: "یا اللہ! ایک تو پہلے ہی بہت تنگ کر رہا تھا، اب تو سینکڑوں بندر میرے دشمن بن گئے ہیں!"
جنگل کے ایک عقل مند بوڑھے بندر نے یہ سارا منظر دیکھ لیا تھا۔ وہ مسکرایا اور فضول خرچ بندر کے پاس آیا۔
بوڑھے بندر نے کہا:
"اے نادان! یہ جتنے بندر تجھے آئینے کے ٹکڑوں میں نظر آ رہے ہیں، یہ سب تو 'تو' ہی ہے۔ جب تک تو نے اپنے غصے اور جہالت کی وجہ سے خود کو ایک آئینہ سمجھ کر دیکھا، تب تک تجھے ایک ہی دشمن نظر آیا۔ لیکن جب تو نے خود ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، تو اب تیرے سینکڑوں دشمن بن گئے ہیں۔ اصل مسئلہ 'آئینے' میں نہیں تھا، بلکہ 'تیرے اندر' تھا۔ اگر تو آرام سے دیکھتا، تو جان جاتا کہ یہ تو تیرا ہی عکس تھا۔"
فضول خرچ بندر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔
💡 نتیجہ (Lesson)
ہماری سوچ اور رویہ اکثر ہمارے ارد گرد کے ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر ہم دوسروں کو غصے اور نفرت سے دیکھتے ہیں، تو ہمیں ہر طرف دشمن ہی نظر آتے ہیں۔ اگر ہم اپنے اندر کے منفی جذبات کو ختم نہیں کرتے، تو وہ کئی گنا بڑھ کر ہمارے سامنے آتے ہیں۔ اپنے اندر کی اصلاح کریں، باہر کی دنیا خود بخود ٹھیک ہو جائے گی! 💖 self-reflection 🧘 peace
#عکاسی #رویہ