09/04/2024
کعبے کی چھت پر نماز !!
جب سے مریم نواز اور شہباز شریف مکتہ المکرمہ گئے ہیں تو پٹواریو اور یوتھیوں کے درمیان ایک جنگ سی چھڑ گئی ہے۔ پٹواریوں نے کعبہ کا دروازہ مریم نواز کیلئے کھلنے کی پوسٹس لگائیں تو یوتھیوں نے بھی خان کیلئے کعبہ کھلنے کی تصاویر شیئر کر دیں۔
تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ذولفقار علی بھٹو ، ضیاء الحق ، بےنظیر بھٹو کیلئے بھی کعبے کا دروازہ کھلا ، یہاں تک کہ جنرل مشرف نے کعبے کا دروازہ اپنے ہاتھوں سے کھولا ۔ نواز شریف اور عمران خان کی ننگے پاؤں مدینے کی سڑکوں پر چلنے کی ویڈیوز وائرل ہوئیں۔
"یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے" کے قصیدے پڑھنے والوں سے میری گذارش ہے۔
جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں سلطان صلاح الدین ایوبی جیسے عظیم حکمران شدید خواہش کے باوجود حج نا کرسکے وجہ صرف یہ تھی پہلی رعایا کی ذمہ داریاں پوری کی جا سکیں اور حج کے اخراجات قومی خزانے کے بجائے اپنی جیب سے ادا کرنے کی طاقت پیدا ہو۔
امت مسلمہ کے عظیم سپہ سالار کو 56 برس میں اتنا وقت بھی نہ ملا جتنا ہمارے بادشاہوں کے پاس ہر سال ہوتا ہے۔ یقینا پاکستان میں مسائل ختم ہوچکے ہوں گے۔لوگ بہوک و افلاس سے خودکشیاں نہیں کر رہے ہوں گے۔ بےروزگاری اور غربت ہجرت کر گئی ہوگی۔معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن گیا ہوگا۔ ہر طرف خوشحالی ہوگی۔ راوی چین لکھتا ہو گا۔ یوں ہمارے حکمران اپنی زمہ داریاں پوری کرکے ہر سال حجاز مقدس جا کر الله کی بارگاہ میں حاضر ہو کے یہ کہتے ہوں گے کہ ریاست پاکستان کی عوام کی تمام ذمہ داریاں پوری کرکے اب تیری بارگاہ میں حاضر ہوے ہیں۔
عزیزان من! یہ کوئی انوکھی بات نہیں کہ ہمارے حکمرانوں کے لیے کعبے کے دروازے وا ہوئے یا انہوں نے کعبے کی چھت پر نمازی پڑھیں کیونکہ اجتماعی معاملات کی درستگی کا عمل ان کی اپنی انفرادی عبادات سے پہلے آتا ہے.
اور حکمران کو پرکھنے کا معیار یہ نہیں ہوتا کہ کعبے کا دروازہ کھلتا ہے یا نہیں، وہ تہجد مسجد نبوی میں پڑھتا ہے۔ حج کتنے کیے ہیں بلکہ معیار تو یہ ہے کہ اقتدار ملنے کے بعد وہ امانتدار ہے یا نہیں،ٹیکس سے غریب کو بھوکا تو نہیں ماردیا۔لوگ غربت کے مارے خودکشیاں تو نہیں کر رہے۔لوگ بےگھر تو نہیں ہو رہے، مائیں بچوں کو بیچنے پر مجبور تو نہیں ہیں۔
اگر یہ مسائل رعایا میں موجود ہوں پھر چاہے حکمران ہر سال حج،بیسیوں عمرے اور مسجد نبوی میں تہجد ہی کیوں نہ پڑھتے پھریں وہ مخلوق خدا کے مجرم ہیں اور تاریخ انہیں نا اہل اور خائن حکمران کے نام سے یاد کرے گی۔ اس سے بڑھ کر وہ روز محشر اپنے رب کو کیا منہ دیکھائیں گے؟
Copied:
سید کامران نقوی