06/05/2026
۔
قتیل شفائی ۔
راھوں پہ نظر رکھنا ھونٹوں پہ دُعا رکھنا
آ جائے کوئی شاید دروازہ کُھلا رکھنا
احساس کی شمع کو اِس طرح جَلا رکھنا
اپنی بھی خبر رکھنا اُس کا بھی پتا رکھنا
اک بوند بھی اَشکوں کی دامن نہ بھگو پائے
غم اُس کی امانت ھے پلکوں پہ سجا رکھنا
اِس طرح قتیل اُس سے برتاؤ رھے اپنا
وہ بھی نہ بُرا مانے دِل کا بھی کہا رکھنا
۔