Zaiqa & Zindagi

Zaiqa & Zindagi Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Zaiqa & Zindagi, Kitchen/Cooking, RYK, Rahimyar Khan.

“مزیدار پکوان، آسان ٹوٹکے اور مثبت باتیں—سب ایک جگہ!”
“یہ پیج ان سب کے لیے ہے جو مزیدار اور آسان کھانے بنانا چاہتے ہیں، روزمرہ کچن کے ٹوٹکے سیکھنا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی مثبت اور حوصلہ افزا باتوں سے اپنی زندگی کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔

16/10/2026
مولانا جلال الدین رومیؒ کی مثنوی معنوی سے ماخوذ حکایتبہت پرانے زمانے کی بات ہے، نصوح نام کا ایک شخص تھا۔ اس کا چہرہ مہرہ...
15/10/2026

مولانا جلال الدین رومیؒ کی مثنوی معنوی سے ماخوذ حکایت
بہت پرانے زمانے کی بات ہے، نصوح نام کا ایک شخص تھا۔ اس کا چہرہ مہرہ اور آواز عورتوں جیسی تھی۔ وہ عورتوں کا لباس پہن کر زنانہ حمام میں کام کرتا تھا۔ اس طرح وہ برسوں سے اپنی اصلیت چھپائے ہوئے تھا اور کسی کو اس کے مرد ہونے کا شبہ تک نہ ہوتا تھا۔
نصوح کا یہ کام صرف روزگار کا ذریعہ نہیں تھا، بلکہ وہ اس موقع سے ناجائز فائدہ بھی اٹھاتا تھا۔ اس کے دل میں بار بار توبہ کا خیال پیدا ہوتا، مگر وہ اپنی خواہشات پر قابو نہ رکھ پاتا اور دوبارہ اسی گناہ کی طرف لوٹ جاتا۔
وقت گزرتا گیا، لیکن نصوح کے دل کا سکون ختم ہوتا جا رہا تھا۔ آخرکار وہ ایک اللہ والے بزرگ کے پاس گیا اور عرض کیا:
”حضرت! میرے لیے دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ میری مغفرت فرما دے اور مجھے اس گناہ سے نجات عطا کرے۔“
بزرگ نے اس کے گناہ کی تفصیل پوچھے بغیر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ نصوح کو اس کے گناہ سے سچی توبہ کی توفیق عطا فرمائے۔
بزرگ کی دعا کے بعد نصوح کے دل میں توبہ کا جذبہ پیدا ہوا، لیکن ابھی اس کی آزمائش باقی تھی۔
شہزادی کا قیمتی زیور گم ہو گیا
ایک دن نصوح حسبِ معمول زنانہ حمام میں اپنے کام میں مصروف تھا کہ بادشاہ کی بیٹی حمام میں آئی۔ اس کے کانوں میں قیمتی زیورات تھے۔
حمام میں اچانک شہزادی کا ایک قیمتی زیور گم ہو گیا۔
شہزادی اور اس کی خادمائیں پریشان ہو گئیں۔ پورے حمام میں زیور تلاش کیا جانے لگا۔ جب وہ نہ ملا تو حکم دیا گیا کہ حمام میں موجود تمام عورتوں اور وہاں کام کرنے والی ملازماؤں کی تلاشی لی جائے۔
حمام کے دروازے بند کر دیے گئے تاکہ کوئی باہر نہ جا سکے۔ پہلے کپڑوں اور سامان کی تلاشی ہوئی، مگر زیور نہ ملا۔ پھر سب کی سختی سے تلاشی لینے کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ خبر سنتے ہی نصوح پر قیامت ٹوٹ پڑی۔
اسے معلوم تھا کہ اگر اس کی تلاشی لی گئی تو اس کا بھیس اتر جائے گا۔ اس کی حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی اور اسے سخت سزا مل سکتی ہے، حتیٰ کہ جان کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
وہ خوف سے کانپنے لگا۔ اس کے دل میں خیال آیا کہ آج وہ راز کھلنے والا ہے جسے اس نے برسوں سے چھپا رکھا تھا۔
نصوح کی بے بسی اور سچی توبہ
نصوح ایک طرف ہو کر اللہ تعالیٰ سے فریاد کرنے لگا۔
اسے اپنی گزشتہ زندگی کی تمام غلطیاں یاد آنے لگیں۔ اسے احساس ہوا کہ وہ کتنے عرصے سے گناہ میں مبتلا ہے اور ہر بار توبہ کا ارادہ کرنے کے باوجود اپنے نفس کے سامنے ہار جاتا ہے۔
اب اس کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔ نہ وہ اپنی چالاکی سے بچ سکتا تھا، نہ کسی انسان سے مدد کی امید رکھ سکتا تھا۔
اس نے دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی:
”اے اللہ! اگر آج تو نے مجھے اس مصیبت سے بچا لیا تو میں سچے دل سے توبہ کرتا ہوں۔ میں اپنی اس زندگی کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دوں گا۔ اب کبھی اس گناہ کی طرف واپس نہیں لوٹوں گا۔ اے میرے رب! میری پردہ پوشی فرما اور مجھے اپنے آپ کو بدلنے کا ایک موقع عطا فرما۔“
نصوح کی حالت ایسی ہو گئی کہ خوف کی شدت سے اس کے حواس جواب دینے لگے۔ وہ بے ہوش ہو کر گر پڑا۔
یہ صرف ظاہری خوف کا لمحہ نہیں تھا؛ مثنوی کی حکایت میں اس کیفیت کو نصوح کی پرانی شخصیت کے ٹوٹنے اور اس کی زندگی میں ایک نئی تبدیلی کے آغاز کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
image
Rumisite
+1

زیور مل گیا!
جب نصوح کو ہوش آیا تو صورتِ حال بدل چکی تھی۔
شہزادی کا گم شدہ زیور مل گیا تھا۔ تلاشی کی ضرورت ختم ہو گئی اور حمام میں موجود لوگوں کو جانے دیا گیا۔
نصوح کی حقیقت سامنے آنے سے بچ گئی۔
اس نے اس واقعے کو اپنی زندگی کا فیصلہ کن موڑ سمجھا۔ اسے محسوس ہوا کہ اسے ایک اور موقع ملا ہے، لیکن اب وہ اپنی پرانی زندگی کی طرف واپس نہیں جائے گا۔
اس نے سچی توبہ کی اور اپنے اس وعدے پر قائم رہنے کا عزم کیا۔
شہزادی نے دوبارہ بلایا
کچھ وقت گزرنے کے بعد شہزادی نے دوبارہ نصوح کو بلانے کا پیغام بھیجا۔ وہ چاہتی تھی کہ نصوح پہلے کی طرح اس کے سر کی مالش اور دھلائی کرے، کیونکہ وہ اس کے کام سے واقف تھی۔
لیکن اب نصوح بدل چکا تھا۔
اس نے شہزادی کے پیغام پر واپس اسی کام کی طرف جانے سے انکار کر دیا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر اس نے دوبارہ وہی راستہ اختیار کیا تو ممکن ہے کہ وہ پھر اپنے نفس کے ہاتھوں شکست کھا جائے۔
اس نے اپنے آپ کو اس آزمائش سے دور رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اب اس کے لیے اپنی توبہ کی حفاظت کرنا شہزادی کو خوش کرنے یا اپنی پرانی روزی برقرار رکھنے سے زیادہ اہم تھا۔
مولانا رومیؒ اس مقام پر ایک نہایت گہرا سبق دیتے ہیں: سچی توبہ صرف گناہ کے وقت خوف زدہ ہو جانے کا نام نہیں، بلکہ گناہ کا راستہ چھوڑ دینے اور دوبارہ اس کی طرف نہ لوٹنے کی کوشش کا نام ہے

💔 **ایک لمحے کا خوف نصوح کی پوری زندگی بدل گیا!**

آپ کے خیال میں انسان کو گناہ چھوڑنے کے لیے کسی بڑی آزمائش کا انتظار کرنا چاہیے، یا وہ آج ہی توبہ کرکے اپنی زندگی بدل سکتا ہے؟

💬 **کمنٹ میں اپنی رائے ضرور بتائیں، شاید آپ کے الفاظ کسی کی زندگی بدلنے کا سبب بن جائیں۔ ❤️**

🤲 اللہ تعالیٰ ہم سب کو سچی توبہ اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

Address

RYK
Rahimyar Khan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zaiqa & Zindagi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share