27/01/2026
ماں باپ
وہ جو سختی کر گئے، شاید ڈر کے مارے تھے۔
وہ جو خاموش رہے، شاید الفاظ نہیں آتے تھے۔
وہ جو وقت نہ دے سکے، شاید ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دیے ہوئے تھے۔
انہوں نے بھی زندگی پہلی بار جینی تھی کوئی کتاب کوئی تربیت کوئی سبق ان کے ہاتھ میں نہیں تھا۔
بس ایک چھوٹا سا وجود تھا جو ان کی طرف دیکھ رہا تھا اور وہ پوری کوشش کر رہے تھے کہ اسے محفوظ رکھ سکیں۔
ہو سکتا ہے ان سے غلطیاں ہوئیں ہوں
ہو سکتا ہے کچھ زخم آج بھی دل میں تازہ ہوں
مگر نیت میں کمی نہیں تھی
بس سمجھ کم تھی، سہولتیں کم تھیں، وقت سخت تھا۔
آج جب ہم شکایت کرتے ہیں
تو یہ بھی سوچ لیں
کہ کل ہمیں بھی کوئی معاف کرنے والا چاہیے ہوگا۔ ... معاف کر دو
کیونکہ ماں باپ فرشتے نہیں ہوتے
وہ بھی انسان ہوتے ہیں
اور انسان پہلی بار میں کامل نہیں ہوتے۔
جب تک وہ ساتھ ہیں
ان کے قدموں میں دل رکھ دو
کیونکہ ایک دن صرف یادیں رہ جائیں گی
اور افسوس کہ کاش ہم نے معاف کر دیا ہوتا۔