Andaz E Najam

Call Directions Website Contact the business

Andaz E Najam 📩 Paid Promotions & Ads Come Inbox Whether you’re a fan of deep conversations, behind-the-scenes realities, and life you’re in the right place.

Welcome to our Podcast & Vlog page, a space where stories come alive, voices find power, and everyday moments turn into unforgettable experiences.

13/10/2026

سانوں نہر والے پل تے بلا کے
بانسری والے دا دل موہ لینے والا انداز

Guest ~ Ustaad Muhammad Hanif
VC ~ Andaz E Najam

12/10/2026

لیجنڈ فنکار امان اللہ خان کی تدفین سے روکا گیا ؟
اصل حقیقت کیا ہے ؟

Guest ~ Mirza Usman Baig
VC ~ Andaz E Najam

12/10/2026

سولی پہ جھولتے ہیں میاں مبتلائے عشق

Guest ~ Fakhar Lala
VC ~ Andaz E Najam

12/10/2026

لگیاں لگ گئیاں نے سانول نال

Guest ~ Ayesha Nadir
VC ~ Andaz E Najam

11/10/2026

مرگی کی مریض " حاملہ خواتین " کو کیا کرنا چاہیے ؟
جاننے کے لیئے ویڈیو دیکھ لیں

Guest ~ Dr Hashir Amin Malik
VC ~ Andaz E Najam

بزم شبیر  🖤
11/10/2026

بزم شبیر 🖤

11/10/2026

میں اور آواز مری شب کے مسافر دونوں

Guest ~ Sanaulhaq Saqib
VC ~ Andaz E Najam

11/10/2026

پیار کے موڑ پر مل گئے ہو اگر

Guest ~ Mian Meeri Qawal
VC ~ Andaz E Najam

شکریہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا جن کی وجہ سے ہم دنیا میں واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہیں ۔دل سے سلام اور دعا گو ہوں...
10/10/2026

شکریہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا جن کی وجہ سے ہم دنیا میں واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہیں ۔دل سے سلام اور دعا گو ہوں ان کے لیے۔ان کا احسان نہیں چکا سکتا ہوں ۔

01 اپریل 1936
یوم پیدائش ڈاکٹر عبد القدیر خان

10 اکتوبر 2021
یوم وفات ڈاکٹر عبد القدیر خان

پاکستانی ایٹم بم کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہندوستان کے شہر بھوپال میں ایک اردو بولنے والے راجپوت گھرانے میں 01 اپریل 1936 میں پیدا ہوئے۔عبد القدیر خان پندرہ برس یورپ میں رہنے کے دوران مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی، ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ اور بیلجیئم کی یونیورسٹی آف لیوؤن میں پڑھنے کے بعد 1976ء میں واپس پاکستان لوٹ آئےـ عبد القدیر خان ہالینڈ سے ماسٹرز آف سائنس جبکہ بیلجیئم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئرنگ کی اسناد حاصل کرنے کے بعد 31 مئی 1976ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی دعوت پر "انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز" کے پاکستانی ایٹمی پروگرام میں حصہ لیا۔ بعدازاں اس ادارے کا نام صدر یاکستان جنرل محمدضیاءالحق نے یکم مئی 1981ءکو تبدیل کرکے ’ ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز‘ رکھ دیا۔ یہ ادارہ پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ڈاکٹر عبدلقدیر خان نے نومبر2000ء میں ککسٹ نامی درسگاہ کی بنیاد رکھی۔

عبدالقدیرخان پر ہالینڈ کی حکومت نے غلطی سے اہم معلومات چرانے کے الزام میں مقدمہ دائر کیا لیکن ہالینڈ،بیلجیئم، برطانیہ اور جرمنی کے پروفیسروں نے جب انالزامات کا جائزہ لیا تو انہوں نے عبدالقدیر خان کو بری کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ جن معلومات کو چرانے کی بنا پر مقدمہ داخل کیا گیا ہے وہ عام کتابوں میں موجود ہیں ـ جس کے بعد ہالینڈ کی عدالت عالیہ نے ان کو باعزت بری کردیاـ

عبدالقدیرخان وه مایه ناز سائنس دان ہیں جنہوں نے آٹھ سال کے انتہائی قلیل عرصہ میں انتھک محنت و لگن کی ساتھ ایٹمی پلانٹ نصب کرکے دنیا کے نامور نوبل انعامیافته سائنس دانوں کو ورطہ حیرت میں ڈالدیا. مئی1998ء کوآپ نے بھارتی ایٹمی تجربوں کے مقابلہ میں وزیراعظم میاں محمد نوازشریف سے تجرباتی ایٹمی دھماکے کرنے کی درخواست کی ـ بالآخر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے چاغی کے مقام پر چھ کامیاب تجرباتی ایٹمی دھماکے کئے ـ اس موقع پر عبد القدیر خان نے پورے عالم کو پیغام دیا کہ ہم نے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنادیا ہے۔ یوں آپ پوری دنیا میں مقبول عام ہوئے. سعودی مفتی اعظم نے عبد القدیر خان کو اسلامی دنیا کا ہیرو قرار دیا اور پاکستان کے لیے خام حالت میں تیل مفت فراہم کرنے کا فرمان جاری کیا۔ اسکے بعد سے پاکستان کوسعودی عرب کی جانب سے خام تیل مفت فراہم کیاگیا تھا۔ مغربی دنیا نے پروپیگنڈہ کے طور پر پاکستانی ایٹم بم کو اسلامی بم کا نام دیا جسے ڈاکٹرعبدالقدیرخان نے بخوشی قبول کرلیا۔ پرویزمشرف دور میں پاکستان پر لگنے والے ایٹمی مواد دوسرے ممالک کو فراہم کرنے کے الزام کو ڈاکٹرعبدالقدیر نے ملک کی خاطر سینے سے لگایا اورنظربند رہے۔ انہوں نے ایک سو پچاس سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین بھی لکھے ہیں۔

1993ء میں کراچی یونیورسٹی نے ڈاکٹرعبدالقدیر خان کو ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی سند سے نوازا۔

14 اگست 1996ء میں صدر فاروق لغاری نے ان کو پاکستان کا سب سے بڑا سِول اعزاز نشانِ امتیاز دیا جبکہ1989ء میں ہلال امتیاز کا تمغا بھی انکو عطا کیا گیا۔

ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے سیچٹ sachet کے نام سے ایک فلاحی اداره بنایا ـ جو تعلیمی اور دیگر فلاحی کاموں میں سر گرم عمل ہے.

ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے ہالینڈ میں قیام کے دوران ایک مقامی لڑکی ہنی خان سے شادی کی جو اب ہنی خان کہلاتی ہیں اور جن سے ان کی دو بیٹیاں ہوئیں۔

10/10/2026

میں محبت میں اس مقام پہ ہوں
صبر کا پھل جہاں پہ کڑوا ہے

Guest ~ Naeem Abbas Sajid
VC ~ Andaz E Najam

Address

Dubai

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Andaz E Najam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Andaz E Najam:

Shortcuts

Share