Rare Handmade Iranian Turkish and Afghan Rugs

Rare Handmade Iranian Turkish and Afghan Rugs Rare and finest breed wool and hand woven Iranian Turkish and Afghani rugs

20/07/2026
20/07/2026

*بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ*
("نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ")
عظیم فارسی شاعر و مفکر حضرت عبدالقادر بیدلؒ کے اس فکر انگیز شعر کا قرآن مجید وحدیث مباکہﷺ کی روشنی میں عقلی مطالعہ، ح-1
"ہر کہ را دیدم، گرفتارِ خودی دیدم هنوز
از خودی بگذر، کہ راہِ آشنایی اینجاست"
"میں نے جس شخص کو بھی دیکھا، اسے اپنی خودی میں گرفتار پایا۔ اپنی خودی سے آگے بڑھ جاؤ، کیونکہ حقیقی آشنائی (معرفتِ حق) کا راستہ یہی ہے"۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا، اسے عقل عطا فرمائی، وحی سے نوازا، اور اپنے انبیاء علیہم السلام کے ذریعے ہدایت کا وہ نور عطا کیا جس سے وہ دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن اسی انسان کے اندر ایک ایسی قوت بھی رکھی گئی جو اگر اللہ تبارک وتعالیٰ کی اطاعت کے تابع نہ رہے تو اسے ہلاکت کے گڑھے میں دھکیل دیتی ہے۔ یہی قوت نفس، خود پسندی، غرور اور تکبر کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ تاریخِ انسانیت پر نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے جس گناہ نے آسمانوں کی پاکیزہ فضا میں نافرمانی کا دروازہ کھولا، وہ تکبر تھا۔ شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کیااور تکبر کیا،حضرت عبدالقادر بیدلؒ کی شاعری محض الفاظ کا حسن نہیں بلکہ فکر، حکمت، عرفان اور انسانی باطن کا آئینہ ہے۔ جب بیدلؒ "خودی" کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو وہ ہمیشہ ایک ہی معنی میں نہیں ہوتا۔ ان کے ہاں کبھی "خودی" سے مراد انسان کی حقیقت اور اس کی باطنی شناخت ہوتی ہے، اور کبھی اس سے مراد وہ نفسِ سرکش، خود پسندی، غرور اور تکبر ہوتا ہے جو انسان اور اس کے رب کے درمیان سب سے بڑی دیوار بن جاتا ہے۔ اس شعر میں سیاق و سباق یہی بتاتا ہے کہ "گرفتارِ خودی" سے مراد وہ "میں" ہے جو انسان کو اپنی ذات کے خ*ل میں قید کر دیتی ہے، یہاں تک کہ وہ نہ حق کو حق سمجھتا ہے اور نہ اپنے رب کی عظمت کا صحیح ادراک کر پاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بیدلؒ پہلے انسان کی بیماری بیان کرتے ہیں،
"ہر کہ را دیدم، گرفتارِ خودی دیدم هنوز"
اور پھر اسی شعر کے دوسرے مصرع میں اس کا علاج بھی بتا دیتے ہیں،
"از خودی بگذر، کہ راہِ آشنایی اینجاست"
گویا بیماری بھی "خودی" ہے اور دوا بھی "خودی سے گزرنا" ہے۔
یہاں غور کیجیے کہ بیدلؒ نے یہ نہیں فرمایا کہ دولت جمع کرو، شہرت حاصل کرو یا دنیا فتح کرو، بلکہ فرمایا کہ اپنی خودی کے بت کو توڑ دو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بیدلؒ کےاس شعر کی ہم آہنگی قرآنِ مجید اور سنتِ نبوی ﷺ کے ساتھ نمایاں ہونے لگتی ہے۔ قرآنِ مجید کی پہلی سرکشی بھی "میں" سے شروع ہوتی ہے۔
ابلیس نے کہا: ﴿أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ﴾سورۃ الأعراف، آیت 12
"میں اس سے بہتر ہوں"۔
یہ صرف دو لفظ نہیں بلکہ پوری انسانی تاریخ کے ہر تکبر کی بنیاد ہیں۔ جب "میں" اللہ تبارک وتعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں کھڑی ہو جائے تو وہ ابلیس بن جاتا ہے، اور جب یہی "میں" اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جائے تو وہ بندگی بن جاتی ہے۔ اسی لیے بیدلؒ کی "خودی" اور قرآن حکیم کے "استکبار" میں ایک گہرا فکری ربط دکھائی دیتا ہے۔ بیدلؒ فلسفیانہ زبان میں وہی حقیقت بیان کرتے ہیں جسے قرآن حکیم ایمان، عبودیت اور تزکیۂ نفس کی زبان میں بیان کرتا ہے۔ یہاں ایک نہایت لطیف نکتہ بھی قابلِ غور ہے۔ چونکہ قرآن مجید "سرور کونین حضرت محمدعربیﷺ" پر نازل ہوا، اور عربی زبان میں "کبر" صرف اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کا نام نہیں، بلکہ اس کا مفہوم یہ بھی ہے کہ انسان حق کو قبول کرنے سے انکار کرے اور دوسروں کو حقیر سمجھے۔
اسی لیے رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
«لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ».
فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَكُونَ ثَوْبُهُ حَسَنًا، وَنَعْلُهُ حَسَنَةً.۔فَقَالَ ﷺ: «إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ»۔ صحیح مسلم، کتاب الإيمان، باب: تحريم الكبر وبيانه، حدیث: 91
"جس کے دل میں ذرہ برابر (یعنی رائی کے دانے کے برابر) بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا"۔
ایک شخص نے عرض کیا: آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا لباس اچھا ہو اور اس کے جوتے اچھے ہوں۔
آپ ﷺ نے فرمایا: "بے شک اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے۔ تکبر یہ ہے کہ حق کو ٹھکرا دیا جائے اور لوگوں کو حقیر سمجھا جائے"۔
یہ حدیث مبارکہ بیدلؒ کے شعر کی تشریح کا ایک عظیم اصول ہے، کیونکہ "گرفتارِ خودی" انسان بھی یہی کرتا ہے؛ وہ حق کو اپنی انا کی کسوٹی پر پرکھتا ہے، اور جب حق اس کی خواہش کے خلاف ہو تو اسے قبول نہیں کرتا۔ لہٰذا بیدلؒ کا یہ شعر محض تصوف کا ایک ذوقی جملہ نہیں بلکہ انسانی نفس کی ایک ایسی بیماری کی تشخیص ہے جسے قرآن حکیم نے ابلیس کی ہلاکت کا سبب قرار دیا اور رسول اللہ ﷺ نے جنت سے محرومی کا راستہ بتایا۔ یہیں سے بیدلؒ کے شعر کی اصل معنوی وسعت شروع ہوتی ہے۔ (جاری ہے)

20/07/2026

ج/6، ب/50، ح/1۔ لفظ "ذوق" کی تشریح اور اس کا حقیقی مفہوم، جیسا کہ اہلِ بیان کی اصطلاح میں مستعمل ہے، نیز اس امر کی وضاحت کہ عموماً عجمی النسل عربی بولنے والوں کو یہ ذوق کیوں حاصل نہیں ہوتا، (ابن خلدونؒ ، "المقدمہ")

ابن خلدون کے مطابق، یہ جان لینا چاہیے کہ "ذوق" کا لفظ ان لوگوں کے ہاں رائج ہے جو علمِ بیان کی مختلف شاخوں سے اشتغال رکھتے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ زبان میں فصاحت کی ملکہ راسخ ہو جائے۔ فصاحت کیا ہے، اس کی وضاحت پہلے گزر چکی ہے۔ وہ یہ ہے کہ کلام اپنے مطلوبہ معنی کے ہر پہلو کے مطابق ہو، اور یہ مطابقت ان مخصوص اوصاف کے ذریعے حاصل ہو جو الفاظ کی ترکیب کو اس معنی کے موافق بنا دیتے ہیں۔ عربی زبان کا فصیح متکلم اظہار کی وہ صورت اختیار کرتا ہے جو اہلِ عرب کے اسالیب اور طریقۂ خطاب کے مطابق اس مطابقت کو پیدا کرے۔ وہ اپنی استطاعت کے مطابق اپنے کلام کو انہی اصولوں پر مرتب کرتا ہے۔ جب وہ ہمیشہ عربی کلام میں اسی طریقے کو اختیار کرتا رہتا ہے تو اس کے اندر انہی اصولوں کے مطابق کلام ترتیب دینے کا ملکہ پیدا ہو جاتا ہے۔ پھر صحیح لفظی ترکیب اس کے لیے نہایت آسان ہو جاتی ہے، اور اس معاملے میں وہ ش*ذ ہی اہلِ عرب کی فصاحت کے طریقے سے ہٹتا ہے۔ اگر وہ کوئی ایسی لفظی ترکیب سنتا ہے جو ان اصولوں کے مطابق نہ ہو تو وہ اسے فوراً رد کر دیتا ہے، اور معمولی سے التفات پر بھی اس کا کان اس سے نفرت محسوس کرتا ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے لیے غور و فکر کی بھی ضرورت نہیں رہتی، کیونکہ یہ ردِّ عمل اس لسانی ملکہ کا لازمی نتیجہ ہوتا ہے جو اس کے اندر راسخ ہو چکا ہوتا ہے۔ راسخ اور اپنے محل میں مضبوط ہو جانے والے ملکے ایسے معلوم ہوتے ہیں گویا وہ اسی مقام کی طبعی اور فطری چیز ہوں۔ اسی وجہ سے بہت سے نادان لوگ، جو ملکہ کی حقیقت اور اس کی اہمیت سے واقف نہیں ہوتے، یہ سمجھتے ہیں کہ اعراب کا صحیح استعمال اور اہلِ عرب کی زبان کی فصاحت ایک طبعی امر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ "عرب صحیح عربی فطرتاً بولتے ہیں"۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ صحیح عربی بولنا دراصل الفاظ کو درست انداز سے ترتیب دینے کا ایک لسانی ملکہ ہے، جو عربوں کے اندر اس قدر راسخ اور مستحکم ہو گیا تھا کہ بظاہر وہ ایک فطری اور پیدائشی چیز معلوم ہونے لگا۔ لیکن جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے، یہ ملکہ مسلسل عربی بولنے، بار بار عربی سننے، اور اس کی لفظی ترکیبوں کے مخصوص اوصاف کو سمجھنے سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ اہلِ بیان کے مرتب کردہ علمی قواعد کے جان لینے سے حاصل نہیں ہوتا۔ وہ قواعد صرف زبان کا علم دیتے ہیں، زبان کا حقیقی ملکہ عطا نہیں کرتے۔ اس کی وضاحت پہلے گزر چکی ہے۔ پس جب یہ بات ثابت ہو گئی تو کہا جا سکتا ہے کہ فصاحت کا یہی لسانی ملکہ فصیح انسان کی رہنمائی کرتا ہے کہ وہ الفاظ کی ترتیب کے مختلف پہلوؤں کو اختیار کرے، اور انہی صحیح لفظی ترکیبوں کو استعمال کرے جو اہلِ عرب اپنی گفتگو میں اختیار کرتے تھے۔ جب وہ شخص جس کے اندر عربی زبان کا ملکہ موجود ہو، عربی کلام کے مخصوص طریقوں اور اس کی خاص لفظی ترکیبوں سے ہٹنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ اس کی زبان اس کا ساتھ نہیں دیتی، کیونکہ وہ غلط طرزِ کلام کی عادی نہیں ہوتی، اور اس کا راسخ ملکہ اسے اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اگر اس کے ذہن میں کوئی ایسا اندازِ کلام آ بھی جائے جو اہلِ عرب کے طریقۂ بیان اور ان کی فصاحت کے خلاف ہو تو وہ اسے فوراً چھوڑ دیتا ہے، رد کر دیتا ہے، اور جان لیتا ہے کہ یہ اس عربی کلام کا حصہ نہیں جس کی اس نے مسلسل مشق کی ہے۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنے اس احساس پر دلائل قائم نہیں کر سکتا، جیسے وہ لوگ کر لیتے ہیں جو نحو اور بیان کے قواعد جانتے ہیں۔ لیکن یہ دلیل قائم کرنا ایک الگ چیز ہے، جو استقرائی قواعد کی بنیاد پر ہوتی ہے، جبکہ زبان کا صحیح استعمال ایک وجدانی امر ہے، جو مسلسل عربی بولنے، سننے اور اس کی مشق کرتے رہنے سے پیدا ہوتا ہے، یہاں تک کہ انسان گویا خود اہلِ عرب میں سے ایک فرد بن جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک ایسے عرب بچے کو فرض کیجیے جو عرب بدویوں کے درمیان پرورش پاتا ہے۔ وہ ان کی زبان سیکھ لیتا ہے، اعراب کے صحیح استعمال اور فصیح اظہار پر کامل قدرت حاصل کر لیتا ہے، اور اس سب میں پوری مہارت پیدا کر لیتا ہے، لیکن اس کے باوجود اسے قواعدِ نحو کا ذرہ برابر علم نہیں ہوتا۔ اس کی گفتگو کی صحت اور فصاحت محض اس لسانی ملکہ کا نتیجہ ہوتی ہے جو اس نے حاصل کیا ہوتا ہے۔ اسی طرح بعد کے زمانوں میں بھی جو شخص قدیم اہلِ عرب کے کلام، ان کے اشعار، ان کے خطبات اور ان کی گفتگو کے آثار سے گہری واقفیت حاصل کرے، اور مسلسل انہی میں مشغول رہے، وہ بھی رفتہ رفتہ یہی لسانی ملکہ حاصل کر لیتا ہے، یہاں تک کہ وہ ان لوگوں کی مانند ہو جاتا ہے جو انہی کے درمیان پیدا ہوئے اور انہی کی آغوشِ تربیت میں پرورش پائے تھے۔ صرف قواعدِ نحو اس مقصد کو حاصل نہیں کر سکتے۔

20/07/2026

ج/6، ب/49۔ مُضَر کی زبان کا لسانی ملکہ، علمِ نحو سے الگ چیز ہے، اور تعلیم کے دوران اس کے بغیر بھی حاصل کیا جا سکتا ہے، (ابن خلدونؒ ، "المقدمہ")

ابن خلدون کے مطابق، اس کی وجہ یہ ہے کہ علمِ نحو محض اس لسانی ملکے کے قواعد اور صورتوں کا علم ہے۔ یہ ایک کیفیت کا علم ہے، خود وہ کیفیت نہیں۔ یہ خود لسانی ملکہ نہیں، بلکہ اس شخص کی مانند ہے جو کسی صنعت کا نظری علم تو رکھتا ہو، لیکن اس پر عملی قدرت نہ رکھتا ہو۔ مثال کے طور پر کوئی شخص درزی کے فن کے تمام اصول جانتا ہو، مگر اس کا عملی ملکہ نہ رکھتا ہو۔ ایسا شخص درزی کے بعض اعمال کی یوں تشریح کر سکتا ہے کہ دھاگا سوئی کے ناکے میں ڈالا جاتا ہے، پھر سوئی کو دو ملے ہوئے کپڑوں میں داخل کیا جاتا ہے، پھر اسے دوسری طرف ایک مقررہ فاصلے پر نکالا جاتا ہے، پھر اسے اسی طرف واپس لایا جاتا ہے جہاں سے ابتدا ہوئی تھی، پھر پہلی جگہ سے کچھ آگے دوبارہ نکالا جاتا ہے تاکہ پہلے دونوں سوراخوں کے درمیان کچھ فاصلہ باقی رہے۔ اسی طرح وہ پورے عمل کی تفصیل بیان کر سکتا ہے، کنارہ لگانے، گدائی کرنے، چاک کاٹنے اور درزی کے دوسرے تمام اعمال و افعال کی بھی وضاحت کر سکتا ہے۔ لیکن اگر اس سے کہا جائے کہ انہی کاموں میں سے کوئی کام اپنے ہاتھ سے کر کے دکھائے تو وہ ہرگز اس پر قادر نہ ہوگا۔ اسی طرح کوئی شخص بڑھئی کے فن سے واقف ہو سکتا ہے۔ اگر اس سے لکڑی چیرنے کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ کہے گا کہ آرا لکڑی کے اوپر رکھا جاتا ہے، ایک شخص آرے کا ایک سرا پکڑتا ہے اور دوسرا شخص دوسرا سرا، پھر دونوں باری باری کھینچتے اور دھکیلتے ہیں، یہاں تک کہ آرے کے تیز دندانے لکڑی کے اس حصے کو کاٹتے جاتے ہیں جس پر وہ آگے پیچھے چلتے ہیں، یہاں تک کہ لکڑی نیچے تک چیر دی جاتی ہے۔ لیکن اگر ایسے شخص کو عملاً یہ کام کرنے یا اس کا کچھ حصہ انجام دینے کا کہا جائے تو ممکن ہے وہ اس پر بھی قادر نہ ہو۔ اسی طرح اعراب کے قواعد کے علم اور خود لسانی ملکے کا تعلق ہے۔ قواعد کا علم صرف ان کے استعمال کا علم ہے، خود ان کا عملی استعمال نہیں۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے ممتاز نحوی اور عربی زبان کے ماہر، جو ان قواعد پر مکمل دسترس رکھتے ہیں، جب ان سے کہا جاتا ہے کہ کسی دوست یا ساتھی کے نام ایک دو سطری تحریر لکھیں، یا کسی ظلم کی شکایت قلم بند کریں، یا کوئی اور بات لکھیں جسے وہ بیان کرنا چاہتے ہوں، تو وہ بکثرت غلطیاں کرتے ہیں اور لحن میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ وہ الفاظ کو اس انداز سے ترتیب نہیں دے سکتے جو عربی زبان کے طریقۂ بیان کے مطابق ہو۔ اسی طرح ہم بہت سے ایسے لوگوں کو بھی دیکھتے ہیں جن کے پاس زبان کا عمدہ ملکہ ہوتا ہے، جو نثر اور شعر دونوں میں بہترین اظہار پر قادر ہوتے ہیں، لیکن وہ فاعل اور مفعول کے اعراب میں فرق نہیں کر سکتے، نہ رفع اور جر کو پہچانتے ہیں، اور نہ علمِ نحو کے قواعد سے کوئی واقفیت رکھتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ لسانی ملکہ، علمِ نحو سے الگ چیز ہے اور اپنے وجود میں اس سے بالکل بے نیاز ہو سکتا ہے۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ بعض ایسے علماء، جو اعراب کے قواعد میں مہارت رکھتے ہیں، لسانی ملکے کی حقیقت سے بھی اچھی طرح واقف ہوتے ہیں، لیکن یہ بہت کم ہوتا ہے اور محض اتفاق کی بات ہے۔ ایسا زیادہ تر ان طلبہ کے ساتھ پیش آتا ہے جن کا گہرا تعلق کتابِ سیبویہ سے ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیبویہ نے اپنی کتاب میں صرف اعراب کے قواعد ہی بیان نہیں کیے، بلکہ اسے عربوں کے امثال، استشہادی اشعار اور فصیح تعبیرات سے بھی بھر دیا ہے۔ اس طرح اس کی کتاب میں زبان کا ملکہ پیدا کرنے والی بہت سی چیزیں جمع ہو گئی ہیں۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ جو طلبہ پوری محنت کے ساتھ کتابِ سیبویہ کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس میں مہارت حاصل کر لیتے ہیں، وہ اس کے ذریعے عربوں کے کلام کا بڑا حصہ سیکھ لیتے ہیں۔ عربی کلام کہاں اور کس ترتیب سے استعمال کیا جاتا ہے، اس کا نقش ان کے حافظے میں بیٹھ جاتا ہے، اور وہ لسانی ملکے کی اہمیت کو سمجھنے لگتے ہیں۔ نتیجتاً انہیں پورا لسانی ملکہ حاصل ہو جاتا ہے۔ اسی لیے کتابِ سیبویہ تعلیم کے اعتبار سے دوسری تمام کتابوں سے زیادہ مفید ہے۔ تاہم بعض ایسے طلبہ بھی ہوتے ہیں جنہیں کتابِ سیبویہ سے شغف تو ہوتا ہے، لیکن وہ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ چنانچہ وہ علمِ نحو کو ایک فن کی حیثیت سے تو سیکھ لیتے ہیں، مگر زبان کا حقیقی ملکہ حاصل نہیں کر پاتے۔ اور وہ طلبہ جن کا تعلق بعد کے علماء کی ان کتابوں سے ہوتا ہے جن میں اس قسم کا مواد موجود نہیں، بلکہ وہ صرف علمِ نحو کے قواعد پر مشتمل ہوتی ہیں، اور جن میں نہ عربوں کے اشعار ہوتے ہیں اور نہ عربی کلام کے نمونے، وہ اسی سبب زبان کے ملکے سے بہت کم آگاہ ہوتے ہیں، اور اس کی اہمیت کا شعور بھی ش*ذ ہی رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے عربی زبان کے علم میں بڑی منزل حاصل کر لی ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ عربی زبان سے سب لوگوں سے زیادہ دور ہوتے ہیں۔ اندلس کے علمائے عربیت اور عربی کے اساتذہ دوسروں کی نسبت زبان کا ملکہ حاصل کرنے اور دوسروں کو سکھانے کے زیادہ قریب تھے۔ وہ اس مقصد کے لیے عربوں کے استشہادی اشعار اور ضرب الامثال سے استدلال کرتے تھے، اور درس کے دوران عربی کلام کی ترکیبوں پر کثرت سے غور و تحقیق کراتے تھے۔ اس کے نتیجے میں تعلیم کے ابتدائی مرحلے ہی میں طلبہ کو زبان کے ملکے کا بڑا حصہ حاصل ہو جاتا تھا، اور ان کے نفوس اس سے اثر قبول کرتے، اور اس ملکے کو حاصل کرنے اور قبول کرنے کے لیے آمادہ ہو جاتے تھے۔ اس کے برخلاف مغرب، افریقیہ اور دوسرے علاقوں کے لوگوں نے علمِ نحو کو دوسرے نظری علوم کی طرح محض ایک تحقیقی علم بنا لیا۔ انہوں نے عربی کلام کی ترکیبوں میں تحقیق کو کوئی اہمیت نہ دی۔ ان کی ساری توجہ صرف اس بات پر رہی کہ کسی قاعدے کے اثبات کے لیے ایک استشہادی شعر پیش کر دیں، یا اعراب کے اعتبار سے کسی ایک قاعدے کو دوسرے پر ترجیح دے دیں۔ ان کا فیصلہ زبان کے حقیقی استعمال اور عربی کلام کی ترکیبوں کی بنیاد پر نہیں، بلکہ محض نظری اصولوں کی بنیاد پر ہوتا تھا۔ چنانچہ ان کے ہاں علمِ نحو ایک طرح سے منطق اور مناظرہ کے ذہنی معیاروں میں سے ایک معیار بن کر رہ گیا، اور زبان کے حقیقی طریقے اور اس کے ملکے سے دور ہو گیا۔ اس طرح ان شہروں اور ان کے گرد و نواح کے علمائے عربیت زبان کے حقیقی ملکے سے بالکل بے تعلق ہو گئے، یہاں تک کہ گویا انہوں نے کبھی عربی زبان سیکھی ہی نہ تھی۔ اس کا واحد سبب یہ تھا کہ وہ استشہادی اشعار اور عربی کلام کی ترکیبوں میں غور و تحقیق سے گریز کرتے تھے، عربی زبان کے اسالیب کا باریک بینی سے مطالعہ نہیں کرتے تھے، اور اس بات کو بھی نظر انداز کرتے تھے کہ طالب علم کے لیے ان امور کی مسلسل مشق نہایت ضروری ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی طریقہ عربی زبان کا ملکہ پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ قواعد تو صرف تعلیم کے وسائل ہیں، لیکن علماء نے انہیں ایسے مقصد کے لیے استعمال کیا جس کے لیے وہ وضع نہیں کیے گئے تھے، اور یوں انہیں محض ایک نظری علمی فن بنا دیا۔ نتیجتاً وہ اس کے حقیقی ثمرے سے محروم رہ گئے۔ اس باب میں ہماری گفتگو سے یہ بات واضح ہو گئی کہ عربی زبان کا ملکہ صرف عربی کلام کے نمونوں پر کامل دسترس حاصل کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں طالب علم کے ذہن میں عربوں کے اس انداز کی ایک مکمل تصویر نقش ہو جاتی ہے جس پر وہ اپنے کلام کی ترکیبیں بُنا کرتے تھے، اور پھر وہ خود بھی اسی انداز کو اختیار کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اس طرح وہ اس شخص کے درجے کو پہنچ جاتا ہے جو خود عربوں کے درمیان پروان چڑھا ہو، ان کے ساتھ مسلسل میل جول رکھتا ہو، ان کے طرزِ کلام کو براہِ راست سنتا رہا ہو، اور آخرکار اس میں یہ پختہ ملکہ پیدا ہو گیا ہو کہ وہ اپنے مقصود کو اسی انداز میں ادا کرے جس انداز میں عرب خود اسے بیان کرتے۔
("اللہ تبارک وتعالیٰ ہی تمام معاملات کا فیصلہ فرمانے والا ہے")

20/07/2026

ج/6،ب/48۔ مُضَر کی زبان کی تعلیم، (ابن خلدونؒ ، "المقدمہ")

ابن خلدون کے مطابق، یہ جان لینا چاہیے کہ اس زمانے میں مُضَر کی زبان کا لسانی ملکہ ختم ہو چکا ہے اور اس میں فساد آ گیا ہے۔ آج تمام عرب بدوی ایسی زبان بولتے ہیں جو اس مُضَری زبان سے مختلف ہے جس میں قرآنِ کریم نازل ہوا تھا۔ جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں، غیر عرب عناصر کے اختلاط کی وجہ سے وہ ایک دوسری زبان بن گئی ہے۔ لیکن چونکہ زبانیں، جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے، ایک ملکہ اور عادت ہوتی ہیں، اس لیے دوسری عادتوں کی طرح ان کو بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ جو شخص قدیم مُضَری زبان کا ملکہ حاصل کرنا چاہے، اس کے لیے واضح طریقہ یہ ہے کہ وہ اس زبان میں موجود تمام معتبر لسانی سرمایہ پوری مہارت کے ساتھ حاصل کرے، مثلاً قرآنِ کریم، احادیثِ نبویہ، قدیم عربوں اور ممتاز اہلِ عرب کے خطبات، مسجع کلام، نظم، اور مختلف علوم میں ابتدائی دور کے ان اہلِ علم کے اقوال جو عرب اور غیر عرب نسل کے امتزاج سے تعلق رکھتے تھے۔ پھر طالبِ علم اس منظوم اور منثور ذخیرے کا اتنا بڑا حصہ اپنے حافظے اور علم میں جمع کر لے کہ گویا وہ انہی قدیم اہلِ عرب کے درمیان پرورش پایا ہو اور انہی سے یہ سیکھا ہو کہ اپنے مقاصد کو کس طرح ادا کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اسے چاہیے کہ اپنے خیالات کو انہی الفاظ، انہی تعبیرات اور اسی انداز سے ادا کرنے کی کوشش کرے جس انداز سے وہ لوگ ادا کرتے تھے، اور ان ہی کے طریقۂ بیان اور ترتیبِ الفاظ کی پیروی کرے، جس پر اب اسے کامل دسترس حاصل ہو چکی ہوگی۔ اس علمی مہارت اور مسلسل عملی مشق کے نتیجے میں اس کے اندر اس قدیم زبان کا ملکہ پیدا ہو جائے گا، اور جوں جوں اس کا علم اور اس کی عملی مشق بڑھتی جائے گی، توں توں یہ ملکہ زیادہ مضبوط، زیادہ راسخ اور زیادہ کامل ہوتا جائے گا۔ اس کے ساتھ طالبِ علم کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کی طبیعت صحیح، ذوق سلیم سے آراستہ اور عربوں کے مقاصدِ بیان، ان کے اسالیبِ کلام، ان کی ترکیبِ الفاظ، اور اس بات کی اچھی سمجھ رکھتا ہو کہ وہ اپنے کلام کو ہر موقع اور ہر حال کے تقاضوں کے مطابق کس طرح ڈھالتے تھے۔ ذوقِ سلیم خود اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ اوصاف ناگزیر ہیں، کیونکہ ذوق صحیح دراصل راسخ لسانی ملکے اور صحیح فطرت ہی کا ثمرہ ہوتا ہے، جیسا کہ ہم آگے اس کی وضاحت کریں گے۔ طالبِ علم جتنا زیادہ اس لسانی ذخیرے کو یاد کرے گا، اور جتنا زیادہ اسے اپنی گفتگو اور تحریر میں استعمال کرے گا، اسی قدر اس کا نثر اور نظم میں کلام بہتر، فصیح اور بلیغ ہوتا جائے گا۔ جب کوئی شخص یہ لسانی ملکہ حاصل کر لیتا ہے تو وہ حقیقت میں مُضَر کی زبان کا جاننے والا بن جاتا ہے، اور اس کے اندر یہ صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ اس زبان کے فصیح و بلیغ اسلوب کو پہچان سکے اور اس پر تنقیدی بصیرت بھی رکھتا ہو۔
("پس مُضَر کی زبان سیکھنے کا یہی صحیح طریقہ ہے، اور اللہ تبارک وتعالیٰ جسے چاہتا ہے سیدھی راہ کی ہدایت عطا فرماتا ہے")

20/07/2026

ج/6، ب/50، ح/2۔ لفظ "ذوق" کی تشریح اور اس کا حقیقی مفہوم، جیسا کہ اہلِ بیان کی اصطلاح میں مستعمل ہے، نیز اس امر کی وضاحت کہ عموماً عجمی النسل عربی بولنے والوں کو یہ ذوق کیوں حاصل نہیں ہوتا، (ابن خلدونؒ ، "المقدمہ")

ابن خلدون کے مطابق، اور جب یہ ملکہ پوری طرح راسخ اور مستحکم ہو جاتا ہے تو اہلِ بیان کی اصطلاح میں مجازاً اسے "ذوق" کہا جاتا ہے۔ اصل میں ذوق کا لفظ کھانے کے مزے کے احساس کے لیے بولا جاتا ہے، لیکن چونکہ یہ لسانی ملکہ زبان میں قائم ہوتا ہے، اور زبان ہی کلام کا محل بھی ہے اور کھانے کے ذائقے کے احساس کا مقام بھی، اس لیے مجازاً اس ملکے کو بھی ذوق کہا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ جس طرح زبان کھانے کے ذائقے کو براہِ راست محسوس کرتی ہے، اسی طرح اس ملکے کے ذریعے صحیح اور فصیح کلام بھی بلاواسطہ محسوس کیا جاتا ہے۔ اسی بنا پر اسے ذوق کا نام دیا گیا ہے۔ جب یہ حقیقت واضح ہو جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ عجم کے لوگ، جیسے مشرق میں فارسی، رومی اور ترک، اور مغرب میں بربر، جو عربی زبان سے اجنبی تھے، پھر عربوں سے اختلاط کے نتیجے میں اسے اختیار کرنے اور بولنے پر مجبور ہوئے، وہ اس قسم کے ذوق کے حامل نہیں ہوتے۔ اس لسانی ملکے میں ان کا حصہ بہت معمولی ہوتا ہے، جس کی حقیقت اور اہمیت ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے ان کے پاس اپنی ایک دوسری لسانی عادت، یعنی اپنی مادری زبان کا ملکہ، موجود تھا، اور ان کی عمر کا ایک حصہ اسی کے ساتھ گزر چکا تھا، اس سے پہلے کہ وہ عربی سے واقف ہوتے۔ اس کے بعد زیادہ سے زیادہ وہ یہی کر سکتے ہیں کہ اپنے گرد و پیش کے شہری مسلمانوں کی گفتگو میں رائج الفاظ اور لفظی ترکیبوں کو اختیار کریں، جن کے استعمال پر وہ مجبور ہوتے ہیں۔ قدیم عربی زبان کا وہ اصلی لسانی ملکہ شہری آبادی سے مفقود ہو چکا ہے، اور جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے، وہ خود بھی اس سے اجنبی ہو گئی ہے۔ اب ان کے پاس ایک دوسرا لسانی ملکہ ہے، جو اہلِ عرب کے مطلوبہ لسانی ملکے سے مختلف ہے۔ اور جو لوگ کتابوں میں مدون قواعد کے ذریعے عربی زبان کے اس ملکے کو جانتے ہیں، وہ حقیقت میں اس ملکے کے حامل نہیں ہوتے۔ انہیں صرف اس کے قواعد و ضوابط کا علم ہوتا ہے، جیسا کہ ہماری گزشتہ گفتگو سے واضح ہو چکا ہے۔ جبکہ لسانی ملکہ صرف مسلسل مشق، اہلِ عرب کے کلام سے انس پیدا کرنے، اور بار بار اسے سننے اور استعمال کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ کوئی شخص یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ سیبویہ، ابو علی فارسی، زمخشری اور عربی زبان کے دوسرے بڑے ائمہ تو عجمی النسل تھے، لیکن اس کے باوجود وہ عربی زبان کے اس ملکے کے حامل تھے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حضرات صرف نسب کے اعتبار سے عجمی تھے۔ ان کی پرورش ایسے عربوں کے درمیان ہوئی تھی جو عربی زبان کے اس ملکے کے مالک تھے، یا ایسے لوگوں کے درمیان ہوئی تھی جنہوں نے یہ ملکہ انہی عربوں سے حاصل کیا تھا۔ اسی لیے وہ عربی کلام میں اس درجہ کمال تک پہنچ گئے جس سے بڑھ کر کوئی درجہ نہیں ہو سکتا۔ گویا اپنے بچپن ہی میں ان کی حالت ان عرب بچوں جیسی تھی جو عرب بدویوں کے درمیان پرورش پاتے ہیں، اور اس طرح زبان کی تمام باریکیوں سے واقف ہو کر خالص عربی بولنے والے بن جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ علماء نسب کے اعتبار سے عجمی تھے، لیکن زبان اور طرزِ کلام کے اعتبار سے عجمی نہ تھے، کیونکہ وہ ایسے زمانے میں زندہ تھے جب اسلام اپنی قوت و شباب پر تھا اور عربی زبان بھی اپنی کامل تازگی اور قوت کے دور میں تھی۔ اس وقت تک عربی زبان کا اصلی ملکہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا تھا، حتیٰ کہ شہری آبادی میں بھی وہ بالکل مفقود نہ تھا۔ انہوں نے نہایت محنت اور دوام کے ساتھ عربی کلام کا مطالعہ کیا، اس کی مسلسل مشق کی، یہاں تک کہ اس پر مکمل عبور حاصل کر لیا۔ لیکن آج کے زمانے میں جب کوئی عجمی کسی شہر میں عربی بولنے والوں سے اختلاط کرتا ہے تو سب سے پہلی چیز جو اسے ملتی ہے، وہ یہ ہے کہ مطلوبہ عربی لسانی ملکہ بالکل ختم ہو چکا ہے، اور اس کی جگہ ایک دوسرا اور اس سے مختلف لسانی ملکہ رائج ہے۔ اگر فرض کیا جائے کہ وہ پورے استقلال کے ساتھ اہلِ عرب کے کلام اور اشعار کو یاد کرنے اور ان کا مطالعہ کرنے میں لگ جائے، تاکہ اس لسانی ملکے کو حاصل کر لے، تب بھی وہ ش*ذ و نادر ہی اس میں کامیاب ہو سکے گا، کیونکہ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے، جب کسی ملکے کی جگہ دوسرا ملکہ لے لیتا ہے تو پہلا ملکہ ناقص اور مجروح صورت ہی میں حاصل ہو سکتا ہے۔ اور اگر یہ بھی فرض کیا جائے کہ وہ نسب کے اعتبار سے عجمی ہو، لیکن اس نے کسی عجمی زبان سے بالکل واسطہ نہ رکھا ہو، اور اب وہ حفظ و مطالعہ کے ذریعے عربی زبان کا ملکہ حاصل کرنا چاہے، تو کبھی کبھار اس میں کامیاب ہو سکتا ہے، لیکن یہ بہت نادر بات ہے، اور ہماری گزشتہ گفتگو کے بعد اس میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔ بعض لوگ جنہوں نے صرف اسالیبِ بیان کا علم حاصل کیا ہوتا ہے، کبھی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے عربی زبان کا ذوق بھی حاصل کر لیا ہے۔ لیکن یہ دعویٰ غلط اور فریب پر مبنی ہے۔ اگر انہوں نے کوئی ملکہ حاصل کیا بھی ہے تو وہ صرف اسالیبِ بیان کا ملکہ ہے، اور اس کا حقیقی لسانی اظہار کے ملکے سے کوئی تعلق نہیں۔
("اور اللہ تبارک وتعالیٰ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرماتا ہے")

20/07/2026

ج/6، ب/55۔ شاعری اور نثر کا تعلق الفاظ سے ہے، نہ کہ معانی سے، (ابن خلدونؒ ، "المقدمہ")

ابن خلدون کے مطابق، یہ جان لینا چاہیے کہ شاعری اور نثر، دونوں کا تعلق الفاظ سے ہے، نہ کہ معانی سے۔ معانی الفاظ کے تابع ہوتے ہیں، جبکہ اصل بنیاد الفاظ ہیں۔ جو شخص شاعری اور نثر کا ملکہ حاصل کرنا چاہتا ہے، وہ اس مقصد کے لیے الفاظ سے کام لیتا ہے۔ وہ عربی کلام کے موزوں الفاظ یاد کرتا ہے، تاکہ انہیں کثرت سے استعمال کر سکے اور وہ اس کی زبان پر جاری رہیں۔ یہاں تک کہ مُضَر کی زبان کا ملکہ اس کے اندر راسخ ہو جاتا ہے۔ پھر وہ ان عجمی لسانی عادات سے آزاد ہو جاتا ہے جن پر وہ اپنی قوم کے لوگوں کے درمیان پرورش پانے کی وجہ سے قائم تھا۔ وہ گویا اپنے آپ کو اس بچے کی مانند پاتا ہے جو عرب بدویوں کے درمیان پرورش پائے اور ان کی زبان اسی طرح سیکھے جیسے بچہ زبان سیکھتا ہے۔ اس طرح آخرکار زبان کے اعتبار سے وہ انہی میں سے ایک بن جاتا ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں، یہ اس طرح حاصل ہوتا ہے کہ زبان بول چال سے متعلق ایک ملکہ ہے۔ انسان اسے بار بار زبان سے مشق کرنے کے ذریعے حاصل کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس کے اندر راسخ ہو جاتا ہے، جیسے دوسری تمام عادتیں اور ملکے مسلسل مشق سے حاصل ہوتے ہیں۔ اب زبان اور گفتگو کا تعلق صرف الفاظ سے ہے، جبکہ معانی ذہن میں ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ ہر انسان کے پاس معانی ہوتے ہیں۔ ہر شخص اپنے ذہن میں ان معانی کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے جنہیں وہ چاہتا اور پسند کرتا ہے۔ ان معانی کو ذہن میں پیدا کرنے کے لیے کسی خاص صنعت یا فن کی ضرورت نہیں ہوتی۔ البتہ ان معانی کے اظہار کے لیے کلام کی ترتیب دینا ایک فن اور مہارت کا محتاج ہے، جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔ کلام معانی کے لیے ایسے ہی ہے جیسے کوئی سانچہ۔ جس برتن سے سمندر کا پانی نکالا جائے، وہ سونے کا ہو، چاندی کا ہو، صدف کا ہو، شیشے کا ہو یا مٹی کا، پانی تو ایک ہی رہتا ہے۔ فرق صرف برتن کے مادے کی وجہ سے ہوتا ہے، پانی کی وجہ سے نہیں۔ اسی طرح زبان کا حسن اور اس کی فصاحت بھی کلام کی ترتیب کے مختلف درجوں کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے، اس بات پر کہ کلام اپنے مقصود اور موقع کے مطابق کس درجہ مناسبت رکھتا ہے۔ لیکن معانی اپنی اصل میں ایک ہی ہوتے ہیں۔ جو شخص کلام کی ترتیب، اس کے طریقوں اور عربی لسانی ملکے سے ناواقف ہو، اور اس کے باوجود اپنے مقصود کو بیان کرنے کی کوشش کرے مگر کامیاب نہ ہو، اس کی مثال ایسے بیمار شخص کی ہے جو اٹھنا چاہتا ہے مگر اٹھ نہیں سکتا، کیونکہ اس میں اس کی طاقت نہیں ہوتی۔
("اور اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے قدرت تمہیں وہ کچھ سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے")

02/07/2026

ج/6، ب/45۔ زبان ایک صناعتی ملکہ ہے، (ابن خلدونؒ ، "المقدمہ")

ابن خلدون کے مطابق، یہ جان لینا چاہیے کہ تمام زبانیں ایک ایسی پختہ عادت اور ملکہ ہیں جو صنعتوں اور فنون کی مانند ہوتا ہے۔ ان کا مقام زبان ہے، اور ان کا مقصد معانی و مطالب کو ادا کرنا ہے۔ اظہار کی خوبی یا کمزوری اسی ملکہ کے کمال یا نقص پر موقوف ہوتی ہے۔ یہ بات مجرد الفاظ کے بارے میں نہیں بلکہ الفاظ کی ترکیب اور جملوں کی ساخت کے بارے میں ہے۔ جس شخص کو زبان کا کامل ملکہ حاصل ہو، یہاں تک کہ وہ انفرادی الفاظ کو اس انداز سے باہم جوڑ سکے جس سے اس کے دل کے تمام معانی پوری طرح ادا ہو جائیں، اور وہ کلام کی ایسی ہیئت اختیار کرے جو ہر مقام اور ہر حال کے تقاضے کے مطابق ہو، تو وہ اپنی مراد کو سننے والے تک اس درجہ پہنچانے کی قدرت رکھتا ہے جس درجہ انسانی طاقت میں ممکن ہے۔ اسی کو فصاحت و بلاغت کہا جاتا ہے۔ ملکہ صرف بار بار عمل کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ ابتدا میں کوئی عمل ایک مرتبہ انجام دیا جاتا ہے، تو وہ نفس میں ایک صفت پیدا کرتا ہے۔ جب وہ عمل بار بار دہرایا جاتا ہے تو وہ صفت ایک حال بن جاتی ہے، یعنی ایسی کیفیت جو ابھی پوری طرح راسخ نہیں ہوئی ہوتی۔ پھر جب مزید تکرار ہوتی رہتی ہے تو وہی کیفیت پختہ ہو کر ملکہ بن جاتی ہے، یعنی ایسی راسخ صفت جو آسانی سے زائل نہیں ہوتی۔ جب تک عربوں میں عربی زبان کا یہ ملکہ باقی رہا، عرب کا ہر فرد اپنے اہلِ نسل اور اہلِ زبان کو عربی بولتے ہوئے سنتا تھا۔ وہ ان کے اندازِ گفتگو، ان کے اسالیبِ بیان، اور معانی ادا کرنے کے طریقے سنتا رہتا تھا۔ بچہ پہلے انفرادی الفاظ کو ان کے صحیح معانی میں سنتا اور سیکھتا تھا، پھر وہ الفاظ کی ترکیبیں اور جملے سنتا اور اسی طرح ان کو بھی سیکھ لیتا تھا۔ ہر لمحہ ہر بولنے والے سے کوئی نئی ترکیب اور نیا انداز سنتا، اور خود بھی برابر اس کی مشق کرتا رہتا، یہاں تک کہ صحیح عربی اس کی طبیعت میں رچ بس جاتی اور ایک راسخ ملکہ بن جاتی۔ اس طرح وہ خود بھی اہلِ عرب کی طرح عربی بولنے لگتا تھا۔ اسی طریقے سے عربی زبانیں اور ان کی مختلف بولیاں ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہیں، اور اسی طریقے سے غیر عربوں اور بچوں نے بھی انہیں حاصل کیا۔ اسی حقیقت کی طرف عوام کا یہ قول اشارہ کرتا ہے کہ "عربوں کو زبان طبعی طور پر حاصل تھی"۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے اندر یہ ملکہ اپنی اصل فطرت اور معاشرتی ماحول سے پیدا ہوا تھا، جبکہ دوسروں نے یہی زبان انہی سے سیکھی، اور خود عربوں نے اسے کسی دوسرے سے نہیں سیکھا تھا۔ قبیلۂ مضر کی عربی اس وقت بگڑنے لگی جب ان کا اختلاط غیر عرب قوموں سے ہوا۔ اس فساد کی وجہ یہ تھی کہ نئی نسل اپنے گرد و پیش میں غیر عربوں کے وہ اسالیب بھی سنتی تھی جن سے وہ اپنے معانی ادا کرتے تھے، اور ساتھ ہی عربوں کی اصل زبان بھی سنتی تھی۔ یوں دونوں طریقے آپس میں مل گئے، اور لوگوں نے دونوں سے کچھ نہ کچھ اختیار کر لیا۔ اس اختلاط سے ایک نیا لسانی ملکہ پیدا ہوا، جو پہلے والے کامل ملکہ سے کمتر تھا۔ اسی کیفیت کو عربی زبان کا فساد کہا جاتا ہے۔ اسی بنا پر قریش کی بولی تمام عربی بولیوں میں سب سے زیادہ صحیح، فصیح اور خالص سمجھی گئی، کیونکہ قریش غیر عرب قوموں کے علاقوں سے سب سے زیادہ دور تھے۔ ان کے بعد ثقیف، ہذیل، خزاعہ، بنو کنانہ، غطفان، بنو اسد اور بنو تمیم کے قبائل کا درجہ تھا، کیونکہ وہ بھی قریش کے قریب تھے۔ جبکہ ربیعہ، لخم، جذام، غسان، ایاد، قضاعہ اور اہلِ یمن قریش سے نسبتاً دور تھے، اور ان کی ہمسائیگی فارس، روم اور حبشہ والوں سے تھی۔ اس مسلسل اختلاط کے باعث ان کی لسانی عادت اسی درجے کی کامل نہ رہی۔ اسی لیے اہلِ لغت اور ائمۂ عربیت نے قبائل کی بولیوں کو قریش سے ان کے قرب و بعد کے اعتبار سے حجت قرار دیا، اور اسی معیار پر ان کی زبان کی صحت یا اس میں فساد کا فیصلہ کیا۔
("اور اللہ تبارک وتعالیٰ ہی زیادہ جاننے والا ہے")

02/07/2026

ج/6، ب/34. علمی کتابوں کی کثرت، علمِ کامل کے حصول کی راہ میں رکاوٹ ہے، (ابن خلدونؒ ، "المقدمہ")

ابن خلدون کے مطابق، یہ جان لینا چاہئے کہ انسانی طلبِ علم اور کامل مہارت کے حصول کے لئے جن چیزوں میں ضرر ہے، ان میں سے ایک علمی کتابوں کی کثرت، اصطلاحاتِ فنیہ کا بکثرت مختلف ہونا، اور ان کتابوں میں اختیار کئے گئے مختلف طریقوں کا تعدد ہے۔ طالبِ علم سے مطلوب ہوتا ہے کہ وہ ان سب پر حاضر علم رکھتا ہو۔ تبھی وہ کامل عالم شمار کیا جاتا ہے۔ پس طالبِ علم کیلئے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ تمام کتابوں، یا ان میں سے اکثر کو جانتا ہو، اور ان میں اختیار کئے گئے طریقوں کو سمجھتا ہو۔ حالانکہ ایک ہی فن میں موجود تمام علمی ذخیرے کو جاننے کیلئے پوری عمر بھی کافی نہیں ہوسکتی، اگرچہ انسان اپنی تمام زندگی اسی کیلئے وقف کردے۔ لہٰذا اس کیلئے کامل مہارت حاصل کرنا لازماً دشوار ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر فقہِ مالکی میں اس صورتِ حال کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ المدونہ ہے، پھر اس کی شروح ہیں، جیسے ابن یونس، اللخمی، اور ابن بشیر کی کتابیں، اور اس پر لکھی گئی تعلیقات اور مقدمات۔ یا المدونہ کی ہم رتبہ کتاب العتبیہ ہے، اور اس پر ابن رشد کی تصنیف البیان والتحصیل ہے، یا ابن الحاجب کی کتاب اور اس پر لکھی گئی کتابیں ہیں۔ اس کے علاوہ طالبِ علم کیلئے ضروری ہے کہ وہ قیروانی طریقے اور قرطبی، بغدادی، اور مصری مالکیوں کے طریقوں میں، نیز ان کے متاخرین کے طریقوں میں امتیاز کرسکے۔ اسے ان سب امور کا علم ہونا چاہئے۔ تبھی ایک شخص فتوٰی دینے کے قابل سمجھا جاتا ہے۔نحالانکہ یہ تمام چیزیں ایک ہی موضوع کی مختلف صورتیں ہیں۔ طالبِ علم سے مطلوب ہے کہ وہ ان سب پر حاضر علم رکھے اور ان میں فرق بھی کرسکے۔ حالانکہ ان میں سے صرف ایک ہی چیز پر پوری عمر صرف کی جاسکتی ہے۔ اگر اساتذہ اور طلبہ صرف مذہب کے اصل مسائل تک اپنے آپ کو محدود رکھتے، تو معاملہ بہت آسان ہوجاتا، اور تعلیم و تعلم سہل اور قریب الفہم ہوجاتا۔ لیکن یہ ایک ایسی خرابی ہے جس کا علاج ممکن نہیں، کیونکہ یہ عادت کے ذریعے دلوں میں راسخ ہوچکی ہے۔ گویا یہ ایک طبعی امر بن چکی ہے جسے نہ ہٹایا جاسکتا ہے اور نہ بدلا جاسکتا ہے۔ اسی طرح ایک اور مثال علمِ نحو و لغت کی ہے۔ سیبویہ کی الکتاب ہے اور اس پر موجود تمام علمی ذخیرہ ہے۔ پھر بصریوں، کوفیوں، اور بغدادیوں کے طریقے ہیں، اور بعد میں اہلِ اندلس کے طریقے ہیں۔ پھر قدیم اور جدید نحویوں کے طریقے ہیں، جیسے ابن الحاجب اور ابن مالک، اور ان سب پر موجود تمام علمی مواد ہے۔
یہ تمام مواد طالبِ علم سے بہت زیادہ محنت کا مطالبہ کرتا ہے۔ انسان اپنی پوری زندگی اس سے کم مواد پر بھی صرف کرسکتا ہے۔ کوئی شخص اس کے کامل احاطے کی طمع نہیں کرسکتا، سوائے چند نادر افراد کے جنہیں کامل مہارت حاصل ہوجاتی ہے۔ مثال کے طور پر ہم اہلِ مغرب تک ایک مصری نحوی کی کتابیں پہنچی ہیں جن کا نام ابن ہشام ہے۔ ان کی کتابوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابن ہشام نے علمِ نحو کی ملکہ کو اس درجہ حاصل کرلیا تھا کہ ان سے پہلے سوائے سیبویہ، ابن جنی، اور ان جیسے لوگوں کے کسی کو حاصل نہ ہوسکا تھا۔ ان کا نحوی ملکہ نہایت ترقی یافتہ تھا، اور اصول و فروعِ نحو میں ان کا علم اور تجربہ نہایت وسیع تھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ علمی فضیلت صرف متقدمین ہی کیلئے مخصوص نہیں، خصوصاً جبکہ ہم ان رکاوٹوں کا ذکر کرچکے ہیں جو مدارس، طریقوں، اور کتابوں کی کثرت کی وجہ سے علم کے حصول کی راہ میں پیدا ہوگئی ہیں۔
نہیں!“اللہ تبارک وتعالیٰ اپنا فضل جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے”۔
ابن ہشام دنیا کے نادر عجائبات میں سے ایک تھے۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اگر طالبِ علم اپنی پوری عمر ان تمام چیزوں میں صرف کردے، تب بھی یہ اس کیلئے کافی نہ ہوگی کہ مثلاً علمِ عربیت پر کامل دسترس حاصل کرسکے، حالانکہ یہ تو محض ایک آلہ اور وسیلہ ہے۔ پھر اصل مقصود، یعنی کامل اور جامع علم کے حصول کا کیا حال ہوگا؟
لیکن: “اللہ تبارک وتعالیٰ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے”۔

Address

786 Road
Dassu
46500

Telephone

+923456660184

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rare Handmade Iranian Turkish and Afghan Rugs posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Rare Handmade Iranian Turkish and Afghan Rugs:

Shortcuts

Share

Category