14/06/2026
✨⚔️ “وہ رات… جب ایک قاتل دروازے پر کھڑا تھا اور علیؓ مسکرا رہے تھے!” ⚔️✨
مدینہ کی خاموش رات تھی۔ ہر طرف سکون پھیلا ہوا تھا، مگر ایک دل تھا جو بےچین تھا—ایک دشمن، جو حضرت علیؓ کو نقصان پہنچانے کا ارادہ لے کر ان کے گھر کے باہر کھڑا تھا۔
وہ شخص کئی دنوں سے موقع کی تلاش میں تھا۔ آخرکار اس نے رات کا وقت چنا، ہاتھ میں تلوار لیے دروازے کے قریب آیا… مگر جیسے ہی دروازہ کھلا، سامنے وہ منظر تھا جس نے اس کے قدم جما دیے۔
دروازہ کھولنے والے کوئی اور نہیں، خود حضرت علیؓ تھے۔
مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ نہ ان کے چہرے پر خوف تھا، نہ غصہ… بلکہ ایک عجیب سا سکون اور مسکراہٹ تھی۔
حضرت علیؓ نے نرمی سے فرمایا: “تم کئی دنوں سے یہاں آ رہے ہو… کیا مجھے قتل کرنے آئے ہو؟”
وہ شخص کانپ گیا… اس کے ہاتھ سے تلوار لرزنے لگی۔
حضرت علیؓ نے فرمایا: “اگر تم بھوکے ہو تو آؤ، پہلے کھانا کھا لو… اگر کوئی مشکل ہے تو بتاؤ… میں تمہاری مدد کروں گا۔”
یہ سن کر وہ دشمن ٹوٹ گیا۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
وہ بولا: “میں آپ کو قتل کرنے آیا تھا… مگر آپ نے تو مجھے محبت دی… میں کیسے ایسا کر سکتا ہوں؟”
اسی لمحے اس کا دل بدل گیا۔ وہ دشمن، دوست بن گیا… اور حضرت علیؓ کے اخلاق کا اسیر ہو گیا۔
💔✨ سبق: اصل طاقت تلوار میں نہیں، کردار میں ہوتی ہے۔
جو اپنے دشمن کو بھی محبت سے جیت لے… وہی حقیقی فاتح ہوتا ہے۔
🌙 دل کو چھو لینے والی بات: “حضرت علیؓ نے ہمیں سکھایا کہ بدلہ لینا آسان ہے… مگر معاف کرنا، اللہ والوں کا کام ہے!”