27/01/2025
Thank you so much Dear Qasim Ali Shah .. Looking Forward to start this new journey with your Vision!!
میرے دفتر کا دروازہ کھلا اور ایک باوقار انسان اندر داخل ہوگیا جس کا انداز محبت، خود اعتمادی اور خلوص سے بھرپور تھا۔ میری آنکھوں میں شناسائی کی چمک پیدا ہوئی، بار بارخیال آرہا تھا کہ یہ خد وخال میں نے کہیں دیکھ رکھے ہیں لیکن کہاں؟ فی الحال میرے پاس جواب نہیں تھا۔ سلام دعا کے بعد نووارد نے اپنا تعارف کرایا تو میں تصور میں 22 سال پیچھے چلا گیا۔
یہ میرے شاگرد محمد علی احسن ہیں۔ دو دہائیاں قبل جب میں اکیڈمی چلا رہا تھا، تب یہ میرے پاس میتھس پڑھنے کے لیے آئے تھے۔ علی احسن آرکیٹیکٹ بننا چاہ رہے تھے۔ یہ دو سال تک میرے پاس پڑھتے رہے۔ ہمارا تعلق صرف استاد اور شاگرد تک محدود نہیں تھا بلکہ ہم دوست اور بھائی بھی تھے۔ میری والدہ اکیڈمی میں آنے والے طلبہ کا بہت خیال رکھتیں، مجھے یاد ہے کہ وہ پراٹھے بناتیں اور ہم سب مزے لے لے کر کھاتے۔ پڑھائی سے فارغ ہونے کے بعد کبھی ہم سموسے منگواتے تو کبھی کوئی اور کھانے کی چیز، اور دیر تک مستقبل کے خواب بُنتے رہتے۔ آج علی احسن کو دیکھ کر وہ تمام خوب صورت یادیں دماغ کے پردے پر جلوہ گر ہوگئیں۔ کچھ عرصے بعد علی احسن نے نیشنل کالج آف آرٹس میں اپلائی کیا لیکن نمبر کم آئے تو میں اور علی احسن کے والد صاحب یہ مقدمہ لڑنے کے لیے بورڈ کے دفتر چلے گئے اور بالآخر انھیں داخلہ مل گیا۔
انھوں نے نیشنل کالج آف آرٹس سے آرکیٹیکچر میں گریجویشن جب کہ UMT سے ماسٹر کی ڈگری مکمل کی ہے۔ ڈگری کے بعد علی احسن نے دو تین سال نوکری کی اور اس کے بعد اپنی کمپنی بنائی۔ انھوں نے KSID میں خاصا وقت گزارا اور Hospitality کے کئی پراجیکٹس مکمل کیے۔
اس وقت علی احسن OZ ڈیویلپرز کے Design wing کے HOD ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ Paradigm Design Concept کے فاؤنڈر سی ای او بھی ہیں۔ OZ ڈیویلپرز کے ساتھ کام کرتے ہوئے انھوں نے بحریہ اسکائی میں جزوی طور پر اور لاہور اسکائی پراجیکٹ میں کلی طور پر اپنی خدمات فراہم کی ہیں۔ انھوں نے کئی کارپوریٹ آفس کو ڈیزائن کرنے کے ساتھ ساتھ 50 سے زائد رہائشی منصوبوں کو بھی کامیابی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے۔ علی احسن کے تجربے اور قابلیت کی بدولت انھیں پاکستان کاؤنسل آف آرکیٹیکٹس اینڈ ٹاؤن پلانر اور انسٹیٹیوٹ آف آرٹس پاکستان کا ممبر بھی بنایا جاچکا ہے۔
اس وقت علی احسن میرے سامنے بیٹھے ہیں۔ ان 22 برسوں میں یہ کس قدر بدل چکے ہیں۔ ان کی کنپٹیاں سفید ہوچکی ہیں لیکن جب میں ان کی شان دار کامیابیوں پر نظر ڈالتا ہوں تو استاد اور بڑے بھائی کے طور پر میرا سینہ فخر سے چوڑا ہو جاتا ہے۔ آئندہ دنوں ہم مل کر کچھ پراجیکٹس شروع کر رہے ہیں۔ میں دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے پیارے بھائی علی احسن کو مزید کامیابیاں عطا فرمائے۔ آمین