30/11/2025
*نئے ٹریفک قوانین کے سلسلے میں صورتحال واقعی نوجوانوں کے مستقبل کے لیے تشویش ناک ہے۔حکومت ایک جانب نوکریوں کے اعلانات کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جن سے بےگناہ نوجوان کریمنل ریکارڈ میں شامل ہو رہے ہیں اور یہی ریکارڈ اُن کے روزگار کے سنہری مواقع چھین رہا ہے۔" حکومت سے نئے ترمیمی قوانین کے حوالے سے نظر کی اپیل کرتے ہیں سول سو سائٹی فورم کے رہنماوں شاہد محمود انصاری سمیت دیگر رہنماوں کا پریس کانفرنس میں اظہار تشویش ۔۔۔*
ملتان ( ): نئے ٹریفک قوانین کے سلسلے میں صورتحال واقعی نوجوانوں کے مستقبل کے لیے تشویش ناک ہے۔حکومت ایک جانب نوکریوں کے اعلانات کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جن سے بےگناہ نوجوان کریمنل ریکارڈ میں شامل ہو رہے ہیں اور یہی ریکارڈ اُن کے روزگار کے سنہری مواقع چھین رہا ہے۔پالیسی پر عملدرآمد سے پہلے اگر چند دنوں کے لیے لائسنس فری یا آسان کر دیے جاتے، عوام کو آگاہی دی جاتی، اور سہولت فراہم کی جاتی تو شہری اس اقدام کو سراہتے۔مگر اچانک پکڑ دھکڑ اور زبردستی لائسنس بنوانے سے نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگ رہا ہے، جو نہ انصاف ہےاور نہ کوئی حکمت عملی ۔ ان خیالات کا ظہار سول سوسائٹی فورم ملتان کے چیف کوارڈینیٹر ، سماجی رہنما شاہد محمود انصاری چوہدری زمان اکبر۔ ملک امیر نواز۔ اقبال خان بلوچ۔ سید افتخار بخاری ایڈووکیٹ نے نئے ٹریفک قوانین کے سلسلے میں اپنے ایک تشویشی پریس کانفرنس کے بیان میں کیا ۔ انہوں نے صوبائی حکومت و دیگر ارباب اختیار سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اس کالے پنجاب موٹر وہیکل آرڈینینس کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔اس ایف آئی آر کی وجہ سے طالبعلم اور نوجوانوں پر سرکاری نوکری کے راستے ہمیشہ کیلئے بند ہو جائیں گے۔ جس سے انکا مستقبل داوّ پر لگ چکا ہے ۔ ایسے نوجوانوں کے لئے پرائیویٹ نوکری کیلئے پولیس کی طرف سے کریکٹر سرٹیفیکیٹ نہیں بنا کر دیا جائیگا۔ یعنی پرائیویٹ سیکٹر میں بھی اپلائی نہیں کر سکے گا۔بیرون ملک اعلی تعلیم کیلئے بھی اپلائی نہیں کر سکے گا۔اس ایف آئی آر سے اس کی زندگی برباد ہو جائیگی۔شاہد محمود انصاری نےکہا کہ پنجاب کے اراکین اسمبلی ہوش کے ناخن لیں اور اس آرڈینینس کو فوری طور پر ختم کرائیں ورنہ لاکھوں معصوم طالبعلموں کی زندگیاں برباد کرنے کے وہ ذمہ دار ہوں گے۔اس حوالے سے ہماری نوجوانوں سے بھی یہ التماس ہے کہ وہ اپنی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے دوران سفر ہیلمٹ اور گاڑیوں میں سیٹ بیلٹ کا استعمال اور اپنے ڈرائیونگ لائسنس اور اپنی وہیکل کے کاغذات اپنے ہمراہ رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ شہری جنہیں ہر روز موٹر سائیکل یا دیگر گاڑی استعمال کرنی پڑتی ہے — خاص طور پر گلی‑محلوں، پرانی یا چھوٹی سڑکوں، اور پوشیدہ بازاروں میں — ان کے سامنے اکثر یہ حالات ہوتے ہیں کہ سڑکیں ٹوٹی ہوئی، گڑھے، مناسب روشنی کی کمی، پارکنگ کی عدم دستیابی، یا خطرناک حالت میں ہوں۔ ایسے حالات میں ہیلمٹ پہننا، محفوظ رفتار رکھنا، اور ٹریفک قوانین کی مکمل پاسداری کرنا شہری کے لیے مشکل ہوجاتا ہے۔پھر اگر پولیس یا انتظامیہ صرف کریک ڈاؤن پر توجہ دے اور سڑکوں کی مرمت، روشنی، پارکنگ سہولت، یا عوامی شعور نہ فراہم کرے — تو نتیجتاً عام شہری غیر ارادی طور پر خلاف ورزیوں کے لیے نشانہ بن جاتا ہے۔قانون کا مقصد صرف جرمانہ لگانا یا پکڑنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کا مقصد شہری زندگی کو محفوظ بنانا، نظم و ضبط قائم کرنا، اور عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنا ہے۔ اگر صرف قوانین سخت کیے جائیں، مگر سڑکیں خستہ رہیں، انفراسٹرکچر نہ ہو، شہریوں کے لیے متبادل راستے، پارکنگ، روشنی نہ ہو — تو قانون “تحفظِ قوانین” کی بجائے “ظلمِ قوانین” بن جاتا ہے ۔۔۔