18/04/2026
اپنے ثقافتی ورثہ کی حفاظت کریں۔۔۔یہی قوموں کی زندگی اور ان کی پہچان ہے
(جانوئی ہیریٹیج میوزیم عجائب گھر)
تحریر راجہ شمس الزماں منہاس انفارمیشن سیکرٹری اگیگا ضلع نیلم
18 اپریل کو دنیا بھر میں ثقافتی ورثہ کا عالمی دن (World Heritage Day) منایا جاتا ہے، جسے باضابطہ طور پر International Council on Monuments and Sites (ICOMOS) نے 1982 میں تجویز کیا، جبکہ 1983 میں UNESCO (یونیسکو) نے اسے عالمی سطح پر تسلیم کیا۔ اس دن کا مقصد دنیا کے ثقافتی ورثے، تاریخی عمارات، آثارِ قدیمہ اور تہذیبی شناخت کو محفوظ بنانے کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے، تاکہ آنے والی نسلیں بھی اپنے ماضی سے جڑی رہیں۔
اس دن کے بنیادی مقاصد میں عوام میں آگاہی پیدا کرنا، تاریخی مقامات کی حفاظت، غیر قانونی کھدائی اور اسمگلنگ کی روک تھام، اور ثقافتی ورثے کو درپیش خطرات (جیسے موسمیاتی تبدیلی، جنگیں اور شہری پھیلاؤ) کے بارے میں شعور بیدار کرنا شامل ہیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ دن کافی حد تک کامیاب رہا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے دنیا بھر میں سینکڑوں تاریخی مقامات کو ورلڈ ہیریٹیج سائٹس کا درجہ ملا، اور حکومتوں نے ان کے تحفظ کے لیے قوانین اور منصوبے بنائے۔ تاہم، اب بھی کئی ممالک میں فنڈز کی کمی، بدانتظامی اور ماحولیاتی خطرات کے باعث یہ مشن مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکا۔
پاکستان نے بھی اس عالمی تحریک سے خاصی حد تک فائدہ اٹھایا ہے۔ UNESCO کے تعاون سے ملک میں متعدد تاریخی مقامات کو عالمی ورثہ قرار دیا گیا، جیسے کہ موئن جو دڑو، ٹیکسلا، لاہور قلعہ اور شالامار باغ۔ ان کے تحفظ، بحالی اور سیاحت کے فروغ کے لیے مختلف منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں
لیکن وادی نیلم آذادکشمیر کے علاقے جانوئی گریس ویلی میں ایک عجائب گھر جس کے اونر بشیر احمد مغل خیرخواہ ہیں اپنی ثقافت کو بچانے کے لیے شروع دن سے کوشاں ہیں حکومتی سطح پر انکے ساتھ تعاون نہیں ہوا 2015 میں چوہدری محمد ارشد پراجیکٹ منیجر ہمالین وائلڈ لائف فاؤنڈیشن اور راقم راجہ شمس الزماں منہاس سوشل آرگنائزیشن ہمالین وائلڈ لائف آرگنائزیشن نے ایک کاوش لاجورد وزیٹنگ سکول اسلام آباد کی میڈم ،زہرہ حسن کے ساتھ ملکر اس عجائب گھر کو جدت دینے اور قمیتی ایشیا کو محفوظ کرنے کے حوالے سے کام کیا مگر یہ بہت ہی زیادہ مشکل کام ہے اور بشیر احمد مغل خیرخواہ اکیلے ہی سر انجام دے رہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ثقافتی ایشیا کے تحفظ کے لیے انکی مدد کی جاے آزا کشمیر محکمہ سیاحت و آثار قدیمہ انکے ساتھ بھرپور تعاون کریں
جہاں تک 2026 کے تھیم کا تعلق ہے، عام طور پر International Council on Monuments and Sites ہر سال ایک مخصوص تھیم جاری کرتا ہے۔ 2026 کے لیے باضابطہ عالمی تھیم ابھی وسیع سطح پر نمایاں نہیں ہوا، تاہم حالیہ برسوں کے رجحان کو دیکھتے ہوئے توجہ “ثقافتی ورثے اور ماحولیاتی پائیداری” (Heritage and Climate Action) جیسے موضوعات پر مرکوز ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تاریخی ورثے کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے کیسے محفوظ رکھا جائے۔
مختصراً، ورلڈ ہیریٹیج ڈے نہ صرف ماضی کی حفاظت کا پیغام دیتا ہے بلکہ مستقبل کی تہذیبی بقا کے لیے ایک عالمی عزم کی علامت بھی ہے۔ آج 18اپریل عالمی ثقافتی دن کے حوالے سے میں محکمہ سیاحت و آثار قدیمہ سے ملتمس ہوں کہ وہ بشیر احمد مغل کے ساتھ تعاون کریں اور سیاحتی کیلنڈر میں اس عجائب گھر کو شامل کریں