24/06/2026
کم عمری میں ۔۔ جب مجھے دعا مانگنا سکھایا گیا
تو اس دعا کے الفاظ کچھ یوں تھے
اللہ تعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم پر ۔۔ رکھئیے گا
ہم سے راضی رہئیے گا
اور خاتمہ بالخیر کیجئے گا
بچپن سے دعا کی صورت رٹے یہ جملے ۔۔ زبان پر کچھ ایسے چڑھے ہوئے ہیں کہ آج بھی جب دعا مانگنے لگوں تو درود پاک پڑھ کے ۔۔ انہی جملوں سے دعا کی شروعات کرتی ہوں
اور کبھی کبھی دعا مانگ کر
جائے نماز پر یونہی بیٹھے رہنا ۔۔ مجھے بڑا اچھا لگتا ہے
ایک دن کسی کیفیت میں ۔۔ دعا کے بعد ۔۔ یونہی بیٹھی ۔۔ اپنی دعا کے جملوں پر غور کرنے لگ گئی
سورت فاتحہ سے ۔۔ صراطِ مستقیم کی Definition سمجھی
اللہ کو راضی کرنے کے رستے تلاش کرنے چاہے
اور ''خاتمہ بالخیر'' پر آ کر ذرا سا اُلجھ گئی
اگر کوئی شخص ساری عمر اللہ کی رضا کے مطابق جیا ہو تو ۔۔ کیا زندگی کے آخری لمحوں میں ۔۔۔ اس کے بہک جانے کے چانسزز ہوتے ہیں ۔۔ ؟
اور جو اللہ کی مانتے ہی نہیں ۔۔ آخری لمحوں میں ان کا خاتمہ بالخیر کیسے ہو سکتا ہے ۔۔ ؟
یہ خاتمہ بالخیر ہے کیا ۔۔ ؟
اس سے پہلے کہ میں مزید اُلجھتی ۔۔ میرا ذہن جو اِدھر اُدھر سے مثالیں ڈھونڈ رہا تھا
اس میں ٹَھک سے ایک شخص چلا آیا
پتہ ہے کون ۔۔۔ ؟
خاتمہ بالخیر کی خوبصورت ترین مثال
''حُر بن یزید حنظلی''
لشکرِ یزید کا سپہ سالار
جسے حُسین ابنِ علی کو روکنے اور لے جانے کے لیے بھیجا گیا تھا
جب جب واقعہ کربلا پڑھا اور سنا
تو دو کرداروں نے ہمیشہ سوچنے پر مجبور کیا
حُر بن یزید ۔۔ پہلے بھیجا گیا سپہ سالار
عمر بن سعد ۔۔ جسے بعد میں فوج کو لِیڈ کرنے کے لیے بھیجا گیا
حُر صرف ایک جنگجو تھا
اور عمر بن سعد ۔۔ عشرہ مبشرہ میں شامل حضرت سعد بن ابی وقاص کا بیٹا
ایسا کیا تھا ۔۔۔ ؟
کہ وہ جنگجو پہلے دن سے لے کر ۔۔ آخری دن تک حُسین ابنِ علی سے مکالمہ کر کے ۔۔ بہت کچھ ٹالتا رہا
ان کے امامت میں نماز پڑھتا رہا
اور آخری لمحوں میں
جب اسے پتہ تھا کہ حُسین کی طرف ۔۔ صرف اب موت ہے
تو وہ حُسین کے ساتھ ۔۔ اپنی ہی فوج کے ہاتھوں مرنے کے لیے ۔۔ آ کھڑا ہوا
دنیا میں یقیناً بڑے بہادر اور نیک لوگ گزرے ہیں
جنہوں نے دنیاوی لذتوں کو تیاگ کر آخرت کو ترجیح دی
اور اللہ کی راہ میں اپنی جان دے دی
لیکن اس سچویشن کو ذرا ایک بار سوچیں
دس محرم کا دن اور دو لوگ
دونوں کے پاس ایک جیسا عہدہ اور دیا جانے والا دنیاوی لالچ
دونوں ایک ہی فوج کو لِیڈ کر رہے تھے
دونوں کو پتہ تھا ۔۔ سامنے کون ہے
انہیں کس سے لڑنا ہے
ایک نے دنیا کو چُن کر ۔۔ دنیا کو یہ سبق دیا کہ باپ کی فضیلت اور مقام ۔۔ بیٹے کے اعمال کی ذمہ داری کو منتقل نہیں ہوتا
قرآن کریم میں ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے
حضرت سعد بن ابی وقاص تو وہ تھے کہ غزوہ اُحد میں ۔۔ انہیں تِیر چلاتا دیکھ کر
میرے نبی نے کہا تھا
''سعد تِیر چلاتے رہو ۔۔ میرے ماں باپ تم پر قربان''
اور انہی کا بیٹا ۔۔۔ کیسا بد بخت نکلا
کہ قاتلین حّسین کا امیر بنا
اور دوسری طرف حُر تھا
کیسا نصیب پایا
کہ دنیا اور آخرت کی کشمکش میں سے ۔۔ آخری لمحوں میں آخرت کو چُن کر
دنیا کو بتا دیا ۔۔ یہ ہوتا ہے خاتمہ بالخیر
حُر بن یزید کا کردار ۔۔ واقعہ کربلا میں ۔۔ مجھے ہمیشہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے
ابھی جب ان کے بارے میں ۔۔ میں لکھنے لگی
تو اس خیال سے کہ کہیں کوئی غلطی ۔۔ کوتاہی نہ کر بیٹھوں
میں نے تاریخ ابنِ کثیر کھول کر ۔۔ اس میں سے ۔۔ حُر کے بارے میں پڑھنا شروع کیا
علامہ حافظ ابو الفد عماد الدین ابنِ کثیر دمشقی
کی لکھی ہوئی تاریخ ابنِ کثیر
کی جلد ہشتم کے صفحہ نمبر 191 سے ایک باب کا آغاز ہوتا ہے
جس کا نام ہے
''یزید بن معاویہ اور اس کے دَور کے حالات''
(جس کسی کو واقعہ کربلا کی تفصیل ۔۔ مستند حوالے سے پڑھنی ہو
وہ تاریخ ابنِ کثیر کی جلد ہشتم کو پڑھ سکتا ہے
وہاں 191 سے 269 صفحات تک
اسی بارے میں لکھا ہوا ہے)
اب آتے ہیں ۔۔ حُر بن یزید کے کردار پر
ابنِ کثیر کے صفحہ نمبر 233 پر لکھا ہے
کہ حُر کوفہ کے بڑے بہادروں میں سے تھا
اس کے ایک ساتھی نے اسے حضرت حُسین کی طرف جانے پر جب ملامت کی
تو اس نے کہا
''خدا کی قسم ۔۔ میں اپنے نفس کو جنت اور دوزخ کے درمیان اختیار دے رہا ہوں
اور قسم بخدا میں جنت کے سوا کسی چیز کو اختیار نہیں کروں گا
خواہ مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے اور جلا دیا جائے''
پھر جب لشکرِ یزید نے تِیروں سے حملہ کیا تو وہ نواسہ رسول کے آگے کھڑا ہو گیا
اور عمر بن سعد سے کہا
تم ہلاک ہو جاؤ کہ تم نے حُسین کو فرات کے اس پانی سے روک دیا ہے
جسے یہود و نصاری پیتے ہیں
جسے جانور پیتے ہیں
حُر کو پتہ تھا ۔۔ وہ مارا جائے گا
اور وہ مارا گیا
وہ نواسہ رسول کے ساتھی کے طور پر مارا گیا
کبھی کبھی میں سوچتی ہوں
ایک ہی دن ۔۔ حُر کو کہاں سے کہاں لے گیا
مجھے اس پر رشک آتا ہے
ہم کہتے ہیں ناں کہ یا رسول ہم آپ پر قربان
ہم آپ کی آل پر قربان
ہم آپ کے ۔۔ آپ کی آل کے ۔۔ غلاموں کے غلام
ہم صرف کہتے ہیں
حُر نے کر دکھایا
اس نے سچ میں ۔۔ نواسہ رسول پر قربان ہو کر
نبی اور نبی کی آل سے محبت کرنے والوں کو ۔۔ رہتی دُنیا تک ۔۔ یہ کہنے پر مجبور کر دیا
کہ حُر ہم آپ پر قربان
فائزہ چیمہ