18/02/2026
چمن کالین خاندان میں ایک روایت تھی کہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی سب ایک دوسرے کو خاص انداز میں مبارکباد دیتے تھے۔ اس سال سب کی نظریں سب سے چھوٹے بچے، احمد پر تھیں، کیونکہ اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس بار سب کے لیے کچھ خاص کرے گا۔
جیسے ہی مسجد سے اعلان ہوا کہ چاند نظر آ گیا ہے، گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ دادی اماں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے:
“یا اللہ، اس رمضان کو ہمارے لیے رحمت، مغفرت اور برکتوں والا بنا دے۔”
احمد بھاگتا ہوا آیا، اس کے ہاتھ میں رنگین کارڈز تھے۔ ہر کارڈ پر اس نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا:
“چمن کالین فیملی کی طرف سے رمضان مبارک!”
اس نے سب کو ایک ایک کارڈ دیا۔ امی کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے۔
“بیٹا، یہ سب تم نے خود بنایا ہے؟”
احمد مسکرا کر بولا، “جی امی، تاکہ ہمارا رمضان اور بھی خاص ہو جائے۔”
اس کے بعد سب لوگ دسترخوان کے گرد بیٹھ گئے۔ امی نے کھجوریں، سموسے، پکوڑے اور شربت رکھا۔ مگر اس دن کھانے سے زیادہ اہم ایک اور چیز تھی—محبت۔
ابو نے کہا،
“رمضان صرف روزہ رکھنے کا نام نہیں، بلکہ ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا بھی ہے۔ اس بار ہم سب مل کر ضرورت مندوں کی مدد کریں گے۔”
سب نے سر ہلایا۔ بہن زینب بولی،
“ہم روزانہ ایک کھانے کا ڈبہ بنا کر کسی غریب کو دیں گے!”
یوں چمن کالین خاندان نے اس رمضان کو صرف عبادت ہی نہیں بلکہ خدمت کا مہینہ بنانے کا عہد کیا۔
رات کو جب سب سو رہے تھے، احمد چھت پر جا کر آسمان کی طرف دیکھنے لگا۔ ہلکا سا چاند چمک رہا تھا۔ اس نے آہستہ سے کہا،
“یا اللہ، ہمارے گھر میں ہمیشہ ایسی ہی خوشیاں رکھنا۔”
اور واقعی، اس رمضان چمن کالین خاندان کے گھر میں صرف روزے نہیں رکھے گئے، بلکہ دل بھی صاف ہوئے، رشتے بھی مضبوط ہوئے، اور محبتیں بھی بڑھیں۔
✨ چمن کالین فیملی کی طرف سے آپ کو بھی دل کی گہرائیوں سے رمضان مبارک