Daily Verse

Daily Verse جو لفظ کو کوڑا سمجھے ، شاعری اسے لفظ کا وزن یاد دلا دیتی ہے

27/03/2026

تیری تے میں چُپ وی جر لئی
میں تے گل نہیں جردا چھیتی

فہر میں اوہنوں تر کے دسیا
کہندا ککھ نہیں تردا چھیتی

اسامہ اندلیب
Usama Andleeb


❤️‍🔥❤️‍🔥❤️‍🔥❤️‍🔥❤️‍🔥❤️‍🔥❤️‍🔥❤️‍🔥❤️‍🔥❤️‍🔥

25/03/2026

گھری ماں آج کلی پئی لوکاں مارے
تے پُتر مسیتے خدا لبھدا فردا اے
ڈاکٹر شفقت قاضی
۔
۔
۔
۔
۔


🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

17/03/2026

عجب اعتبار و بے اعتباری کے درمیاں ہے زندگی
میں قریب ہوں کسی اور کے مجھے جانتا کوئی اور ہے
سلیم کوثر
۔
۔
۔
۔
۔
۔

۔
۔
۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

15/03/2026

کیسا سِکہ چلا جہاں میں دھیمے لہجے والے کا
ہوگئے رتبے والوں کے سب نام نسب القاب ہوا
واجد امیر
۔ Wajid Ameer۔
۔

15/03/2026

اے میرے مہرِ منور اے میرے ماہِ منیر 🌸
Fiaz Bostan

23/02/2026

نظم : ایک درخواست

زندگی کے جتنے دروازے ہیں مجھ پر بند ہیں
دیکھنا، حدِ نظر سے آگے دیکھنا بھی جرم ہے
سوچنا،اپنے عقیدوں یقینوں سے نکل کر سوچنا بھی جرم ہے
آسماں در آسماں اسرار کی پرتیں ہٹا کر جھانکنا بھی جرم ہے
کیوں بھی کہنا جرم ہے
کیسے بھی کہنا جرم ہے
سانس لینے کی تو آزادی میسّر ہے
مگر !
زندہ رہنےکے لیے انسان کو کچھ اور بھی درکار ہے
اور اس "کچھ اور “ بھی کا تذکرہ بھی جرم ہے
اے ہنر مندانِ آئین و سیاست
اے خداوندانِ ایوان و عقاید
زندگی کے نام پر بس ایک عنایت چاہیئے
مجھ کو ان سارے جرائم کی اجازت چاہیئے

احمد ندیم قاسمی 💙



🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

15/02/2026

نہیں جاتی یہ حیرانی ہماری
وہی ہے خواب سامانی ہماری

ہمارے پاس اس کی مشکلیں ہیں
اور اس کے پاس آسانی ہماری

سبھی کی دسترس میں آ رہے ہیں
کوئی دیکھے تو ارزانی ہماری

بتا قدموں پہ تیرے کیا جچے گا
ہمارا دل کہ پیشانی ہماری

اسی پت جھڑ میں کوئی فصل, گل ہے
رہے آباد ویرانی ہماری

کسی کو کیوں بتائیں حال اپنا
ہماری ہے پریشانی ہماری

ہم اپنی کب خبر رکھتے ہیں سید
خبر رکھتی ہے بے دھیانی ہماری

فضل گیلانی


13/02/2026

ہم ایک ایسی اندھیر نگری سے منسلک ہیں
جہاں مسائل کے بھید کرسی سے منسلک ہیں

ہمارے پیروں میں بیڑیاں ہیں ملازمت کی
ہمارے وعدے ہماری چھٹی سے منسلک ہیں

اس ایک نکتے پہ ساری سائنس کھڑی ہوئی ہے
کہ فارمولے خدا کی مرضی سے منسلک ہیں

تماش بینوں کی خواہشوں میں ہیں جسم رقصاں
مگر جو آنکھیں اداس کھڑکی سے منسلک ہیں

ہماری باتیں ، ہماری غزلیں ، ہماری ، نظمیں
اداس نسلوں کی رائیگانی سے منسلک ہیں

ہم ان بہادر سپاہیوں کی مثال ہیں جو
سروں کی بنیاد پر کہانی سے منسلک ہیں

ہمیں محبت سکھا رہے ہیں لطیف ساجد
جو ہیرو شیما و ناگاساکی سے منسلک ہیں

لطیف ساجد


🖤🖤🖤🖤🖤

12/02/2026

یہ بات کس کو بتاؤں کہ ایک دن میں نے
کسی طرف کو نکلنا ہے پھر نہیں ملنا
عماد اظہر

Ammad Azhar.


❤️‍🩹❤️‍🩹❤️‍🩹❤️‍🩹❤️‍🩹

11/02/2026

تیری تلاش کے ماروں کی نیند پوری ہو
ذرا تو بیٹھ کہ پیروں کی نیند پوری ہو

وصال کر کے جدائی کا نام تک نہ رہے
پھر اتنا جاگیں کہ برسوں کی نیند پوری ہو

خدا تو چاہے گا خوابوں میں سب رہیں مصروف
خدا تو چاہے گا بندوں کی نیند پوری ہو

تیرا بچھڑنا کہ بس جاگنے کی دوری پہ ہے
تو کیسے خوف کے ماروں کی نیند پوری ہو

یہ روٹی پانی کا جھگڑا ہے اور لوگوں کا
میں چاہتا ہوں کہ لوگوں کی نیند پوری ہو

اسی کی مرضی کہ کتنوں کا چوکیدار رہے
اسی کی مرضی کہ جتنوں کی نیند پوری ہو

جو ایک جاگے تو دونوں کو اضطراب رہے
جو ایک سوئے تو دونوں کی نیند پوری ہو
اُسامہ ضوریز
Usama Zoraiz
۔
۔
۔
۔

❤️‍🩹❤️‍🩹❤️‍🩹

11/02/2026

تو جو چاہے تو ایک ذرہ نہیں
تو جو کہہ دے تو بے تحاشہ ہیں
ہم تیرے واسطے تماشہ ہیں
حماد الرحمان



❤️‍🩹❤️‍🩹❤️‍🩹❤️‍🩹❤️‍🩹

10/02/2026

نظم // کس کو معلوم ہے

زندگی درد ہے
جس کو سہتے ہوئے کتنے لوگوں کے سینوں میں دل پھٹ گئے
خواب گاہوں کی وحشت سے نکلے ہوئے
بھیڑیوں کی قسم
بخت جنگل میں ناچا ہوا مور ہے
جس کو دیکھا نہیں

ہم مزاروں کی چوکھٹ پہ بیٹھے ہوئے ایسے مفلوج ہیں
جن کے کشکول میں مکڑیاں سو گئیں
اور دامن دعاؤں سے خالی رہا
ہم نے سب کچھ سہا اور بولے نہیں
شب کے پچھلے پہر خواب دیکھے مگر
ان میں مارے گئے
ہم کہ یوسف نہیں

ہم تو مزدور ہیں
کارخانوں کے ہیبت زدہ شور میں اپنے نگران سے
گالیاں سن کے بھی مسکراتے رہیں
آدھی چھٹی پہ ہم
اپنے محبوب کے گیت گاتے رہیں
حرف کی ڈاریوں کو اڑاتے رہیں

ہم نے کالے لباسوں کو پہنا مگر دل میں ہنستے رہے
اپنی تقدیر پر
ہم محبت کی دنیا کے ابلیس ہیں
ہم کسی کے لگائے ہوئے روگ ہیں
جن کے بارے کبھی تم نے سوچا نہیں
ہم وہی لوگ ہیں

سیف علی
Saif Ali

Address

Rawalpindi District
Rawalpindi
46000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Daily Verse posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share