ZMB's-kitchen

ZMB's-kitchen Cooking recipes in urdu, arabic and English

27/08/2026

# cooking #

20/08/2026
14/08/2026
08/06/2026

پراٹھا

07/06/2026

*انسان اپنے آخری دن کی صبح بھی ویسے ہی اٹھتا ہے جیسے ہمیشہ اٹھتا تھا

وہ چائے یا قہوہ پیتا ہے، گھر والوں سے باتیں کرتا ہے، ہنستا ہے، مسکراتا ہے، مستقبل کے منصوبے بناتا ہے۔ اسے کیا معلوم کہ یہ اس کی زندگی کی آخری صبح ہے، آخری مسکراہٹ ہے، آخری گفتگو ہے، آخری سانسوں کا دن ہے۔

زمین پر سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا ہوتا ہے، مگر آسمان پر اس کے نام کا آخری حکم صادر ہو چکا ہوتا ہے۔

پھر اچانک وہ لمحہ آ جاتا ہے جس سے کوئی بادشاہ بچ سکا، نہ کوئی فقیر، نہ کوئی طاقتور، نہ کوئی کمزور
موت کا حکم نامہ لیکر
فرشتے اترتے ہیں۔
اگر بندہ مؤمن ہو تو رحمت کے فرشتے جنت کی خوشخبری لے کر آتے ہیں، اور اگر بداعمال ہو تو عذاب اور انجام کی خبر سنانے والے فرشتے اس کے سامنے حاضر ہو جاتے ہیں۔

یہ اس سفر کا پہلا مرحلہ اورآغاز ہے جس سے واپس لوٹ کر کوئی نہیں آیا۔

پھر روح نکلنے کا دوسرامرحلہ شروع ہوتا ہے۔

ملک الموت اللہ کے حکم سے روح کو جسم کے پاؤں سے کھینچنا شروع کرتے ہیں۔
آنکھوں کی چمک مدھم پڑ جاتی ہے۔
زبان خاموش ہونے لگتی ہے۔
طاقت جواب دینے لگتی ہے۔
وہ شخص جو کل تک اپنے فیصلوں پر ناز کرتا تھا، آج اپنے ہاتھ تک نہیں ہلا سکتا۔
وہ سب کو دیکھ رہا ہوتا ہے مگر آہستہ آہستہ دنیا اس کی نظروں سے دور ہوتی جا رہی ہوتی ہے۔

پھر تیسرا وہ مرحلہ آتا ہے جب روح سینے سے اوپر اٹھتے ہوئے ہنسلی کی ہڈیوں تک پہنچ جاتی ہے۔

یہ وہ لمحہ ہے جس کا نقشہ قرآن نے کھینچا ہے:

*﴿كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِي ۝ وَقِيلَ مَنْ ۜ رَاقٍ ۝ وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ﴾*

"ہرگز نہیں! جب جان ہنسلی کی ہڈیوں تک پہنچ جاتی ہے، اور لوگ کہتے ہیں: کون ہے جو اسے بچا لے؟(آج کوئی نہیں بچا سکتا )اور وہ خود یقین کر لیتا ہے کہ اب جدائی کا وقت آ گیا ہے۔"

اس وقت ڈاکٹر بے بس ہو جاتے ہیں۔
دوائیں بے اثر ہو جاتی ہیں۔
مال و دولت خاموش کھڑے رہتے ہیں۔
اولاد کچھ نہیں کر سکتی۔
دوست کچھ نہیں کر سکتے۔
دنیا کا ہر سہارا ٹوٹ جاتا ہے۔
پھر روح حلقوم تک پہنچ جاتی ہے۔

کمرے میں لوگ جمع ہوتے ہیں۔
کوئی روتا ہے۔
کوئی دعا کرتا ہے۔
کوئی بے بسی سے چہرہ دیکھتا رہتا ہے۔

مگر موت کا سفر کسی کے لیے نہیں رکتا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

*﴿كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ ۝ وَأَنْتُمْ حِينَئِذٍ تَنْظُرُونَ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ﴾*

"ہرگز نہیں! جب جان حلق تک پہنچ جاتی ہے، اور تم اسے دیکھ رہے ہوتے ہو، اور ہم اس سے تمہاری نسبت زیادہ قریب ہوتے ہیں، لیکن تم دیکھ نہیں سکتے۔"

یہ چوتھا مرحلہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان کو وہ سب کچھ نظر آنا شروع ہو جاتا ہے جس پر وہ زندگی بھر ایمان لانے یا انکار کرنے کے درمیان کھڑا رہا تھا۔

پھر اچانک...

ایک سانس آتی ہے۔

اور واپس نہیں جاتی۔

آنکھیں ایک جگہ ٹھہر جاتی ہیں۔

ہونٹ خاموش ہو جاتے ہیں۔

دل دھڑکنا بند کر دیتا ہے۔

اور دنیا اعلان کر دیتی ہے:

"فلاں شخص فوت ہو گیا۔"

بس اتنی سی بات۔

جس کے لیے دنیا چھوٹی پڑتی تھی، آج وہ چند گز کفن میں لپٹا ہوا ہوتا ہے۔
جس نے محل بنائے تھے، اب قبر اس کا گھر بننے والی ہوتی ہے۔

جس نے مال جمع کیا تھا، وہ دوسروں میں تقسیم ہو رہا ہوتا ہے۔

جس نے رشتے بنائے تھے، سب قبرستان کے دروازے تک ساتھ جاتے ہیں، پھر واپس لوٹ آتے ہیں۔

اور وہ اکیلا رہ جاتا ہے۔

صرف اپنے اعمال کے ساتھ۔

صرف اپنے رب کے سامنے۔

صرف اپنے انجام کے ساتھ۔

پھر انسان کو سمجھ آتی ہے کہ اصل زندگی تو اب شروع ہوئی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

*﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ﴾*

"ہر جان نے موت کا مزہ چکھنا ہے۔"

آج ہم دوسروں کے جنازے اٹھاتے ہیں۔

کل کوئی ہمارا جنازہ اٹھائے گا۔

آج ہم دوسروں کی قبروں پر کھڑے ہوتے ہیں۔

کل لوگ ہماری قبر پر کھڑے ہوں گے۔

آج ہم دوسروں کے لیے دعا کرتے ہیں۔

کل ہمیں دعاؤں کی ضرورت ہوگی۔

کاش انسان موت کو صرف ایک خبر نہ سمجھے بلکہ اپنی آنے والی حقیقت سمجھے۔

کاش قبر میں اترنے سے پہلے اپنے اعمال کا حساب کر لے۔

کاش آخری سانس آنے سے پہلے اپنے رب سے تعلق مضبوط کر لے۔

اے اللہ! ہمیں موت سے پہلے توبہ نصیب فرما، موت کے وقت کلمہ نصیب فرما، قبر میں راحت نصیب فرما، اور قیامت کے دن اپنی رحمت کے سائے میں جگہ عطا فرما۔

آمین یا رب العالمین۔

06/06/2026

═════════════✿.⃢♥️

*افواہ......*
راستے سے گزرتے ایک بوڑھے آدمی کی ایک نوجوان سے تْو تکار ہوگئی۔ تھوڑی دیر بحث مباحثہ کے بعد نوجوان وہاں سے چلا گیا، بوڑھے آدمی کا غصہ اب بھی اپنی جگہ قائم تھا۔ وہ کسی طرح اس سے اس لڑائی کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔ جسمانی طور پہ کمزور ہونے کی وجہ سے وہ نوجوان سے مار پیٹ تو نہیں کر سکتا تھا لیکن اس نے اسکا ایک اور حل نکالا۔۔۔
بوڑھے نے نوجوان کے بارے میں "افواہ" پھیلانا شروع کردی کہ وہ "چور" ہے۔ وہ ہر رہ گزر سے یہی بات کرتا۔۔۔ کئی لوگ اسکی بات کو ان سنا کرتے لیکن چند لوگ یقین بھی کرلیتے تھے۔ کچھ دن گزرے تو پاس کے علاقے میں کسی کی چوری ہوگئی۔ لوگوں کے دلوں میں بوڑھے نے پہلے ہی نوجوان کے خلاف شک ڈال دیا تھا۔ چوری کے الزام میں نوجوان کو پکڑ لیا گیا۔۔ لیکن چند ہی دنوں میں اصل چور کا پتا لگنے پہ اسے کو رہائی مل گئی۔۔
رہا ہوتے ہی اس نے علاقے کے سردار سے بوڑھے آدمی کی شکایت کی جس کی بنا پہ بوڑھے کو پنچائیت میں بلایا گیا۔ بوڑھے نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے صفائی پیش کی۔۔ سردار نے بوڑھے کو حکم دیا کہ اس نے جو جو افواہ نوجوان کے بارے میں پھیلائی ہے۔۔ وہ سب ایک کاغذ پہ لکھے اور پھر اس کاغذ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے چوراہے میں جا کے ہوا میں اڑا دے۔۔ اگلے دن بوڑھے کی قسمت کا فیصلہ ہونا تھا۔
بوڑھا سردار کا حکم بجا لیا۔۔ کاغذ پہ سب کچھ لکھا اور اس کے ٹکڑے ہوا میں اڑا دیے۔ اگلے دن جب پنچائیت لگی ۔۔ سبھی لوگ جمع ہوئے۔ بوڑھے نے رحم کی استدعا کی۔۔ سردار نے کہا کہ اگر وہ سزا سے بچنا چاہتا ہے تو کاغذ کے وہ سارے ٹکڑے جمع کرکے لائے جو کل اس نے ہوا میں اڑا دیے تھے۔ بوڑھا پریشان ہو کے بولا کہ' یہ تو ناممکن سی بات ہے'
سردار نے جواب دیا کہ تم نے نوجوان کے بارے میں اسی طرح ہوا میں "افواہ" پھیلائی۔۔ تمہیں خود بھی اندازہ نہیں ہے کہ تمہاری یہ "افواہ" کہاں کہاں تک پہنچی ہوگی۔۔۔ اگر تم کاغذ کے ٹکڑے واپس نہیں لا سکتے تو وہ "افواہ" کیسے واپس لاؤ گے جس کی وجہ سے نوجوان بدنام ہوا ہے ۔ بوڑھے نے ندامت سے سر جھکا لیا۔۔۔
یہ انگریزی زبان کا ایک چھوٹا سا قصہ ہے۔ جس میں سمجھداروں کے لیے ایک بہت بڑا سبق موجود ہے۔
کئی بار ہم بنا تصدیق کے لوگوں کے بارے میں "افواہیں" پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔ ہماری بنا سوچے سمجھے کی گئی چھوٹی سے بات کسی اور کی زندگی پہ کتنا اثر انداز ہو سکتی ہے اس کا ہمیں علم نہیں......اس لیے بنا کسی تحقیق اور وجہ کے کسی کے بارے میں غلط بات کا پرچار کرنا بہت بڑا گناہ ہے اور اسکے بارے میں ہمارے پیارے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالیٰ نے بہت بڑی وعید سنائی ہے۔۔۔۔۔ ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں کبھی اپنے دوسرے مسلمان بھائی کے بارے میں ایسی کوئی بات نہیں کرنی چاہیئے کہ جس سے اسکی عزت و آبرو پر سوالیہ نشان اٹھیں۔۔۔۔اللہ تعالٰی ہمیں اچھے کاموں پر کاربند رہنے اور سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین۔۔۔۔۔۔

═════════════♥️

Address

Al Khobar Al Shamalia

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ZMB's-kitchen posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to ZMB's-kitchen:

Shortcuts

Share