Kosar Irfan Short

Kosar Irfan Short behind the scenes best page please saport me thanks for follow all the best

08/30/2026

1400 سال پہلے جب اذان سنائی دیتی تھی تو حضرت علیؓ کانپنے لگتے تھے اور رنگ سرخ ہو جاتا تھا، کسی نے پوچھا یہ کیا ماجرا ہے؟

جب اذان ہوتی ہے تو آپ کانپنے لگتے ہیں، آپ نے فرمایا:

“اتنی بڑی ہستی کا بلاؤا آیا ہے، پتہ نہیں اس کا فرض ٹھیک طرح سے ادا کر سکوں گا یا نہیں۔” 🤍
*“کیا یہ پڑھ کر آپکے دل میں نماز کی فکر پیدا ہوئی یا نہیں؟*
جی ہوئی❤️
نہیں ہوئی ❌

Dozakh Kiya ha
08/29/2026

Dozakh Kiya ha

*بچوں کو تنہائی کے گناہ سے کیسے بچائیں*بچوں کو تنہائی، انٹرنیٹ کے غلط استعمال یا دیگر نادانستہ غلطیوں اور گناہوں سے بچان...
08/29/2026

*بچوں کو تنہائی کے گناہ سے کیسے بچائیں*

بچوں کو تنہائی، انٹرنیٹ کے غلط استعمال یا دیگر نادانستہ غلطیوں اور گناہوں سے بچانے کے لیے حکمت، پیار اور مناسب نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ درج ذیل عملی اور تربیتی اقدامات کے ذریعے بچوں کی حفاظت کی جا سکتی ہے:
مثبت تعلق اور کھلی بات چیت
دوستانہ ماحول-:
بچوں کے ساتھ ایسا تعلق قائم کریں کہ وہ دل کی بات بلا خوف بتا سکیں۔ اگر بچہ آپ سے باتیں چھپانے لگے، تو تنہائی کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
وقت دینا:
روزانہ بچوں کے ساتھ معیاری وقت گزاریں، ان کی روزمرہ کی سرگرمیوں اور جذبات کو سنیں تاکہ انہیں اکیلاپن محسوس نہ ہو۔
جدید ٹیکنالوجی اور سکرین کا درست استعمال
سکرین کے لیے مشترکہ جگہ: کمپیوٹر، لیپ ٹاپ یا موبائل استعمال کرنے کے لیے گھر کا ایسا کونہ منتخب کریں جہاں سب کی آمدورفت ہو۔ بند کمرے میں انٹرنیٹ کے استعمال سے گریز کریں۔
پیرنٹل کنٹرولز (Parental Controls):
موبائل اور ویب براؤزر پر مناسب فلٹرز اور پیرنٹل کنٹرولز فعال کریں تاکہ غیر اخلاقی مواد تک ان کی رسائی نہ ہو سکے۔
گیجٹس کے وقت کی حد: رات کو سوتے وقت موبائل اور گیجٹس کو کمرے سے باہر رکھنے کا قانون بنائیں۔
مذہبی و اخلاقی تربیت
خدا ترسی اور احساسِ جوابدہی: بچوں کے دل میں یہ شعور اجاگر کریں کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت اور ہر جگہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔
"خود ضبطی" (Self-Control) کا یہ جذبہ سب سے بڑا محافظ ہے۔
نماز اور اذکار کی پابندی:
بچوں کو باقاعدگی سے نماز اور دعا کی عادت ڈالیں، کیونکہ نماز برائی اور بے حیائی کے کاموں سے روکتی ہے۔
سرگرمیوں میں مصروفیت
مثبت مشغلے:
بچوں کو کھیل کود، کتابوں کے مطالعے، آرٹ يا دیگر تخلیقی کاموں میں مصروف رکھیں۔ فارغ ذہن منفی فکر کی طرف جلدی مائل ہوتا ہے۔
اچھی صحبت:
اس بات پر نظر رکھیں کہ ان کے دوست کون ہیں۔ بچوں کو اچھے اور بااخلاق ساتھیوں کے ساتھ وقت گزارنے کی ترغیب دیں۔
اگر بچہ سنِ بلوغت کے قریب ہے، تو اسے عمر کے تقاضوں کے مطابق اخلاقی حدود اور پاکدامنی کی اہمیت انتہائی شفقت اور حکمت سے سمجھائیں۔

*لکڑہارا اور ٹھکیدار*ایک لکڑہارا نہایت محنتی اور جفاکش تھا۔ ایک ٹھیکیدار نے اسے روزانہ اپنے لیے درخت کاٹنے کے کام پر رکھ...
08/28/2026

*لکڑہارا اور ٹھکیدار*

ایک لکڑہارا نہایت محنتی اور جفاکش تھا۔ ایک ٹھیکیدار نے اسے روزانہ اپنے لیے درخت کاٹنے کے کام پر رکھ لیا۔ پہلے دن اس نے خوب محنت کی اور 18 درخت کاٹنے میں کامیاب رہا۔ ٹھیکیدار نے اس کی کارکردگی کو سراہا اور اگلے دن مزید دل لگا کر کام کرنے کی ترغیب دی۔
اگلے دن اس نے پہلے سے بھی زیادہ محنت کی، لیکن صرف 15 درخت ہی کاٹ سکا۔ اس سے اگلے دن تمام تر کوششوں کے باوجود وہ محض 12 درخت کاٹ پایا۔
ٹھیکیدار نے اسے اپنے پاس بلایا اور پوچھا: "تمہاری کارکردگی میں دن بہ دن کمی کیوں آ رہی ہے؟"
لکڑہارے نے جواب دیا: "میں پورا وقت دے رہا ہوں اور میری محنت میں بھی کوئی کمی نہیں، لیکن اس کے باوجود کاٹے گئے درختوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ وجہ میری سمجھ سے باہر ہے۔"
ٹھیکیدار نے پوچھا: "تم نے آخری بار اپنے کلہاڑے کی دھار کب تیز کی تھی؟"
اس نے جواب دیا: "مجھے اس کا نہ تو خیال آیا اور نہ ہی اس کے لیے وقت مل سکا۔"
ٹھیکیدار نے مسکراتے ہوئے کہا: "بس یہی وجہ ہے! تم نے محنت تو پوری کی، لیکن اپنے کلہاڑے کی دھار پر توجہ نہ دی، جس کی وجہ سے تمہاری کارکردگی مسلسل گرتی گئی۔"
حاصلِ کلام:
انسان کی تربیت، اخلاق اور صلاحیتیں اس کے حقیقی ہتھیار ہیں۔ اگر وہ ان کی نشوونما اور بہتری سے غافل ہو @جائے، تو خواہ زندگی کا کوئی بھی میدان ہو، اس کی کارکردگی زوال پذیر ہونے لگتی@

*درود شریف پڑھنا عظیم البرکت عبادت اور قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔* قران و حدیث میں اس کے بے شمار دینی اور دنیاوی فوائ...
08/28/2026

*درود شریف پڑھنا عظیم البرکت عبادت اور قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔*

قران و حدیث میں اس کے بے شمار دینی اور دنیاوی فوائد بیان کیے گئے ہیں۔
روحانی اور دینی فوائد
اللہ تعالیٰ کی رحمت: ایک بار درود شریف پڑھنے پر اللہ تعالیٰ دس رحمتیں نازل فرماتا ہے، دس گناہ معاف کرتا ہے اور ۱۰ درجات بلند فرماتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کی شفاعت: قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کی شفاعت نصیب ہوگی اور آپ ﷺ کے سب سے قریب وہ شخص ہوگا جو سب سے زیادہ درود پڑھتا ہو۔
فرشتوں کی دعائیں: جب تک انسان درود شریف پڑھتا رہتا ہے، فرشتے اس کے لیے دعائے خیر اور رحمت کرتے رہتے ہیں۔
دعا کی قبولیت: دعا سے پہلے اور بعد میں درود شریف پڑھنا دعا کو بارگاہ الٰہی میں مقبول بناتا ہے۔
دنیاوی اور شخصی فوائد
ہم و غم سے نجات: درود شریف کثرت سے پڑھنے والے کے دنیا و آخرت کے دکھ، پریشانیاں اور فکرمندیاں دور ہو جاتی ہیں۔
رزق میں برکت: اس کی برکت سے روزی اور رزق میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور تنگی دور ہوتی ہے۔
دل کا سکون: درود پڑھنے سے دل کو اطمینان، قلبی سکون اور روحانی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے۔
محتاجی سے حفاظت: مداومت کے ساتھ درود پڑھنا انسان کو غریبی اور محتاجی سے محفوظ رکھتا ہے۔

*میں سائکاٹرسٹ کے پاس بیٹھا تھا . بیگم کے کہنے پہ کئی دن سے ٹائم لیا ہوا تھا اس لئے انہیں ملنے چلے آیا*کیا مسئلہ ہے آپ ک...
08/24/2026

*میں سائکاٹرسٹ کے پاس بیٹھا تھا . بیگم کے کہنے پہ کئی دن سے ٹائم لیا ہوا تھا اس لئے انہیں ملنے چلے آیا*

کیا مسئلہ ہے آپ کو ؟ تفصیل سے زرا بتائیں .
میں آنکھیں بند کئے چت لیٹا ماضی کی طرف سفر کرنے لگا اور میری زبان سے الفاظ پھوٹنے لگے . . .
سب ٹھیک تھا . میں اپنے آفس میں مصروف رہتا اور نوشین یونیورسٹی میں لیکچرار تھی . بچے سکول کالج سے آکر اکیڈمی چلے جاتے اور پیچھے گھر میں صرف اماں اور نوکرانی ہوتی تھیں . اماں کافی بیمار رہنے لگیں تھیں . اکثر ایسا ہوتا کہ اماں کی رات کو طبیعت خراب ہو جاتی اور ہم انہیں لیکر ہسپتال چلے جاتے جہاں چار پانچ گھنٹے کے ٹریٹمنٹ کے بعد ہمیں فارغ کر دیا جاتا . جب یہ اکثر ہونے لگا تو میری اور نوشی کی ورک روٹین خراب ہونے لگی . راتوں کو دیر سے جاگنے کی وجہ سے ہم دونوں متاثر ہو رہے تھے . ان ہی دنوں ایک دن نوشی نے مجھے کہا ...
" سنئے اماں کی وجہ سے ہم دونوں کو خاصی ڈسٹربنس ہو رہی ہے . کیوں نا ہم انہیں اولڈ ایج ہوم چھوڑ آئیں ؟"
یہ سننا تھا کہ میرے تن بدن میں آگ لگ گئی اور غراتے ہوئے میں نے پوچھا کہ " تم نے یہ سوچا بھی کیسے ؟ جانتی بھی ہو ابو کی ڈیتھ کے بعد اماں نے مجھے کیسے پال پوس کر بڑا کیا ."
" آپ بھی نا جزباتی ہو جاتے ہیں . میں تو صرف یہ کہہ رہی ہوں کہ شہر میں بیسیوں اولڈ ایج ہوم ہیں . ہم کسی اچھے سے پرائیویٹ اولڈ ہوم کا انتخاب کریں گے جہاں میڈیکل کی بھی سہولیات ہوں تاکہ خدانخواستہ رات کو تو ہم یہاں ہوتے ہیں اگر دن میں اماں کی طبیعت بگڑ گئی تو کیا کرے گی کام والی نجمہ ؟ آپ ایک دفعہ مسز عباسی نے جو اولڈ ہوم پروجیکٹ شروع کیا ہے وہ دیکھ آئیں ."
" اچھا فی الحال اپنی بکواس بند کرو اور مجھے پڑھنے دو ."
میں نے عینک سیدھی کی اور پھر کتاب پڑھنے میں مصروف ہو گیا لیکن میرا دماغ بار بار مسز عباسی کے بنائے اولڈ ایج ہوم کی طرف جا رہا تھا .
اگلے دن اتوار تھا اور صبح ہی صبح میں گاڑی لیکر شہر کے اس پوش علاقے کی طرف بڑھ گیا جہاں وہ اولڈ ایج ہوم تھا . گاڑی پارک کر کے میں اس شاندار اور پرشکوہ بنگلے کی طرز پہ بنی اس عمارت میں داخل ہو گیا جہاں میرا استقبال پودوں کو پانی دیتی مسز عباسی نے خود کیا . اس دن میں نے وہ ساری عمارت گھوم پھر کر دیکھی جہاں میرے ذہن کے مطابق واقعی ہی بوڑھے لوگوں کے لئے جنت تعمیر کی گئی تھی . صاف ستھرا ماحول , بڑا سا سرسبز لان , پرشکوہ ڈسپنسری جہاں ہر وقت ایک ڈاکٹر طعینات رہتا تھا اور اولڈ ایج ہوم کی اپنی دو اینمبولینسز کے علاوہ وہاں زندگی کی ہر سہولت فراہم کی گئی تھی .
مسز عباسی سے فیس وغیرہ پوچھی تو چودہ طبق روشن ہو گئے . لیکن اماں کے آرام کے لئے مجھے وہ مناسب لگے . اب صرف اماں سے پوچھنا باقی رہ گیا تھا .
رات کو اماں کے کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا وہ بیٹھیں بڑے بڑے لفظوں والا قرآن پڑھ رہیں تھیں . میں کمرے میں داخل ہوا تو انہوں نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا اور مسکرائیں . میں چپ چاپ پہلو میں آکر بیٹھ گیا . اماں کا حال احوال پوچھا اور پھر چُپ ہوگیا . سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ بات کو کیسے شروع کروں . یہ مشکل اماں نے خود ہی آسان کر دی .
" کی ہو یا پتر ؟ پریشان لگ رہے ہو ؟ "
" جی بس آپ کی وجہ سے ہی پریشانی تھی , کیسی طبیعت ہے اب ؟ "
" میں ٹھیک ٹھاک تو ہوں . مجھے کیا ہونا ہے ؟ بس یہ کمبخت مارا بلڈ پریشر اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے ."
" اماں ایک مشورہ کرنا تھا آپ سے ... "
" بول پتر ."
" اماں میں ایک جگہ دیکھ کر آیا ہوں ."
میں نے ہکلاتے ہوئے بولنا شروع کیا .
" وہ آپ کی رہائش کے لئے بہت مناسب ہے . وہاں مجھے یہ پریشانی نہیں ہوگی کہ آپ گھر میں اکیلی ہیں یا آپ کی طبیعت تو ٹھیک ٹھاک ہے . وہاں ڈاکٹر چوبیس گھنٹے موجود رہتا ہے . ماحول بھی صاف ستھرا ہے ."
" اماں کے چہرے پہ رقصاں مسکراہٹ تھم گئی تھی . ایک دفعہ ماتھے پہ بل پڑے اور پھر مسکرا دیں . پتر مجھے بھی کافی دن سے محسوس ہو رہا تھا کہ تم لوگوں کو کافی ڈسٹرب کر رہی ہوں . ٹھیک ہے کوئی مسئلہ نہیں . جیسے میرا لعل خوش ویسے میں خوش . "
اماں نے مسکراتے ہوئے میرا ماتھا چوما اور میں کمرے سے نکل آیا . میرا ضمیر اس بے غیرتی پہ آمادہ نہیں تھا مگر میرے حالات کچھ اور کہتے تھے یا شاید میں حالات کا سہی مقابلہ نا کر سکا اور اماں کو میں اولڈ ایج ہوم چھوڑ آیا .
شروع شروع میں دو تین دن بعد میں چکر لگا لیتا تھا .کبھی کبھی اماں کو گھر بھی لے آتا تھا اور اگلے دن پھر چھوڑ آتا . پھر میرا چکر کم ہوتے گئے . بس اتوار کی اتوار جانے لگا اور پھر کچھ عرصہ پہلے تو حد ہو گئی . کاروبار کے چند مسائل کی وجہ سے میں قریبا ایک مہینہ نا جا سکا . اسی دوران وہ منحوس دن آ گیا ...
وہ اتوار کا دن تھا . مجھے آج ایک آدمی کے ساتھ ضروری کاروباری ملاقات کرنی تھی . ناشتہ کیا اور گاڑی میں آبیٹھا . ابھی سیلف لگایا ہی تھا کہ اٹھارہ سالہ ایان بھی دروازہ کھول کر ساتھ بیٹھ گیا .
" ٍڈیڈ آپ کو پتہ ہے میں گاڑی چلانا مکمل سیکھ گیا ہوں ."
" اچھا ! واہ شاباش میرا بیٹا بڑا ہوگیا ."
" ڈیڈ آپ ہمیشہ ہمیں اسکول چھوڑ کر آتے ہیں . آج میں آپ کو چھوڑ کر آؤں گا ."
میں نے ہنستے ہوئے ایان سے پوچھا ،
" اچھا ، کہاں چھوڑنے کا ارادہ ہے اپنے پاپا کو ؟"
" اولڈ ایج ہوم .... " اس نے کہا .
اور میں ساکت ہوگیا . میرے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی اور ہاتھ سٹیرنگ پہ مضبوطی سے جم گئے . وہ اپنی دھن میں بولتا جا رہا تھا ,
" آج سنڈے ہے اور مجھے پتہ ہے کہ آپ گرینی سے ملنے جا رہے ہیں . میں بھی چلتا ہوں . ساتھ میں آپ کو ڈرائیونگ بھی دکھاتا ہوں اپنی ."
مگر میں بس ایان کے پہلے جملے پہ ہی ساکت ہو چکا تھا . اسکے معصوم جملے میں میرا مستقبل چھپا تھا . میری وہ فصل جو مجھے کاٹنی ہی تھی . بچپن میں پڑھی کہانیاں اور واقعات کی طرح مجھے بھی اسی سلوک کا شکار ہونا تھا . میری آنکھوں سے آنسو ابل ابل کر آ رہے تھے اور میں اپنی اماں سے اپنے اس گھٹیا سلوک سے سخت شرمندہ تھا .
ایان کو بلاوجہ ڈانٹ کر میں نے گاڑی سے نکالا اور تیزی سے گاڑی چلاتا ہوا اماں کو لینے اولڈ ایج ہوم جانے لگا . اولڈ ایج ہوم پہنچا تو دوسری بجلی گری کہ کچھ دیر قبل ہی اماں ہارٹ اٹیک سے فوت ہو چکی تھیں اور میری معافی و توبہ کے سارے دروازے بند ہو گئے .
ڈاکٹر صاحب تب سے میں انتہائی چڑچڑا ہو چکا ہوں . کاروبار میں دل نہیں لگتا . بلاوجہ بچوں اور ملازموں کو ڈانٹتا رہتا ہوں . اکثر چھٹی والے دن سارا سارا دن قبرستان میں اماں کے سرہانے بیٹھ کر ان سے معافی مانگتا رہتا ہوں . نہ گھر میں دلچسپی رہی ، نہ کاروبار میں . اب بتائیں کیا اس بے سکونی , بے آرامی اور اس ضمیر کا کوئی علاج ہے جو جاگا بھی تو بے فیض ؟؟
کافی دیر تک میں چپ رہا لیکن ڈاکٹر کی آواز نہ آئی .
آنکھیں کھولیں , اٹھ کر ڈاکٹر کو دیکھا تو وہ سر نیچے کئے بیٹھا رو رہا تھا .
" ڈاکٹر صاحب ...." میں دوبارہ بولا تو اس نے سر اٹھایا اور آنکھیں صاف کرکے بولا ،
" اسکے علاوہ اس بے سکونی کا کوئی علاج نہیں کہ اللہ سے توبہ استغفار کرتے رہا کرو . نیک کام کرو تاکہ وہ تمہارے ماں باپ کے کام آئیں اور شاید تمہیں سکون مل جائے ."
یہ کہتے ہوئی اسکی ہچکیاں بندھ گئیں اور گلوگیر آواز میں پھر بولا ،
" میں نے ایک ضروری کام سے جانا ہے آپ چلے جائیں ." یہ کہتے ہوے اس نے اپنا موبائل اٹھایا اور ملازم کو بلا کر کلینک بند کرنے کا کہنے لگا .
" ارے ڈاکٹر صاحب اتنی ایمرجنسی میں آپ جا کہا رہے ہیں ؟" میں نے پوچھا تو اس نے مُڑ کر جواب دیا ،
" اولڈ ایج ہوم . . . بابا کو لینے ." یہ کہا اور گھوم کر راہداری میں غائب ہو گیا .
والدین کی عزت کریں ان سے محبت کریں ان کا ہمارا ساتھ صرف چند دنوں کا ہی ہوتا ہے کب کس وقت ہاتھ چھڑا کر وہ لوگ چلے جائیں کچھ پتہ نہیں پھر بعد میں صرف پچھتاوا ہی رہ جاتا ہے اور ایک لفظ " کاش " رہ جاتی ہے ہماری زندگی میں
والدین کی قدر ہم یتیموں سے پوچھو

*سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کچھ مصری مزدور اور ایک انڈین شخص فلیٹ میں ساتھ رہتے تھے*مصری باہم مل کر ہانڈی روٹی کرت...
08/12/2026

*سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کچھ مصری مزدور اور ایک انڈین شخص فلیٹ میں ساتھ رہتے تھے*

مصری باہم مل کر ہانڈی روٹی کرتے،ساتھ پکاتے اور ساتھ کھاتے جب کہ انڈین الگ سے اپنا پکاتا اور کھاتا۔

ایک دن انڈین شخص چھٹی پر انڈیا گیا، ادھر مصریوں کو سالن میں ڈالنے والے مصالحہ جات کی ضرورت پڑی مصریوں نے انڈین شخص کے مصالحہ جات سے ہاتھ صاف کرنا بازار جانے کی نسبت آسان سمجھا۔

چند ماہ بعد انڈین واپس آیا،مصریوں سے ملا اور اپنے کمرے میں داخل ہوا،کچھ دیر بعد وہ گھبرایا ہوا بڑبڑاتے اپنے کمرے سے نکلا مصریوں نے پوچھا کیا ہوا؟ انڈین کہنے لگا "میرا ابا کمرے سے غائب ہے؟"

مصری حیرانگی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور بیک زبان پوچھا کہ تم تو کہتے تھے تیرا ابا کئی سال پہلے فوت ہوگیا ہے؟
انڈین کہنے لگا جی ابا تو کئی سال پہلے فوت ہوگئے تھے مگر
ہم نے اس کی ارتھی جلائی تھی اور ابا کے شریر کی راکھ سے تھوڑی سی میں ایک برتن میں اپنے ساتھ لے آیا تھا اور مصالحہ جات والے ڈبوں کے ساتھ رکھی تھی وہ راکھ غائب ہے۔
مصری پھٹی آنکھوں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھ رہے تھے
"کیا ہم کالی مرچ سمجھ کر اس کا ابا چھڑک چھڑک کر چٹ گئے________😂😀؟

*جس قبر کو ناپنے کے لیے لیٹا تھا، اگلے دن اسی میں دفن ہوگیا…*ہمارے محلے میں ایک ایسا عجیب اور عبرت ناک واقعہ پیش آیا جس ...
08/09/2026

*جس قبر کو ناپنے کے لیے لیٹا تھا، اگلے دن اسی میں دفن ہوگیا…*

ہمارے محلے میں ایک ایسا عجیب اور عبرت ناک واقعہ پیش آیا جس نے دیکھنے اور سننے والوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ موت واقعی انسان سے صرف ایک لمحے کے فاصلے پر ہے۔

محلے میں ایک صاحب کا انتقال ہوگیا۔ تدفین کی تیاری شروع ہوئی اور قبرستان میں ان کے لیے قبر کھودی گئی۔

جب قبر تیار ہوگئی تو گورکن کو خیال آیا کہ قبر کی لمبائی اور چوڑائی درست ہے یا نہیں، اسے کسی ایسے شخص سے چیک کروا لیا جائے جس کا قد و قامت مرحوم کے قریب ہو۔

وہاں ایک ہٹا کٹا، صحت مند اور بالکل ٹھیک ٹھاک آدمی موجود تھا۔

گورکن نے اسے دیکھ کر کہا:

"بھائی! مرحوم تقریباً آپ ہی کے قد اور جسامت کے تھے۔ ذرا قبر میں لیٹ کر دیکھ لیں کہ جگہ مناسب ہے یا کہیں مزید کھودنے کی ضرورت تو نہیں۔"

اس شخص نے شاید اسے ایک معمولی سی بات سمجھا۔

وہ قبر میں اترا…

اور اسی جگہ لیٹ گیا جہاں کچھ دیر بعد ایک میت کو اتارا جانا تھا۔

چند لمحے قبر میں لیٹے رہنے کے بعد اس نے اندازہ کیا اور کہا:

"ہاں، قبر بالکل ٹھیک ہے۔"

وہ باہر نکل آیا۔

اس وقت وہاں موجود کسی انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ قدرت نے اگلے چند گھنٹوں میں کیا لکھ رکھا ہے۔

اسی دوران مرحوم کے آبائی گاؤں سے اطلاع آگئی کہ:

"میت کو یہاں لے آئیں، ہم تدفین گاؤں میں کرنا چاہتے ہیں۔"

چنانچہ جس شخص کے لیے وہ قبر تیار کی گئی تھی، اسے وہاں دفن نہیں کیا گیا۔ میت گاؤں لے جائی گئی اور وہ قبر خالی رہ گئی۔

معاملہ بظاہر ختم ہوگیا۔

لیکن اگلے ہی دن ایسی خبر آئی جس نے سب کو حیران کردیا۔

وہی صحت مند شخص، جو صرف قبر کا سائز جانچنے کے لیے اس میں لیٹا تھا، اچانک دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگیا۔

یہ موت قبر میں لیٹنے کے خوف کی وجہ سے نہیں ہوئی تھی۔ بظاہر ایک طبعی سبب تھا، مگر قدرت کا فیصلہ ایسا تھا کہ جس قبر میں وہ کل محض چند لمحوں کے لیے یہ دیکھنے اترا تھا کہ قبر مناسب ہے یا نہیں…

اگلے دن اسی قبر میں اس کی اپنی میت اتاری گئی۔

سوچیے!

جب وہ شخص قبر کے اندر لیٹا ہوگا تو کیا ایک لمحے کے لیے بھی اس کے ذہن میں آیا ہوگا کہ:

"یہ قبر جسے میں کسی دوسرے انسان کے لیے ناپ رہا ہوں، کل میری اپنی آخری آرام گاہ بن جائے گی؟"

شاید نہیں!

اور یہی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔

ہم جنازوں میں شریک ہوتے ہیں، قبریں بنتی دیکھتے ہیں، دوسروں کو دفن کرتے ہیں اور پھر اپنے گھروں کو واپس آجاتے ہیں۔

ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے موت ہمیشہ کسی دوسرے کے لیے آتی ہے۔

حالانکہ قرآنِ کریم کا اعلان ہے:

كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ

"ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔"
(آلِ عمران: 185)

🌷 قبر پر کسی انسان کا نام پہلے سے نہیں لکھا ہوتا۔

آج جس قبر کے پاس ہم کھڑے ہیں، کل ممکن ہے لوگ ہماری قبر کے پاس کھڑے ہوں۔

آج ہم کسی کا جنازہ اٹھا رہے ہیں، کل ہمارا جنازہ کسی اور کے کندھوں پر ہوسکتا ہے۔

انسان اگلے سال، اگلے مہینے بلکہ اگلے دن کا بھی یقین نہیں رکھتا۔

اس لیے موت کو یاد کرنا مایوسی نہیں، بلکہ اپنی زندگی کو درست کرنے کی دعوت ہے۔

نماز باقی ہے تو اسے سنبھال لیجیے۔
کسی کا حق دینا ہے تو ادا کردیجیے۔
کسی سے معافی مانگنی ہے تو مانگ لیجیے۔
دل میں کسی کے لیے نفرت ہے تو اسے نکال دیجیے۔
اور اپنے رب سے تعلق کمزور ہوگیا ہے تو آج ہی واپس لوٹ آئیے۔

کیونکہ ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے پاس "کل" ہے بھی یا نہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان والی زندگی، سچی توبہ اور ایمان پر خاتمہ نصیب فرمائے۔ آمین۔

08/05/2026

Wow diko madeena agia # #

*دکھاوے کی نیکی اور حقیقی کردار*ایک شخص جب اپنے گھر واپس آیا تو اس کی بیوی نے کہا:"ہمارے غسل خانے کے قریب جو درخت کھڑا ہ...
08/03/2026

*دکھاوے کی نیکی اور حقیقی کردار*

ایک شخص جب اپنے گھر واپس آیا تو اس کی بیوی نے کہا:

"ہمارے غسل خانے کے قریب جو درخت کھڑا ہے، اسے کٹوا دیجیے۔ مجھے اچھا نہیں لگتا کہ نہاتے وقت اس پر بیٹھے پرندے مجھے دیکھیں۔"

شوہر نے یہ بات سنی تو اس کے دل میں بیوی کی بڑی عزت پیدا ہوئی۔ اسے محسوس ہوا کہ اس کی بیوی نہایت باحیا، پاکیزہ اور دیندار خاتون ہے۔ چنانچہ اس نے فوراً وہ درخت کٹوا دیا۔

وقت گزرتا گیا...

ایک دن وہ شخص اچانک کسی کام سے وقت سے پہلے گھر واپس آیا۔ مگر جیسے ہی گھر میں داخل ہوا، اس کی دنیا اندھیر ہو گئی۔

اس نے اپنی بیوی کو ایک غیر مرد کے ساتھ نازیبا حالت میں دیکھا۔

یہ منظر اس کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ اس کا دل ٹوٹ گیا، اعتماد بکھر گیا، اور وہ خاموشی سے اپنا گھر، اپنا شہر سب کچھ چھوڑ کر بغداد چلا گیا۔

بغداد پہنچ کر اس نے نئی زندگی کا آغاز کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے کاروبار میں ایسی برکت عطا فرمائی کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایک کامیاب، خوشحال اور معزز تاجر بن گیا، یہاں تک کہ شہر کے بااثر لوگوں میں اس کا شمار ہونے لگا۔

کچھ عرصے بعد بغداد کے کوتوال کے گھر چوری ہو گئی۔ بہت تلاش کے باوجود چور کا کوئی سراغ نہ ملا۔

انہی دنوں کوتوال کے ہاں ایک بزرگ شیخ کا آنا جانا تھا، جن کی لوگ بڑی عزت کرتے تھے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ چلتے وقت پورا قدم زمین پر نہیں رکھتے تاکہ کہیں کسی چیونٹی یا کیڑے مکوڑے کو نقصان نہ پہنچ جائے۔

ایک دن اس تاجر نے کوتوال سے کہا:

"اگر آپ مجھے امان دیں تو ایک بات عرض کروں؟"

کوتوال نے اجازت دی۔

اس نے کہا:

"میرا خیال ہے کہ آپ کے گھر کی چوری اسی شیخ نے کی ہے۔"

تحقیق ہوئی تو سب حیران رہ گئے۔ چوری شدہ سامان واقعی اسی شیخ کے پاس سے برآمد ہو گیا۔

کوتوال نے حیرت سے پوچھا:

"ہمیں تو کبھی ان پر شک بھی نہ ہوا، مگر تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟"

تاجر نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا:

"مجھے ایک درخت نے یہ سبق سکھا دیا تھا... جو لوگ حد سے زیادہ نیک نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ حقیقت میں بھی اتنے ہی نیک ہوں۔"

🌿 سبق:

انسان کی اصل پہچان اس کے کردار، اس کے معاملات، اس کے اخلاق اور اس کے گھر کے ماحول سے ہوتی ہے، نہ کہ صرف ظاہری نیکی کے اظہار سے۔

دکھاوے کی پارسائی زیادہ دیر قائم نہیں رہتی، لیکن سچا کردار ہر آزمائش میں اپنی گواہی خود دیتا ہے۔
ہیں۔

Address

New York, NY
07302

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kosar Irfan Short posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Kosar Irfan Short:

Shortcuts

Share